ناقدری کا شکوہ، نذیر خضداری نے بلوچستان کیوں چھوڑا؟
بلوچستان اپنی منفرد اور متنوع ثقافت کے حوالے سے ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔ اس ثقافت کا ایک خوبصورت رنگ بلوچی موسیقی ہے، جس میں خاص طور پر لوک فنکار ید طولٰی رکھتے ہیں۔ لیکن اس پسماندہ صوبے کی طرح بلوچی موسیقی اور اس سے جڑے فنکار بھی ناقدری کا شکوہ کرتے…
گوادر کی ’دوچ گر‘ خواتین اور ان کا ہنر، روایت سے روزگار تک
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کی رہائشی پینتیس سالہ آسیہ بی بی کے شوہر کے بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد کام کرنے کے قابل نہیں رہے، تو گھر والوں کی ذمہ داری خود اُن پر پڑی آسیہ بی بی نے بچپن میں سیکھتے ہوئے دوچ نامی بلوچی کشیدہ کاری کے ہنر کو روزگار کا…
کراچی کا ایک خاموش رضاکار: غلام رسول کلمتی
ملیر میں نیشنل ہائی وے پر واقع انور بلوچ ہوٹل سے مشرق کی طرف جاتے ہوئے چند قدم آگے سید ہاشمی ریفرنس کتابجاہ (لائبریری) ہے۔ لائبریری میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے آپ کی ملاقات ہر وقت کتابیں پڑھنے اور لکھنے میں مگن ایک سفید ریش شخص سے ہوگی۔ یہی شخص غلام رسول…
پہلی بلوچ گلوکارہ ایوا بی کی تصویر ’ٹائمز اسکوائر‘ پر آویزاں
پاکستان کی پہلی باحجاب ریپر اور بلوچ گلوکارہ ایوا بی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے میوزک اسٹریمنگ ویب سائٹ ’اسپاٹی فائے‘ نے ان کی تصویر امریکا کے معروف ٹائمز اسکوائر پر آویزاں کی ہے یاد رہے کہ ایوا بی سے قبل اسپاٹی فائے سات پاکستانی خواتین گلوکاراؤں کی…
’ماڑی‘ جو انگریزوں کی مخصوص زبان کی وجہ سے ’مری‘ بن گیا
حسن کا تیرے اُجالا تھا اَوَدھ کی شام میں دل کشی تیری تھی ساری لکھنؤ کے نام میں کبھی ‘شامِ اَوَدھ’ مشرقی تہذیب کا استعارہ اور ‘لکھنؤ’ اس تہذیب کا گہوارہ تھا۔ جس دور میں مغل اقتدار کا سورج گہنایا، اُس عہد میں اَوَدھ کا آفتابِ اقبال…
رفتگان ملیر: شاعرِ ملیر ملا داد رحمٰن
مادر ملیر صرف اپنی سرسبزی و شادابی کے حوالے سے ہی جانی پہنچانی نہیں جاتی، بلکہ ملیر نے ایسے ذی فہم و ذی شعور بیٹوں کو بھی پیدا کیا ہے، جنہوں نے نہ صرف اپنی اقدار اور تہذیب و تمدن کو عزیز رکھتے ہوئے زندگی کی گوناگوں ضرورتوں کو احسن طریقے سے پورا کیا ہے،…
بلوچستان کا مشرقی کنارہ
رکھنی سے جھوم کر آؤ، یا کشمور کے کنارے سے آہستہ آہستہ بھاگو، یا پھر سندھو دریا کو پار کر آؤ، دو بڑے شہر آپ کے منتظر ہوتے ہیں۔ عرف عام میں ان کو ڈیرہ جات کہا جاتا ہے۔ جو ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے اضلاع پر مشتمل ہے۔ یہاں کی %95 آبادی…
انور اقبال؛ بلوچی زبان کی پہلی فلم کا ہیرو، جس کی ریلیز میں بیالیس برس لگے
کراچی : بلوچی زبان کی پہلی فلم بنانے والے اور اس کے ہیرو انور اقبال کے ساتھ اس فلم کی کاسٹ میں شامل سینئر صحافی نادر شاہ عادل نے کہا ہے کہ انور اقبال نے بلوچی زبان میں فلم سازی کا آغاز کرنے کی تاریخ رقم کرنا چاہی تھی، البتہ اس فلم پر ہونے والا…