فرے منریک: ایک پرتگیز پادری کی سفرِ سندھ کی کتھا (دوسرا حصہ)
یہ 21 اگست 1641ء بدھ کے دن کے ابتدائی پہر ہیں۔ بارش کا موسم اس برس تھوڑی بارشوں کے ساتھ آیا اور اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ رات کے وجود میں ہلکی سی نمی اور ٹھنڈک ہے۔ شاہی قلعے کے شمال میں راوی کنارے بندرگاہ پر چہل پہل ہے۔ بہت سارے جہاز جانے کی…
قیدی کی وردی (مصری ادب سے منتخب افسانہ)
گاڑی کی آمد کا وقت قریب آیا تو ریلوے اسٹیشن زقازیق پر سب سے پہلے پہنچنے والا شخص حجشہ سگرٹ فروش تھا۔ وہ بجا طور پر ریلوے اسٹیشن کو اپنی چلتی منڈی تصور کرتا تھا اور بے مثال پھرتی کے ساتھ پلیٹ فارم پر گھومتے ہوئے اپنی چھوٹی چھوٹی جہاں دیدہ آنکھوں سے گاہکوں…
دوسری عورت (عربی افسانہ)
طلال نے یونیورسٹی کے آخری سمسٹر تک اپنی کزن کے بارے میں نہیں بتایا اور نہ ہی کبھی یہ عندیہ ظاہر کیا کہ وہ اس کے ساتھ شادی کرے گا۔ یہ بات اس نے اس وقت ظاہر کی، جب ہم نتیجے کا انتظار کر رہے تھے اور اس کے بعد عملی زندگی کی کٹھنائیوں کا…
آخری جلسہ (روسی افسانہ)
بڈھے باشکوف نے اپنی بہو سے کہا ”جانتی ہو، آج کیا دن ہے۔۔ دیکھو، دھوپ نکل آئی، میرے باہر بیٹھنے کا انتظام کر دیا؟“ بہو مسکرائی، وہ اچھے نین نقش کی تھی، لیکن اس کا وزن بڑھتا جارہا تھا اور وہ خاصی بے ڈول ہو رہی تھی بڈھے باشکوف نے اپنے آپ سے کہا ’مرد…
پہاڑ ہل گیا! (جرمن افسانہ)
”ماں آج میں تمہیں اپنے ساتھ لے کر نہیں جاسکتی۔۔ ماں آج میں تمہیں اپنے ساتھ گاڑی میں لے کر نہیں جا سکتی! ماں! میں آج۔۔۔۔“ مارلینے کا جملہ ادھورا رہ گیا اچانک ہی بیرٹا چلائی ”ہاں! میں نے سن لیا۔۔۔ میں نے سن لیا کہ تم مجھے آج بھی اپنے ساتھ نہیں لے کر…
ردا (سندھی افسانہ)
میں نے اسے پہچانا ہی نہیں۔ اس میں میرا قصور نہ تھا۔ وہ واقعی کافی بدل چکا تھا۔ ملا بھی برسوں بعد تھا۔ اس کے گالوں میں کھڈے پڑ گئے تھے۔ بال اجڑے سے تھے، جن میں شاید کئی دنوں سے اس نے تیل نہیں ڈالا تھا۔ اس کا رنگ، دھوپ میں پڑے کسی پتے…
م سے مرد (افسانہ)
”ف سے فوارہ، ق سے قلم، ل سے لٹو، م سے مرد۔۔۔“ بانو کی نظریں قاعدے میں بنے مرد کے اوپر ٹک گئیں۔۔ سوٹ پہنے، ٹائی لگائے، سلیقے سے جمے ہوئے بال بنائے، م سے مرد۔۔۔۔ اس کی زبان بار بار ’م سے مرد‘ کی گردان کرتی رہی۔ ”بانو بیٹا، آگے سبق یاد نہیں ہے؟“…
خالی جھولی
گھنٹے کی آواز کی گونج اور کلاس روم سے جلدی جلدی نکلتی ہوئی لڑکیوں کی ملی جُلی آوازوں کے شور میں جب وہ باہر نکلی تو ایک بج رہا تھا اور اُس کے ذہن میں اپنے ننھے بچے ببلو کی تصویر ابھر رہی تھی۔ آج اس نے کچھ زیادہ ہی اچھا پڑھایا تھا۔۔ اس بات…