شرط (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
ماسکو کی اونچی سوسائٹی کی پارٹی عروج پر تھی۔ میزبان ایک بینک کا مالک تھا۔ مہمانوں میں جرنیلوں، سیاست دانوں اور اعلٰی افسروں کے علاوہ ایک نوجوان وکیل بھی شامل تھا۔ شراب کا دور چل رہا تھا۔ گفتگو نہ جانے کیسے سزائے موت اور عمر قید کی قانونی باریکیوں پر پہنچ…
قربانی (منتخب افسانہ)
خواہشات بغیر دستک دیے آدمی کے دل میں گھر کر جاتی ہیں اور جب تک وہ غور کرتا ہے تو یہ خواہشات اندر تک سرائیت کر چکی ہوتی ہے۔ اس آدمی کے اندر بھی خواہشوں کا جال پھیل رہا تھا لیکن اس کی تنخواہ محض 35 ہزار روپے تھی۔ وہ جب اپنی یا اپنے اردگرد…
اندھیروں کے عادی۔۔ تین مختصر کہانیاں
اندھیروں کے عادی معلوم نہیں کتنی مدت وہ سوتا رہا، حتیٰ کہ وہ اکتا گیا۔ ”آخر یہ سورج کیوں نہیں نکل رہا؟ رات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی“ اس نے سوچا۔ ”اس ناختم ہونے والے اندھیرے کے بارے میں کس سے پوچھوں، مجھے پڑوسیوں سے پوچھنا چاہیے۔“ پھر وہ آدمی اپنے…
بلتھزار کی شاندار دوپہر
پنجرہ تیار ہوگیا تھا۔ بلتھزار نے عادت کے مطابق اسے باہر چھت کے نیچے لٹکا دیا اور جب وہ ظہرانے سے فارغ ہوا تو پورا قصبہ اس بات پر متفق تھا کہ یہ دنیا کا سب سے خوبصورت پنجرہ ہے۔ اسے دیکھنے کے لیے اتنے لوگ آئے کہ گھر کے سامنے ہجوم جمع ہو گیا۔…
کاغذی چڑیا گھر (امریکہ کے چینی ادب سے منتخب شاہکار افسانہ)
آج برسوں بعد مجھے اپنی جو ابتدائی ترین یاد ہے، وہ ہے لگاتار منہ بسورے رکھنا یا بے وجہ ریں ریں کرتے رہنا۔ مجھے یاد پڑتا ھے، ماں اور ابا جتنے بھی اور جیسے بھی جتن کرتے میں جلدی بہلنے پر نہیں آیا کرتا تھا۔ میری کہانی ایسے ایک دن کی یاداشت پر شروع ہوتی…
چندراوتی (منتخب افسانہ)
چندراوتی سے میری محبت کا جب آغاز ہوا، اُسے مرے ہوئے تیسرا یا چوتھا دن تھا۔ میری آنکھوں کے سامنے اسے ایک سفید کپڑے میں لپیٹ کر شعلوں میں رکھ دیا گیا تھا اور بہت دیر تک ہمیں چرمر، چرمر کی سی آواز آتی رہی تھی۔۔۔۔ پھر اس کی راکھ بھی گنگا کی لہروں میں…
چلتی ٹرین میں رُکی ہوئی کہانی (منتخب افسانہ)
ٹرین کی کھڑکی بند ہے لیکن بارش کی بوندیں لگاتار اس پر دستک دے رہی ہیں، تیز برستی بارش میں میدانوں میں کھڑے درخت بھی دھندلے دکھائی دے رہے ہیں۔ کھچا کھچ مسافروں سے بھرے اس ڈبے میں موجود لوگ ایک دوسرے کی کہانیوں سے یکسر نابلد ہیں۔ سیٹ نمبر 15 پر بیٹھا…
نیند، خوف اور سابقہ بازی گر (منتخب افسانہ)
وہ موت کے کنویں میں موٹرسائیکل چلاتا تھا اور اس کی بیوی کو نیند میں چلنے کی عادت تھی۔ وہ جب سارا دن موٹرسائیکل چلا چلا کر تھکا ہارا گھر آ کر سو جاتا تو رات کے کسی پہر اس کی بیوی جاگ جاتی اور اس کی جیبوں کی تلاشی لینے لگتی۔ اسد علی بازی…