Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

people-speech-truth
اہم ترینتازہ ترینکالم

نقصان جاننے کے باوجود سچ کیوں منہ سے نکل جاتا ہے؟

By Akhtar Rasool
مارچ 14, 2024 2 Min Read
0

سوال آیا کہ جب پتہ ہو سچ بولنا تکلیف دہ ہوگا، اذیت ہوگی، تب بھی انسان بعض اوقات کیوں حقیقت کا ٹھیکیدار بن کے کھڑا ہو جاتا ہے؟

کیوں نہیں رہتا وہ خوابوں کے محل میں اور کیوں تسلیوں کے جھرمٹ سے ننگے پاؤں نکل کے تپتے صحرا میں دوڑنا شروع کر دیتا ہے؟

اس کا واحد جواب یہ ہے کہ آپ کبھی کبھی خود سے جھوٹ نہیں بول سکتے۔

جھوٹ ایک بہت بڑی طاقت ہے، سہارا ہے، امید ہے، لیکن اس وقت تک کہ اگر جھوٹ کے پار آپ کو ایک عدد روشن کھڑکی نظر آتی رہے۔

کھڑکی بند ہوگی، روشنی غائب ہوگی تو کس آسرے پہ جھوٹ بولیں گے؟

اس وقت آپ سچائی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے کھڑے ہو جاتے ہیں۔۔ کتنی بھی تکلیف دہ ہو، اس کا سامنا کرتے ہیں اور خود کو یقین دلاتے ہیں کہ اب کوئی اور چارہ نہیں تھا۔

تب آپ دل سے چاہتے ہیں کہ ایک بہانہ، ایک آسرا، ایک امید، کچھ بھی۔۔۔ کچھ بھی مل جائے کہ جس پہ آپ جھوٹ کا پہاڑ کھڑا کر سکیں لیکن بنیاد ہی نہ ہو تو پہاڑ کیا، چھوٹی سی دیوار تک ڈھے جاتی ہے۔

کبھی کبھی یوں ہوتا ہے کہ سچ بولنے کے بعد آپ سوچتے ہیں۔۔۔ اگر میں یہ عُذر کر لیتا، اگر میں فلاں بہانہ بنا لیتا، میں تھوڑا جھوٹ سچ ملا لیتا، کسی طرح سچ کا سامنا کرنے میں تھوڑا وقت مل جاتا، کچھ بھی ہوتا لیکن سچ کے بعد یہ جو سناٹا ہے، یہ کھا جانے والا ہے، یہ نہ ہوتا۔۔۔ مگر وہ ہوتا ہے۔

جھوٹ اپنی ذات میں کوئی غلط چیز نہیں ہے۔ جھوٹ وقت سے مہلت لینے کا ایک طریقہ ہے لیکن وہی مہلت اگر خود کے لیے، کسی پیارے کے لیے تکلیف دہ نظر آ رہی ہو تو انسان ہار جاتا ہے۔

سچ شاید لمبی دوڑوں سے پہلے ہار جانے، ہانپ جانے کا نام ہے۔ جھوٹ مصلحت ہے، تازہ دم رہنے کی گنجائش ہے۔

جھوٹ آسان تب نظر آتا ہے، جب کسی دوسرے سے بولنا ہو اور اسے آپ پر یقین ہو اور آپ اس یقین کو کسی خاطر میں نہ لاتے ہوں۔

اگر یقین کا پاس ہے تو جھوٹ نہیں بولا جا سکتا۔ تب سچ ہی نکلتا ہے منہ سے، کائنات کا جابر ترین سچ!

اور شاید ایسے ہی کسی سچ سے گھبرا کے جون ایلیا نے کہا ہو گا؛

ہم نادرہ جویاں کو وہ راہ خوش آئی ہے
جو آبلہ پرور ہے، بے مرہم منزلہا۔۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

HumanLeadersRightsSocietySpeechTruth
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
European-and-Muslims-history
Previous

یورپی سیاح اور اسلامی دنیا

fruit-fly-save-the-life-of-a-brain-cancer-patient
Next

کیا پھلوں پر بھنبھناتی مکھی دماغی کینسر کے مریض کی جان بچانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔۔!؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme