Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

ادباہم ترینتازہ ترین

خزاں گزیدہ (اردو ادب سے منتخب افسانہ)

By Akhtar Rasool
اکتوبر 29, 2023 4 Min Read
0

قیدی کو اس حالت میں لایا گیا کہ گلے میں طوق اور پاﺅں میں زنجیریں، زنجیروں کی چھبن سے پاﺅں جگہ جگہ سے زخمی ہو گئے تھے اور ان سے خون رس رہا تھا۔ طوق کے دباﺅ سے گردن کے گرد سرخ حلقہ بن گیا تھا، جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا تھا۔

قیدی طوق کے بوجھ اور پاﺅں کی زنجیروں کی وجہ سے سیدھا کھڑا نہیں ہو سکتا تھا۔ نیم وا کمر جھکائے جھکائے اس نے میز کے پیچھے بیٹھے شخص کو خالی آنکھوں سے دیکھا، نہ کوئی سوال نہ کوئی تمنا۔۔

میز کے پیچھے سے آواز آئی، ”معلوم ہے کہ تمہیں موت کی سزا ہو گئی ہے؟“

قیدی نے اثبات میں سر ہلانے کی کوشش کی، لیکن طوق کی بندش سے درد کی ایک لہر پورے جسم میں دوڑ گئی۔

قیدی نے ہونٹوں پر زبان پھیری، ذرا تری ہوئی تو آواز نکلی۔۔۔ ”ہاں۔“

کچھ دیر خاموشی رہی، پھر قیدی بولا، ”لیکن میری جان میرے جسم میں نہیں۔“

میز کے پیچھے سے گھورتی آنکھوں نے سوال کیا، ”تو کہاں ہے؟“

”اس طوطے میں، جو یہاں سے ہزار میل دور ایک کچے صحن میں پیپل کے پیڑ کی شاخ سے لٹکے ہوئے پنجرے میں ہے۔“

حکم ہوا ”پنجرے کو تلاش کیا جائے۔“

قیدی کو دوبارہ اس چھوٹی سی کوٹھری میں بند کر دیا گیا، جس کی دیواریں اور چھت اسے دبا دبا کر ریزہ ریزہ کرنے کی منتظر تھیں۔ نیم روشنی والی اس کوٹھری میں اتنی جگہ بھی نہیں تھی کہ قیدی ٹانگیں پھیلا کر بیٹھ سکے۔ گردن سیدھی کرتا تو ٹانگوں پر دباﺅ پڑتا، ٹانگیں پھیلانے کی کوشش کرتا تو طوق گردن کو دبانے لگتا۔ ایک زنگ آلود دروازہ اور بہت اوپر چھوٹا سا روشن دان، جس سے روشنی رینگ رینگ کر اندر آتی تھی۔

’طوطا مل گیا تو۔۔۔۔‘ اکڑوں بیٹھے بیٹھے پتھر ہوئے قیدی نے سوچا۔۔

’لیکن طوطا انہیں نہیں مل سکتا۔‘ سوکھے پپڑی زدہ ہونٹوں پر جو کچھ آیا، اسے مسکراہٹ تو نہیں کہا جا سکتا۔

’مرنا یا نہ مرنا تو اب بے معنی ہے۔‘ اس نے سوچا اور پھر خود سے پوچھا۔۔۔ ’لیکن اب تک یہ تو بتایا ہی نہیں گیا کہ میرا جرم کیا ہے؟‘

پوچھا، ”میرا قصور کیا ہے؟“

میز کے پیچھے گھورتی آنکھوں میں سرخ ڈورے ابھر آئے، ”یہ بتانا ہمارا کام نہیں۔“

ہزاروں میل دور، کچے صحن میں پیپل کی ہری شاخ کے ساتھ لٹکے پنجرے میں بند طوطے کی تلاش جاری تھی۔ چند دنوں میں کئی پنجرے جمع ہو گئے۔ انہیں پتھر کی دیوار کے ساتھ ترتیب سے رکھ دیا گیا۔ قیدی کو لایا گیا۔

میز کے پیچھے سے گھورتی غضبناک آنکھوں نے پوچھا۔۔ ”کس طوطے میں تمہاری جان ہے؟“

طوق کے دباﺅ سے دبی گردن کو گھماتے ہوئے قیدی نے ایک ایک پنجرے کو دیکھا، تادیر چپ رہا، پھر بولا۔۔۔ ”ان میں سے کسی میں بھی نہیں۔“

تاسف ہوا کہ ان کی محنت اکارت گئی۔ تھوڑی سی خوشی بھی کہ اصل طوطا انہیں نہیں مل سکا۔

حکم ہوا۔۔۔ ”ان سارے طوطوں کو ما ردو اور اصل طوطے کو تلاش کرو۔“

قیدی نے کہا، ”لیکن مجھے میرا قصور تو بتا دو۔“

”یہ ہمارا کام نہیں“۔ آواز کی گرج میں غصے کے ساتھ ناکامی کی نمی بھی شامل تھی۔“

قیدی کو اسی نیم تاریک چھوٹی سی کوٹھری میں لایا گیا، جہاں ٹانگیں پھیلانے کی گنجائش ہی نہیں تھی۔

اکڑوں بیٹھے، طوق سے گردن کی اینٹھن کو محسوس کرتے قیدی نے سوچا، ’کبھی نہ کبھی تو اصل طوطا مل ہی جائے گا، آخر کب تک؟‘

چند روز بعد قیدی کو باہر نکالا گیا۔ سنگی دیوار کے ساتھ پنجروں کی قطاریں لگی تھیں۔ ان میں بند کچھ طوطے مضطرب تھے۔ کچھ ُپرسکون۔

حکم ہوا۔۔۔ ”ایک ایک کر کے سب کی گردنیں مڑوڑ دو۔“

تڑپتے طوطوں کے درمیان کھڑے قیدی کے پاﺅں کی زنجیروں نے اب اس کے ٹخنوں کا گوشت ادھیڑ دیا تھا اور طوق نے گردن کے گرد بنے سرخ حلقے کو زخم میں بدل دیا تھا، نیم مردہ آواز میں پوچھا۔۔۔ ”لیکن میرا قصور تو بتایا جائے؟“

گرجدار آواز میں بےبسی تھی۔۔۔ ”یہ ہماری ذمہ داری نہیں۔“

ایک ایک کر کے سب طوطے گردنیں تڑوا بیٹھے تو قیدی کو دوبارہ اس نیم تاریک کوٹھری میں، جسے کوٹھری کہنا مذاق تھا، بھیج دیا گیا۔

’شائد اس بار اصل طوطا پکڑا جائے۔۔۔‘ قیدی نے سوچا۔ ٹانگیں پھیلانے کی کوشش کی تو درد سے بلبلا اٹھا۔ گردن سوکھی لکڑی کی طرح اکڑ گئی تھی۔

’شائد ٹوٹنے ہی والی ہے۔‘ اس نے سوچا۔ ’اور طوطا۔۔۔۔‘

چند دن بعد قلعے کے تہہ خانے میں سنگی دیوار کے ساتھ کئی پنجرے اور ان پنجروں میں بند، کچھ پھڑپھڑاتے، کچھ نیم مضطرب اور کچھ مطمئن طوطے قیدی کے منتظر تھے، اصل طوطا ان میں بھی نہیں تھا۔

گرجدار آواز میں اب جھنجھلاہٹ آ گئی تھی۔ ”اور طوطے لاﺅ۔۔۔ اور۔۔۔ اور۔۔۔ اور۔۔۔“

طوطے آتے رہے، قیدی کو نیم تاریک کوٹھری سے، جو اب وہ قبر کی طرح لگ رہی تھی، نکالا جاتا، لیکن اصل طوطا نہ ملا۔

”اور۔۔۔۔“ گرجدار آواز کا غصہ نیم پاگل پن میں بدل گیا تھا۔

”لیکن جناب اب کوئی طوطا کہیں باقی نہیں رہا۔“ ڈرتی ڈرتی آواز میں جواب دیا گیا۔

تادیر خاموشی رہی

”تو یہ جھوٹ بولتا ہے، اس کی جان کسی طوطے میں نہیں، لٹکا دو اسے!“

قیدی نے پوچھا۔۔۔ ”اب تو میرا قصور بتادیا جائے۔“

گرجدار آواز میں تحکم تھا۔۔۔ ”پہلا قصور تو معلوم نہیں لیکن اب تمہارا قصور یہ ہے کہ اصل طوطا نہیں مل رہا۔“

قیدی کے گلے سے طوق اترا تو سکون سا ملا، طوق کی جگہ اب پھندا ڈالا جارہا تھا، اس سے پہلے کہ جلاد رسی کھینچتا، ٹین ٹین کرتا ایک طوطا فضا میں نمودار ہوا اور قیدی کے گرد منڈلانے لگا۔

”پکڑو ۔۔۔۔ مارو“ گرجدار آواز میں گرم جوشی اور مایوسی دونوں تھے۔۔۔ ”یہی وہ طوطا ہے۔“

قیدی کو بھول کر سب طوطے کو پکڑنے، مارنے کے لئے ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں گر گر پڑے۔ طوطا کچھ دیر ٹیں ٹیں کرتا فضا میں اڑتا رہا، پھر ایک اونچے روشن دان سے نکل کر فضاﺅں میں گُم ہوگیا۔

قیدی تمام تکلیفوں سے آزاد ہوگیا تھا لیکن آخری لمحے تک اُسے معلوم نہ ہوسکا کہ اس کا قصور کیا ہے؟

شاید اس کا ہونا ہی اس کی سزا تھا؟

Tags:

bedtime storiesbedtime stories for kidsbest novel of imran seriesbest storiesdeath suspense imran seriesenglish storieshindi storiesimran seriesimran series latest novelimran series read onlineimran series urdu novelimran series urdu storykids storieslatest imran seriesmoral storiesmoral stories for kidsshort stories for kidsshort urdu storiesStoriesstories for kidsstories in hindistories in urduUrdu StoriesUrdu Story
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

’ٹریچر کولنز سنڈروم‘ کا شکار وہاج اور اس کی باہمت والدہ کی کہانی

Next

’نواز شریف‘ اور ’شہباز شریف‘ کو بجلی چوری کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme