دی کلائمیٹ بُک: ’ہم نے اب تک دنیا کو بچانے کے لیے کچھ کیوں نہیں کیا؟‘ (7)
سوال یہ ہے کہ ابتدا میں جب چند لوگ جانتے تھے کہ زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے تو انہوں نے یہ بات سب کو بتائی کیوں نہیں؟ اس سوال کا جواب بہت دلچسپ اور حیران کُن ہے۔ درحقیقت کچھ بڑی کمپنیز نہیں چاہتی تھیں کہ یہ مسئلہ حل ہو کیونکہ یہ کمپنیز فوسل…
ایک جہانِ حیرت۔۔ پرندوں کے گھونسلوں کی کہانی، جنہیں وہ خوابوں کی طرح بُنتے ہیں۔
پرندوں کے گھونسلے… ایک خاموش داستان، جو ہوا کے جھونکوں اور پتوں کی سرسراہٹ میں گونجتی ہے۔ یہ وہ نازک سے ٹھکانے ہیں جو نرمی سے شاخوں کے دامن میں لپٹے، وقت اور فطرت کے حسن سے بُنے جاتے ہیں۔ ان گھونسلوں کی تخلیق میں، ہر تنکے، ہر نرم پھول کی پتّی اور ہر…
دیھ چوھڑ ملیر میں ایجوکیشن سٹی سے مقامی زراعت اور ماحولیاتی تباہی۔ 1
نوٹ: یہ مضمون ان اعتراضات پر مبنی ہے، جو یکم نومبر کو ’ایجوکیشن سٹی (ای سی) پروجیکٹ، ملیر کراچی‘ کے بارے میں ای آئی اے کے حوالے سے منعقدہ نشست میں، ماحولیاتی کارکنوں نے ڈائریکٹر جنرل سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (ایس ای پی اے) کو پیش کیے۔) ہم، دستخط…
ادل بدل (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
”چوہدری جی! لٹیا گیا، کسے نوں منہ دکھانڑ جوگا نہیں رہیا۔۔۔“ واویلا سن کر گہری نیند سویا ہوا زمیندار ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ تیزی سے حویلی کے اندرونی حصے سے باہر کی طرف لپکا۔ نکلتے قد، گھنگریالے بالوں والا خوشرو چوہدری دلاور، جسے ہر کوئی نکا چوہدری کہ کر…
امریکی غلاموں کا آزادی تک کا سفر
معاشرے میں جب کوئی طبقہ یا اقلیت ریاست یا اکثریت کی آمریت میں رہتا ہے تو اس کی ترقی کے راستے بند کر دیے جاتے ہیں اور اسے افلاس کی زندگی گزارنا پڑتی ہے۔ تاریخ میں جب بھی نسل پرستی، فرقہ واریت اور ذات پات کی بنیاد پر کسی جماعت سے تعصب اور نفرت کا…
پچاس سال قبل چرائے گئے مبلغ ساڑھے 37 روپے اور ضمیر کا بوجھ۔۔
یہ صرف ساڑھے سینتیس روپوں کی کہانی نہیں ہے۔۔ اس کہانی میں چرائے گئے ان ساڑھے سینتیس روپوں کا بوجھ بھی ہے اور ضمیر میں کانٹے بن کر چبھتا تاسف اور پچھتاوا بھی، جو بالآخر پچاس سال بعد ایک ایسے فیصلے میں ڈھلتا ہے، جو حیران کن ہے! اس کہانی کا تعلق 1970 کی…
جوگی عقل والے ہوتے ہیں یا خالی داڑھی مونچھ بڑھانی ہوتی ہے؟
عشق میں ناکام لوگوں کو دیکھ کے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جوگی بنے پھرتے ہیں، تن بدن کا ہوش نہیں، لیکن وہ سب وقتی ہوتا ہے، جوگ طبیعت میں ہوتا ہے۔ جوگی ایسا ہے جیسے چوک میں بیٹھا ہو مگر اکیلا، سامان کے ڈھیر لگے ہوں لیکن جانے کی باری آئے تو کندھے پہ…
جنگ اور تباہی۔۔ سال 2025 کے بارے میں بابا وینگا اور نوسٹرا ڈیمس کی پیشنگوئیاں
سال 2025 ہم سے دو ماہ کے فاصلے پر کھڑا ہے۔۔ جاتے سال کا غم اور آتے سال کی امیدیں رواں دواں زندگی کا ایک حصہ ہیں۔ تجسس انسان کو ہمیشہ اکساتا رہتا ہے کہ وہ آنے والے وقت کے بارے میں کسی طرح سے یہ جان لے کہ کیا ہونے والا ہے۔ اس کا…