
’دُریجی‘ کے قدیم اور خاموش قبرستان سے واپسی کا ارادہ کرتے وقت شام اپنے پراسرار سائے پھیلا رہی تھی۔ تیز اور سرد ہوائیں چل رہی تھیں اور دن بھر کی مسافت کی تھکن جسم پر غالب آ چکی تھی۔ صبح سے ’تؤنگ شریف‘ اور اس کے گردونواح کے کٹھن راستوں میں مسلسل موٹر سائیکل پر سفر کرنے کے باعث کمر اور جسم بوجھل محسوس ہو رہا تھا، جبکہ ابھی ہمیں رات کی تاریکی میں درجنوں کلومیٹر کا طویل سفر مزید طے کرنا تھا۔
’دُریجی‘ سے ’کَنڈ جھنگ‘ کے راستے پکی سڑک شروع ہوتی ہے۔ سڑک کے دونوں جانب دور دور تک پھیلی چھوٹی انسانی بستیاں، مٹی کے کچے گھروندے اور صدیوں سے خاموش کھڑے پہاڑ نظر آتے ہیں۔ نور احمد موٹر سائیکل تقریباً ساٹھ سے ستر کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلا رہا تھا۔ تیز ہوا کے تھپیڑوں سے بچنے کے لیے میں نے رومال اور چادر سے خود کو اچھی طرح ڈھانپ رکھا تھا، مگر ہوا کی سرد لہریں مسلسل جسم میں سرایت کر رہی تھیں۔ انسانی جسم کی برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے؛ مجھے اکثر تیز ہوا میں طویل سفر کرتے وقت بائیں کان میں ہلکا سا درد محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس کی سائنسی وجہ کیا ہے، یہ تو شاید طب کے ماہرین ہی بہتر جانتے ہوں گے۔
یہاں نور احمد کے بارے میں ایک بات کا تذکرہ نہ کرنا ناانصافی ہوگی۔ جیسا کہ میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں، اسے موٹر سائیکل چلانے پر غیر معمولی اور حیرت انگیز مہارت حاصل ہے۔ اگر پیچھے بیٹھنے والا شخص خود موٹر سائیکل چلانا نہ جانتا ہو، تو وہ ایک سحر انگیز اطمینان کے ساتھ اس سفر کا لطف اٹھاتا ہے، لیکن جو شخص خود بائیک چلانے کا تجربہ رکھتا ہو، وہ نور احمد کی رفتار، توازن اور مہارت دیکھ کر بیک وقت حیران بھی ہوتا ہے اور حد درجہ محتاط بھی۔
راستے میں وہی خاموش پہاڑ، دور تک پھیلی ہوئی اداس وادیاں، کہیں مٹی کے تنہا گھر اور کہیں ویران میدان نگاہوں کے سامنے سے گزرتے رہے۔ ہم امید کر رہے تھے کہ مغرب کے سائے گہرے ہونے سے پہلے گھر پہنچ جائیں گے، لیکن منزل ابھی دور اور سفر طویل تھا۔
ملیر اور بلوچستان کی سرحدی پٹی کے قریب واقع ’حاجی کارا اسٹاپ‘ پر ہم کچھ دیر کے لیے رکے۔ یہاں ایک روایتی ڈرائیور ہوٹل ہے جہاں بلوچستان کے پہاڑوں سے سنگِ مرمر (ماربل) لے کر آنے والے بھاری ٹرک اکثر قیام کرتے ہیں۔ میں نے تھکن سے چُور ہو کر کچھ دیر کے لیے وہاں بچھی ایک چارپائی پر پیٹھ سیدھی کی، کیونکہ پرانی موٹر سائیکل کے کمزور شاکس کی وجہ سے میری کمر کا درد شدت اختیار کر چکا تھا۔ وہاں گرما گرم چائے کی چسکیاں لینے کے بعد، ہم اس خطے کے ایک اور عظیم تاریخی اور تہذیبی شاہکار کی جانب روانہ ہوئے۔
’حاجی کارا‘ سے کچھ ہی فاصلے پر بلوچستان کے علاقے دُریجی میں واقع ’ہنیدان قبرستان‘ کی تاریخی و تہذیبی ورثے کی سائٹ موجود ہے۔ یہ صرف ایک قبرستان نہیں، بلکہ سندھ اور بلوچستان کے علاقوں کے مخصوص اور قابلِ ذکر تدفینی فنِ تعمیر (Funerary Architecture) کا ایک زندہ ثبوت ہے۔
ان تاریخی مقبروں کو دیکھ کر دل عجیب سی اداسی اور سحر میں ڈوب گیا۔ یہ مقبرے بنیادی طور پر مغل دور میں، پندرہویں اور اٹھارویں صدی کے درمیان تعمیر کیے گئے تھے، جو یہاں کے نمایاں مقامی قبائل، بالخصوص برفت، جوکھیو اور بلوچ خاندانوں کا آبائی قبرستان ہے۔ ان قبروں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا طرزِ تعمیر اسلامی، راجپوت اور مقامی قبائلی اثرات کا ایک بے مثال اور منفرد امتزاج پیش کرتا ہے۔
’چوکنڈی‘ کے لغوی معنی ”چار کونوں والا“ ہے، جو ان قبروں کی چار اطراف والی، سیڑھی نما اہرام جیسی خوبصورت ساخت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ مقبرے زردی مائل ریتیلے پتھر (Yellow Sandstone) کی سلیبوں سے بنائے گئے ہیں، جو اکثر ٹھٹہ کے تاریخی علاقے جنگشاہی سے نکالے جاتے تھے، اور کمالِ فن یہ ہے کہ انہیں بغیر کسی گارے یا سیمنٹ کے، صرف تراش خراش کے ذریعے ایک دوسرے پر جوڑ کر رکھا گیا ہے۔
ان پتھروں پر کی گئی باریک اور نفیس نقش و نگاری میت کی جنس کی شناخت کرتی ہے۔ مردوں کی قبریں عام طور پر مایہ ناز جنگجوؤں، گھوڑوں، اور ان کے ہتھیاروں جیسے تلوار، تیر کمان اور ڈھال کے نقش و نگار سے مزین ہیں، اور سرہانے کی جانب پتھر پر ایک خوبصورت ”پگڑی“ نما ابھار بنایا گیا ہے۔
عورتوں کی قبروں پر ہار، چوڑیوں، پازیب اور انگوٹھیوں جیسے روایتی زیورات کی نازک اور انتہائی خوبصورت نقش و نگاری کی گئی ہے۔ (1)
پتھر پر کی گئی یہ کاریگری اتنی نفیس اور ملائم ہے کہ دیکھ کر گمان ہوتا ہے جیسے پتھر نہیں بلکہ لکڑی پر تراشی کی گئی ہو۔ ان میں بنے پیچیدہ ہندسی (Geometric) اور پھولوں کے نمونے آج بھی ہمارے علاقائی کپڑوں کی کڑھائی میں پائے جاتے ہیں۔
دہائیوں کے سرد و گرم اور موسموں کی بے رحمی کے باعث بعض قبریں ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں، مگر جو سلامت تھیں، وہ اپنے وقت کے عظیم سنگ تراشوں کے فن کی گواہی دے رہی تھیں۔ دس دس فٹ بلند یہ مقبرے دیکھ کر حیرت بھی ہوتی ہے اور عقیدت بھی، کہ ہمارے آباؤ اجداد نے کس قدر محبت، محنت اور مہارت سے اپنے پیاروں کی یہ آخری آرام گاہیں تعمیر کی ہوں گی۔
اس تاریخی اور خاموش مقام پر کھڑے ہو کر معروف محقق اور ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر کلیم لاشاری کی یاد آنا فطری تھا۔ تقریباً پینتیس برس قبل انہوں نے اس ’ہنیدان‘ قبرستان سمیت لسبیلہ کے متعدد تاریخی مقامات پر انتھک تحقیقی کام کیا تھا۔ ان کی ایک اہم ترین کتاب میں لسبیلہ کے ۲۷ تاریخی و ثقافتی ورثہ جاتی مقامات کی دائرہ نما نشاندہی اور تفصیل موجود ہے (2)، جو اس خطے کی تہذیبی اہمیت کو دنیا کے سامنے اجاگر کرتی ہے۔ چوکنڈی طرز کی قبروں اور قدیم تدفینی روایات کے حوالے سے ان کی تحقیقات آج بھی تاریخ کے طالب علموں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
اگرچہ ڈاکٹر کلیم لاشاری نے سندھ کے بے شمار آثارِ قدیمہ پر گراں قدر کام کیا ہے، لیکن چونکہ ہمارا یہ سفر بلوچستان کی سرزمین پر جاری تھا اور یہ قبرستان بھی لسبیلہ کے تاریخی ورثے کا حصہ ہے، اس لیے یہاں ان کی لسبیلہ سے متعلق تحقیقی خدمات کا ذکر کرنا میں خود پر قرض سمجھتا ہوں۔ اسی طرح، کراچی اور اس کے گردونواح کے تاریخی ورثے کو دستاویزی شکل دینے والے ہمارے پیارے محقق گل حسن کلمتی کی خدمات بھی ناقابلِ فراموش ہیں۔ ان کی تحریریں آج بھی ہمیں ان گمنام راستوں پر بھٹکنے اور اپنی تاریخ کو سمجھنے کا حوصلہ دیتی ہیں۔
قبروں کے قریب کچھ خاندان اپنے پیاروں کے لیے فاتحہ خوانی اور زیارت میں مصروف تھے۔ وہاں ایک قبر پر پیر کا مزار بھی قائم کر دیا گیا تھا۔ یہ ہمارے سماجی رویوں اور روایات کا حصہ ہے، مگر دل میں ایک ہوک سی اٹھی کہ کاش ہماری عوام اس تاریخی ورثے کی اصل حیثیت، قدامت اور اس کے تحفظ کی اہمیت سے واقف ہو پاتی۔
ہم مزید آگے بڑھے تو پہاڑی علاقوں میں داخل ہوئے جہاں زمین پر بڑے بڑے، عجیب و غریب گول پتھر بکھرے ہوئے تھے۔ نور احمد نے سائیں رخمان گل پالاری اور گل حسن کلمتی کی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بعض مقامی روایات کے مطابق لوگ انہیں قدیم زمانے کے منجنیق توپ کے گولے قرار دیتے ہیں۔ مجھے یاد آیا کہ گل حسن کلمتی نے اسی نوعیت کے چند گول پتھر اپنی کمیونٹی لائبریری میں بھی محفوظ کر رکھے تھے۔
پچھلے مہینے ڈاکٹر کلیم لاشاری سے ان کے آفس میں دوستوں کے ہمراہ ایک نشست میں اس موضوع پر گفتگو ہوئی تھی؛ ان کا سائنسی خیال تھا کہ یہ کسی انسانی فیکٹری کی پیداوار نہیں، بلکہ لاکھوں سال کے قدرتی جغرافیائی عمل اور پانی کے بہاؤ کے نتیجے میں بننے والے پتھر (Concretions) ہیں۔ جب ہم نے پہاڑوں کے دامن میں اور چٹانوں کے درمیان اسی طرح کے بے شمار گول پتھر بکھرے دیکھے، تو ڈاکٹر صاحب کی بات زیادہ قرینِ قیاس محسوس ہوئی۔ تاہم، اس حوالے سے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے لیے اب بھی مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔
اس پورے خطے کی مٹی میں تاریخ کے انمول صفحات بکھرے پڑے ہیں۔ ’مہر‘ / ’مہیر‘ جبل کے قدیم آثار، پراسرار غاریں، مٹھے پانی کے چشمے، چوکنڈی طرز کے گمنام قبرستان، وادیوں میں دفن پرانی قبریں، ’وانڑ کنڈ‘ کے عظیم الجثہ پتھر، ’موئیدان‘ اور ’کھار سینٹر‘ کے تاریخی مقامات، یہ سب ہماری دھرتی کی تاریخ کے وہ خاموش باب ہیں جنہیں وقت کی دھول دھندلا رہی ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ان میں سے بیشتر مقامات پر نہ تو کوئی جدید تحقیق ہو رہی ہے اور نہ ہی انہیں سرکاری سطح پر کوئی تحفظ حاصل ہے۔
سورج اب آہستہ آہستہ مغرب کے بلند پہاڑوں کے پیچھے روپوش ہو رہا تھا اور اس کی سنہری، الوداعی کرنیں اداس وادیوں پر اپنا آخری لمس چھوڑ رہی تھیں۔ ہم واپسی کے سفر پر گامزن تھے، مگر میرا دل بار بار مڑ کر انہی تاریخی قبروں، سنگلاخ پہاڑوں اور خاموش آثار کی طرف دیکھ رہا تھا، جیسے وہاں میرا کچھ چھوٹ گیا ہو۔ یہ صرف پتھر نہیں ہیں، یہ ہماری اجتماعی یادداشت کے اوراق ہیں جو ہم سے گفتگو کرتے ہیں۔
ایک ہی دن میں موٹر سائیکل پر تقریباً تین سو کلومیٹر کا کٹھن سفر طے کرنے کے باوجود ذہن تھکا ہوا نہیں تھا، بلکہ نئی یادوں، گہرے مشاہدات اور تاریخ کے ان انمول نقوش سے بھرا ہوا تھا جو اس سفر کق اصل حاصل تھے۔
رات کے سائے گہرے ہونے تک ہم گڈاپ کی حدود میں پہنچ گئے۔ تھکن اس حد تک جسم پر حاوی ہو چکی تھی کہ بھوک کا احساس بھی مٹ چکا تھا۔ دوستوں نے ایک مقامی ہوٹل پر رات کے کھانے کا ارادہ کیا، مگر میں نے معذرت کی اور سیدھا گھر پہنچ کر آرام کرنے کو ترجیح دی۔ پاچران، مول، بال، ریک کرچات سے تؤنگ شریف،
دُریجی اور ہنیدان کے اس سفر کی پہلی اقساط آپ تک پہلے ہی پہنچ چکی ہیں، اور یہ اس سلسلے کی آخری کڑی ہے۔ سفر تو اپنے اختتام کو پہنچ گیا، راستے ختم ہو گئے، مگر پہاڑوں کی وہ گہری خاموشی، قدیم قبروں کی پھیلی اداسی، اور ہمارے تاریخی ورثے کی بے بسی آج بھی میرے ذہن کے نہاں خانوں میں گونجتی ہے۔ شاید یہی کسی سچے مسافر کی اصل پونجی ہوتی ہے؛ سفر ختم ہو جاتے ہیں، مگر ان سے جڑے سوالات، یادیں اور احساسات انسان کے اندر ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
ختم شد
حوالہ جات
1. ”قبرستان میں موجود چوکھنڈی طرز کے مقبرے۔“
غلامی نبی لہڑی صاحب (فیس بک پوسٹ)
2. ”چوکنڈی اور قبائلی قبریں“ لاشاری کلیم اللہ
____________________________
-
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (قسط اوّل)
-
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (قسط دوم)
-
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (تیسری قسط)
-
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (چوتھی قسط)
-
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (پانچویں قسط)
-
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (چھٹی قسط)
-
کھیرتھر کا سفر : کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (ساتویں قسط)




