بے نیل مرام (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
آؤ ربڑ اکٹھا کرنے چلیں۔۔ یہ جملہ امازون کے کنارے سال کے چند مخصوص مہینوں میں سننے کو ملتا ہے۔ مرد کھیتی چھوڑ دیتے ہیں، عورتیں گھر کے کام کاج بھول جاتی ہیں اور لڑکیاں پھول چننا موقوف کر دیتی ہیں۔ یہ جملہ ہر ایک کی زبان پر ہوتا ہے۔ یہ جملہ ایک تیوہار، ایک…
من بھید (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
گارشیا، ایک طرف خاموش کھڑا اپنے ناخنوں کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ کارلوس آرام کرسی پر بیٹھا چھت کی طرف دیکھ رہا تھا، ماریا لوئیسا کھڑکی میں بیٹھی کچھ بُن رہی تھی۔ کمرے میں ایک مہیب سناٹا طاری تھا۔کتنی دیر سے اُن تینوں نے کوئی بات نہ کی تھی۔ اُس پورے دن ان…
بے خوشبو عکس (اردو ادب سے منتخب ایک شاہکار علامتی افسانہ)
داستان گو اس کہانی کو یوں سناتا ہے کہ جب میں شہر میں داخل ہوا تو کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی، ہر طرف ایک شور اور ہنگامہ تھا۔ شہر کے کُل مرد، عورتیں، بوڑھے، جوان اور بچے ہاتھوں میں کچھ نہ کچھ پکڑے بجا رہے تھے۔ شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں…
میئر کے کان (پیرووین ادب سے منتخب افسانہ)
سولہویں صدی کے وسط میں پوٹوسی (بولیویا کا شہر) کا شاہی شہر مہم جُو لوگوں کے اجتماعات کے لئے موزوں ترین جگہ تھی۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ چاندی کی کانیں دریافت ہونے کے پانچ سال کے اندر یہاں کی آبادی بیس ہزار نفوس سے بڑھ چکی تھی۔ محاورہ ہے کہ…
سناٹا بولتا ہے (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
ہم سب زمانے کے کاغذ پر دم توڑتے ہوئے وہ حرف ہیں، جنہیں بے معنویت کی دیمک چاٹ گئی ہے۔ وہ ان دم توڑتے ہوئے حرفوں میں ایک ایسا کردار ہے، جس کا کوئی نام نہیں۔ ایک زمانے میں اس کا ایک نام تھا، لیکن مسلسل بولے جانے کے بعد اب اسے اپنے نام کے…
کل خوبصورت تھا (برطانوی ادب سے منتخب افسانہ)
اس نے جھک کر اپنے ٹخنے کو مسلا، جہاں چلتے ہوئے اسے موچ آگئی تھی تاکہ وہ اپنے ٹخنے کی ہڈی کو نہ دیکھ سکے۔ پھر اس نے سیدھے کھڑے ہو کر اپنے اردگرد دیکھا۔ اپنی جیب میں سگریٹ کی ڈبی کو ٹٹول کر اس نے ایک سگریٹ نکالا اور اسے سلگا لیا۔ اس نے…
دشتِ امکاں (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
خزانے والا خواب برسوں پرانا تھا، ایک صبح ناشتہ کرتے ہوئے ماں نے کہا تھا۔۔۔ ’’مجھے یقین ہے کہ اس گھر میں کہیں خزانہ ہے۔‘‘ ان کی خاموشی پر وہ جھجک سی گئی۔۔۔ ’’رات میں نے پھر وہی خواب دیکھا ہے۔‘‘ اس نے پوچھا۔۔۔ ’’کون سا خواب؟‘‘ ’’وہی خزانے والا۔۔۔ میں وہاں…
تلوار کی شکل (ارجنٹینی ادب سے منتخب افسانہ)
اس کے چہرے پر راکھ کے رنگ کا ایک بد نما زخم کا نشان تھا، تقریباً مکمل قوس نما، جس کے ایک طرف کنپٹی اور دوسری طرف رخسار کی ہڈی تھی۔ اس کے اصل نام سے کسی کو کوئی سروکار نہیں تھا۔ ٹاکوریمبو میں سب اسے لاکولوراڈو کا انگریز کہتے تھے۔ کھیتوں کا مالک کارڈوسا…