قصہ گو (برطانوی ادب سے منتخب افسانہ)
یہ ایک گرم سہ پہر تھی۔ریلوے ٹرین اسی حساب سے گرم تھی۔ اگلا اسٹاپ ٹیمپل کومب تقریباً ایک گھنٹے کی دوری پر تھا۔ مسافروں میں ایک چھوٹی لڑکی تھی، ایک اس سے بھی چھوٹی تھی اور ایک چھوٹا لڑکا تھا۔ بچوں کی خالہ ایک کارنر سیٹ پر براجمان تھی۔ اس کے بالمقابل دوسری…
سیمنٹ کے تھیلے سے ملا خط (جاپانی ادب سے منتخب افسانہ)
ماٹ سوڈو یوزو مشین میں ڈالنے کے لیے سیمنٹ کے تھیلے خالی کر رہا تھا۔ اس کے بال اور اوپری ہونٹ گہری سرمئی تہہ میں غرق تھے البتہ اس نے اپنے بقیہ جسم سے سیمنٹ جھاڑ لیا تھا۔ وہ شدت سے چاہ رہا تھا کہ ناک میں انگلی گھسیڑ کر سختیایا ہوا سیمنٹ باہر کھرچ…
ٹائیلٹ (جنوبی افریقی ادب سے منتخب افسانہ)
کسی وقت میں سوچتی مجھے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے اچھی لڑکی بننا چاہیے جو اپنے بڑوں کی ہر بات دھیان سے سنتی ہے۔ میری ماں کی خواہش تھی کہ میں نرس یا اُستانی بنوں۔ لوگ اِن شعبوں کو اچھا سمجھتے۔ مجھے معلوم نہیں لیکن میں کچھ اور کرنا چاہتی تھی۔ میں نے اداکاری کے…
یہ وقت محبت کا نہیں (جدید یونانی ادب سے منتخب افسانہ)
محبت کی اس کہانی نے تب کھِلنا چاہا، جب قرضے کا بحران ہر طرف چھایا ہوا تھا۔ یہ ایک مشکل وقت تھا۔ تناﺅ والے اِس دور میں لٹیرے سرمایہ داروں کے محنت کشوں پر حملے جاری تھے اور یہ ایک ایسا زمانہ تھا کہ سرمایہ فراہم کرنے والے عالمی سرمایہ داروں نے بھی کُھل کر…
حاجی مراد (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
حاجی مراد نے اپنی دکان کے چبوترے سے نیچے چھلانگ لگائی، اپنے لباس کی سلوٹوں کو درست کرتے ہوئے چاندنی رنگ کا کمربند مضبوط کیا، مہندی لگی داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور اپنے شاگرد حسن کو آواز دی۔ پھر دونوں نے مل کر دکان بند کی۔ اس کے بعد حاجی مراد نے اپنی جیب سے…
قیدی کی وردی (مصری ادب سے منتخب افسانہ)
گاڑی کی آمد کا وقت قریب آیا تو ریلوے اسٹیشن زقازیق پر سب سے پہلے پہنچنے والا شخص حجشہ سگرٹ فروش تھا۔ وہ بجا طور پر ریلوے اسٹیشن کو اپنی چلتی منڈی تصور کرتا تھا اور بے مثال پھرتی کے ساتھ پلیٹ فارم پر گھومتے ہوئے اپنی چھوٹی چھوٹی جہاں دیدہ آنکھوں سے گاہکوں…
آخری فرار
کروڑ پتی مجرم کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔۔ اور اس سزا پر عمل درآمد کے لیے اسے شہر سے دور دراز ایک گمنام جزیرے کی جیل میں قید کر دیا گیا تاکہ وہ اپنی دولت یا اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے فیصلے پر اثر انداز نہ ہو سکے۔ کروڑ پتی مجرم…
دوسری عورت (عربی افسانہ)
طلال نے یونیورسٹی کے آخری سمسٹر تک اپنی کزن کے بارے میں نہیں بتایا اور نہ ہی کبھی یہ عندیہ ظاہر کیا کہ وہ اس کے ساتھ شادی کرے گا۔ یہ بات اس نے اس وقت ظاہر کی، جب ہم نتیجے کا انتظار کر رہے تھے اور اس کے بعد عملی زندگی کی کٹھنائیوں کا…