غریبِ شہر کی چھت، امیرِ شہر کے ارمان اور دو دنیاؤں کی کہانی
اسلام آباد، ایک ایسا شہر جسے نقشوں پر کھینچا گیا، خوابوں میں بسایا گیا اور پھر حقیقت میں اس طرح آباد کیا گیا کہ اس کے سینے پر دو الگ الگ دنیائیں ایک ساتھ سانس لینے لگیں۔ ایک دنیا شیشوں کی ہے، چمکدار، محفوظ، بااثر۔ دوسری مٹی کی ہے، ٹوٹی ہوئی، بے نام، بے…
خوف، مزاحمت اور دیواروں میں قید گواہی
کل شام، اپنے گاؤں کے درختوں کے سائے میں اور فصلوں کے درمیان چلتے ہوئے، جب اچانک ایک اژدھے پر نظر پڑی، جسے ہم بھیڑیا ٹاؤن کہتے ہیں، تو ایک لمحے کو خوف سے آنکھیں بند ہو گئیں۔ یہی گاؤں، میری جنم بھومی، جس کے آنگن میں کبھی طرح طرح کے درختوں کی چھاؤں ہوا…
یہاں غربت کے کفن پر ترقی کا اشتہار چَھپتا ہے۔۔
بچپن میں ہم ایک کھیل کھیلتے تھے، جس میں ایک اور پھر دوسرے ہاتھ کا انگوٹھا، جو اس وقت ابھی محض ٹھینگا ہی ہوا کرتا تھا، کسی کو دکھا کر ترنم سے کہتے تھے، ”اسے کھا لو، اسے رکھ لو۔۔“ آج یہی کھیل ہمارے ساتھ حکمراں اشرافیہ، ایلیٹ کلاس کھیل رہی ہے جو اعداد و…
کوڑے داں (مختصر افسانہ)
علی داد گوٹھ، پہاڑوں کے دامن میں واقع ایک چھوٹا سا گاؤں ہے، جہاں ہوا کبھی پاکیزگی کی قسم کھاتی تھی۔ بارش کے بعد جب ندیاں بہتی تھیں، تو زمین کی خوشبو سانسوں میں سمٹ جاتی تھی، گویا کہیں ماں نے بچے کو گود میں لے رکھا ہو۔ یہ ندیاں موسمی تھیں چند مہینوں کے…
ایرانی فلم "علت مرگ: نامعلوم” Cause of death : Unknown
سال : 2024 ہدایت کار: علی زرنگار کہانی کا خلاصہ صبح کازب کے وقت 7 مسافر ایک وین میں شہداد سے کرمان کی جانب سفر شروع کرتے ہیں ـ راستے میں انہیں پتہ چلتا ہے آٹھواں مسافر جو ان سے پہلے وین میں بیٹھا ہوا تھا مرچکا ہے ـ وہ ایمبولینس کے لئے ایمرجنسی میں…
ندی اور بوڑھا (سنہالی ادب سے منتخب افسانہ)
پچھلے دس یا اس سے بھی کچھ زیادہ سالوں سے، ہر دن بوڑھا زیادہ تر وقت ندی کے کنارے بیٹھا رہتا۔ اُس کی عمر بیاسی برس تھی اور اب اُس نے کام کاج چھوڑ دیا تھا۔ ندی، بالکل اُس کے گھر کے سامنے تھی اور کچھ صدیاں پُرانی تھی۔ اُس کی ساری زندگی اسی ندی…
واپسی (افسانہ)
مہران کئی برسوں بعد لندن سے ماسٹرز کی ڈگری لے کر وطن واپس آ رہا تھا۔ جہاز کی کھڑکی سے باہر پھیلے بادلوں کے اُس پار وہ بار بار اپنے گاؤں کی مٹی، کھیت، اور بچپن کی یادوں کو محسوس کر رہا تھا۔ اُس کے ذہن کے پردے پر وہی کچے راستے، وہی مٹی کی…
ابال (منتخب اردو افسانہ)
جب دودھ ابل ابل کر کوئلوں پر گرنے لگا اور شاں۔۔۔ شاں کی آواز کے ساتھ ایک تیز سی بُو اٹھی تو چندن نے ہڑبڑا کر پتیلی کی طرف ہاتھ بڑھایا، جو کوئلوں کی تپش سے سرخ ہو رہی تھی۔ بےبسی کے انداز میں چندن نے جلد جلد ادھر ادھر دیکھا۔۔۔ کوئی کپڑا پاس نہ…