پیپلز پارٹی، لیاری اور عثمان بلوچ کی یادداشتیں
بھٹو خاندان نے لیاری سے انتخاب نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بے نظیر بھٹو کی چھوٹی صاحبزادی آصفہ بھٹو کی سیاسی میدان میں لانچنگ مؤخر کر دی گئی ہے۔ کراچی کے دل لیاری سے محترمہ بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں مگر کبھی بے…
بے نظیر بھٹو: چند یادیں چند باتیں
یہ 1978ء کی بات ہے، جب یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد جو پہلی نوکری ملی، وہ ہفت روزہ معیار کی تھی، جس کے مدیر محمود شام تھے۔ وہ صحافت میں بھٹو صاحب کے بڑے حامی سمجھے جاتے تھے۔ ایک دن شام صاحب نے کہا کہ ’آج آپ کو بی بی سے ملواتے ہیں‘ چار…
ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا کیوں سنائی گئی اور اس فیصلے کو ’عدالتی قتل‘ کیوں قرار دیا جاتا ہے؟
’کیہ جناب (کیا جناب)؟ حیرت سے یہ کہتے ہوئے (لاہور کے) اچھرہ تھانے کے ایس ایچ او انسپیکٹر عبدالحئی کے ہاتھ سے قلم گر گیا۔‘ سنہ 1974 میں 10 اور 11 نومبر کی رات کے آخری پہر ہونے والے اس مکالمے کے راوی اور تب قومی اسمبلی کے رکن اور تحریکِ استقلال کے سیکرٹری…
پیپلز پارٹی کا سپریم کورٹ سے بھٹو ریفرنس کی سماعت براہ راست نشر کرنے کا مطالبہ
پاکستان پیپلز پارٹی نے بھٹو قتل کیس کے صدارتی ریفرنس کی سماعت کو براہِ راست نشر کرنے کا مطالبہ کیا ہے واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کے مقدمے پر صدارتی ریفرنس گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ میں سماعت کے…
ذوالفقار علی بھٹو قتل کیس: سماعت کے لیے مقرر ہونے 2011 کے صدارتی ریفرنس میں کن سوالوں کے جواب مانگے گئے؟
ذوالفقار علی بھٹو قتل کیس پر صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا۔ سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کے مقدمے پر صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے چیف جسٹس آف…
مرتضیٰ بھٹّو: ’الذوالفقار‘ سے لے کر 70 کلفٹن کے باہر چلی پہلی گولی تک
نوٹ: یہ مضمون بی بی سی اردو پر پہلی بار ستمبر 2020 میں شائع ہوا تھا۔ ’وزیر اعظم کے صرف ایک پیر میں چپّل تھی، دوسرے میں نہیں۔۔۔ وہ بھی بےنظیر بھٹّو جیسی وزیراعظم۔۔۔‘ یہ منظر ہے 20 ستمبر 1996 کی اس رات کا جب پاکستان کی اُس وقت کی وزیراعظم بےنظیر بھٹّو اپنے…
فیروز عبداللہ: ملزم نے ’چرس سے بھرا‘ سگریٹ پیا اور کراچی ایئرپورٹ پر گاڑی پولینڈ کے صدر کے وفد پر چڑھا دی
محمد فیروز عبداللہ کے چہرے پر سیاہ نقاب ڈال دیا گیا اور پھانسی گھاٹ کا دروازہ ان کے لیے کھول دیا گیا۔ اور جس طرح سے اس موقع پر اکثر ہوتا ہے، جیل کے اہلکاروں نے فیروز کو سہارا دے کر تختہ دار پر چڑھنے میں مدد دی، جلاد نے پھندہ اُن کے گلے میں…
قیدی نمبر 1772 اور اس کے آخری 24 گھنٹے۔۔۔
یہ چار عشروں پرانا منظر ہے۔ ایک قیدی نقاہت کے باوجود سر اٹھائے، وقار کے ساتھ مسلح افراد کے جلو میں جیل کی نیم روشن راہ داریوں سے گزر رہا ہے۔ ایک قیدی، جو پاکستان کی سیاسی تاریخ کی سب سے بڑی اساطیر بننے والا ہے۔ یہ کہانی 18 مارچ 1978ء کو شروع ہوئی جب…