کھیت میں پیدا ہونے والا بچہ (ترک ادب سے منتخب افسانہ)
کپاس کے کھیت میں حدِ نظر پندرہ بیس مزدور مرد اور عورتیں دکھائی دے رہی تھیں۔ وہ کپاس کے تخم دار بوٹوں کے اطراف میں اُگ آنے والے جنگلی پودوں اور جھاڑیوں کو صاف کررہے تھے۔ ساتھ ہی ساتھ فصل بھی کاٹ رہے تھے۔ درجۂْ حرارت تیز دھوپ میں 41 سینٹی گریڈ تک پہنچا…
سوا سیر گیہوں (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
کسی گاؤں میں شنکر نامی ایک کسان رہتا تھا۔ سیدھا سادا غریب آدمی تھا۔ اپنے کام سے کام، نہ کسی کے لینے میں نہ کسی کے دینے میں۔۔ چھکّا پنجا نہ جانتا تھا۔ چھل کپٹ کی اسے چھوت بھی نہ لگی تھی۔ ٹھگے جانے کی فکر نہ تھی۔ ودّیا نہ جانتا تھا۔ کھانا ملا تو…
لوہے کا بکسا اور بندوق (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
تنہائی میں ڈوبتے، ابھرتے مارکُش کا پُلِسیا لائن میں یہ تیسرا سال تھا۔ تین سال، جیسے تین پوری صدیاں، لوہے کے بکسے اور بندوق کے ساتھ۔۔ لوہے کے بکسے میں بند زندگی گھسٹتی جا رہی تھی۔ یہ گھسٹنا اتنی دور تک نہیں ہوتا، اگر مارکُش کے والد جنگل چھوڑ کر مزدوری کے…
شکاری (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
مرطوب، حبس آلود دوپہر۔ آسمان پر بادل کی کترن تک نہیں۔۔۔ دھوپ میں پکی ہوئی گھاس تھکی ماندی، مایوس دکھائی دے رہی ہے، جیسے اگر بارش ہو بھی جائے تب بھی یہ کبھی سرسبز نہیں ہو سکے گی۔ جنگل خاموش، ساکت کھڑا ہے، جیسے درختوں کے اوپر سے کسی کی راہ تک رہا ہے، یا…
حصارِ تنہائی (موزمبیق کے ادب سے منتخب افسانہ)
ڈونا برتا گارڈن میں ایک بنچ ہے، یا پھر یوں کہنا چاہیے کہ ایک ہی بنچ باقی رہ گیا ہے۔ بقیہ تمام کو وہاں سے اکھاڑ لیا گیا ہے۔ ان کے تختے جلانے کے لیے استعمال کیے جا چکے ہیں۔ اس آخری بنچ پر ایک بوڑھا رہتا ہے۔ ہر رات وہ بوڑھا اور بنچ اس…
ٹوٹی چھت کا مکان (افسانہ)
وہ گھر میں اکیلا اور بیزار بیٹھا تھا۔ کبھی کبھی تنہا رہنا کتنا اذیت ناک ہوتا ہے۔ اکیلے بیٹھے بلاوجہ گھر کی ایک ایک چیز کو گھورتے رہنا۔۔ سوچنے کے لیے کوئی خیال یا موضوع بھی تو نہیں ہے کہ اسی کے بارے میں غور کیا جائے۔ عجیب و غریب خیالات و موضوعات ذہن میں…
خزاں گزیدہ (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
قیدی کو اس حالت میں لایا گیا کہ گلے میں طوق اور پاﺅں میں زنجیریں، زنجیروں کی چھبن سے پاﺅں جگہ جگہ سے زخمی ہو گئے تھے اور ان سے خون رس رہا تھا۔ طوق کے دباﺅ سے گردن کے گرد سرخ حلقہ بن گیا تھا، جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا تھا۔ قیدی طوق…
میئر کے کان (پیرووین ادب سے منتخب افسانہ)
سولہویں صدی کے وسط میں پوٹوسی (بولیویا کا شہر) کا شاہی شہر مہم جُو لوگوں کے اجتماعات کے لئے موزوں ترین جگہ تھی۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ چاندی کی کانیں دریافت ہونے کے پانچ سال کے اندر یہاں کی آبادی بیس ہزار نفوس سے بڑھ چکی تھی۔ محاورہ ہے کہ…