ماں بولی (حصہ ہشتم)
ماں بولی کے اس مرحلے پر ہم برصغیر سے نکل کر اس کے گرد و نواح کی ریاستوں کی طرف دیکھتے ہیں، تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ زبان کو اختیار بنانے یا دبانے کے فیصلے قوموں کی تقدیر کس طرح بدل دیتے ہیں۔ اس حصے میں چین اور افغانستان دو ایسے تجربات ہیں جو ایک…
ماں بولی (حصہ پنجم)
ماں بولی کے اس حصے میں آگے بڑھنے سے پہلے ایک سوال کا جواب سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ قوم، زبان اور شناخت آخر کیوں بنیادی سوال ہے؟ جب ہم ”قوم“ کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اکثر اسے ایک جذباتی یا سیاسی نعرہ سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ قوم دراصل ایک زندہ سماجی…
ایک سمجھدار بلوچ
پیارے ساجد، مجھے آپ کے زیرِ تکمیل ناول کا پہلا حصہ ملا ہے اور جیسا کہ میں نے برسوں پہلے وعدہ کیا تھا، میں آپ کو اپنی رائے دے رہا ہوں۔ اکثر جدوجہد کرنے والے ناول نگاروں کی طرح، آپ اس کام میں دیر کر چکے ہیں۔ مجھے یہ آپ کی موت کے چار سال…
ملیر ایکسپریس وے سے خطرے میں پڑی لائبریری کو ثقافتی ورثے کا درجہ مل گیا۔
ملیر میں ایک لائبریری اور انسٹیٹیوٹ برائے بلوچی زبان و ادب کو ثقافتی ورثہ قرار دے کر محفوظ درجہ دے دیا گیا ہے۔ ملیر ایکسپریس وے کے لیے انٹرچینج کی تعمیر کی راہ ہموار کرنے کے لیے سید ہاشمی ریفرنس لائبریری کو منہدم کیے جانے کا خطرہ تھا۔ تاہم سول سوسائٹی…
چلتن اور گردشِ دوراں (بلوچی ادب سے منتخب افسانہ)
کیا یہ ممکن ہے کہ گزری ہوئی مسرتوں اور شادمانیوں کا دور پھر ایک مرتبہ واپس آ جائے؟ چلتن کا بلند و بالا سلسلہ کوہ کوئٹہ سے تقریباً سولہ میل کے فاصلے پر مغرب کی جانب واقع ہے۔ کوہِ چلتن کے دامن میں ہزارگنجی کی سرسبز و شاداب چراگاہ ہے۔ اس کے دائیں جانب گوند…
بلوچ سردار کو گارڈ کا مشورہ، جسے وہ کبھی نہیں بھول سکے
یہ سولہ سترہ سال پہلے کی بات ہے۔ لاہور کے چند صحافیوں، دانشوروں کی ایک ہفتہ وار محفل میں راجن پور کے معروف سیاست دان اور دریشک بلوچ قبیلے کے سردار نصراللہ خان دریشک بطور مہمان شریک ہوئے۔ سردار نصراللہ دریشک پرانے سیاست دان ہیں، کئی بار رکنِ اسمبلی بن چکے…
بلوچی ادب اور مزاحمت
بلوچی ادب میں مزاحمت کی نوعیت اور اہمیت جاننے کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اُس فلسفۂ حیات کو، جو ایک بلوچ معاشرے میں خون کی طرح گردش کرتا ہے اور جسے بلوچ ’بلوچیت‘ یا ’بلوچی‘ کہا جاتا ہے، سمجھ لیا جائے۔ دراصل بلوچؔ اس کو کہا جاتا ہے جو بلوچیت کے اصولوں…
مزاحمتی بیانیہ پر مبنی بلوچ ادبی روایات
دھرنے کے اختتام اور اسلام آباد سے کوچ کر نے سے پہلے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ ”آپ نے بلوچ عورت کو دہشت گرد قرار دے دیا، اسے اسلام آباد کے زندان میں رکھا۔ آپ نے اپنے اس برتاؤ سے بلوچ قوم کو جو پیغام دیا ہے ہم اس پیغام کو وہاں (بلوچستان)…