کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (آٹھویں اور آخری قسط)
’دُریجی‘ کے قدیم اور خاموش قبرستان سے واپسی کا ارادہ کرتے وقت شام اپنے پراسرار سائے پھیلا رہی تھی۔ تیز اور سرد ہوائیں چل رہی تھیں اور دن بھر کی مسافت کی تھکن جسم پر غالب آ چکی تھی۔ صبح سے ’تؤنگ شریف‘ اور اس کے گردونواح کے کٹھن راستوں میں مسلسل موٹر…
کراچی میں ماحولیاتی توازن بمقابلہ تعمیرات: فوٹوگرافر سلمان بلوچ سے مکالمہ
کراچی کا سب سے بڑا ضلع ملیر صدیوں سے مقامی سندھی اور بلوچ قبائل کا مسکن رہا ہے، جو ایک مشترکہ زرعی معاشرے کے طور پر ماحول پر انحصار کرتے تھے۔ تاہم، تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی اور ترقیاتی منصوبے زمین، پانی اور جنگلی حیات کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔…
خاموشی کی صلیب پر لٹکی ہماری شناخت
اس آرٹ کو دیکھنے کے بعد شاید آپ کے ذہن میں بھی ہزاروں سوالات جنم لیں۔۔ اسی طرح ایک دن ہمیں ایک سیشن میں بلایا گیا تھا، جو ہمارے ہی لئے تھا اور اس سیشن میں ہمیں بہت ساری چیزوں کے بارے میں آگاہی دی گئی تھی۔ اس سیشن میں کافی سارے لوگ ایسے بھی…
ایران آوارگی (قسط-7)
صبح ہم لاشار کے گاؤں کوپچ سے اپنے میزبانوں کی تین گاڑیوں میں ایران شہر کے لیے روانہ ہوئے۔ میزبانوں نے رات کو فون کر کے لاری اڈہ سے ہمارے لیے مشہد کی ٹکٹیں بک کروائیں تھیں۔ کچھ دوستوں کا خیال تھا کہ سیستان و بلوچستان صوبے کے صوبائی ہیڈ کوارٹر زاھدان میں…
ایران آوارگی (قسط-4)
5 جولائی کی دوپہر کو ہم تین گاڑیوں کے قافلے میں ایران شہر پہنچے، راستے میں یہ علاقے آئے: جیکی کور – یہ نوحانی بلوچوں کی اکثریت کا علاقہ ہے۔ تافتان بارڈر سے آنے والے بھی جکی کور سے ہی آگے جاتے ہیں۔ یہاں سے ایک راستہ سرباز کو جاتا ہے۔ سرباز کا علاقہ…
کراچی تاریخ کے آئینے میں (دوسرا حصہ)
پہلی اینگلو افغان جنگ میں شکست کے بعد انگریزوں کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ ان کو احساس تھا کہ اس بدنامی سے پیچھا چھڑانے کے لیے برطانوی حکومت کو ’’سخت اقدامات‘‘ اٹھانا پڑیں گے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ سندھ کے حوالے سے یہاں کے حکمرانوںسے نئے معاہدوں پر…
بلوچستان کا مشرقی کنارہ
رکھنی سے جھوم کر آؤ، یا کشمور کے کنارے سے آہستہ آہستہ بھاگو، یا پھر سندھو دریا کو پار کر آؤ، دو بڑے شہر آپ کے منتظر ہوتے ہیں۔ عرف عام میں ان کو ڈیرہ جات کہا جاتا ہے۔ جو ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے اضلاع پر مشتمل ہے۔ یہاں کی %95 آبادی…