
اسلام آباد، ایک ایسا شہر جسے نقشوں پر کھینچا گیا، خوابوں میں بسایا گیا اور پھر حقیقت میں اس طرح آباد کیا گیا کہ اس کے سینے پر دو الگ الگ دنیائیں ایک ساتھ سانس لینے لگیں۔ ایک دنیا شیشوں کی ہے، چمکدار، محفوظ، بااثر۔ دوسری مٹی کی ہے، ٹوٹی ہوئی، بے نام، بے آسرا۔ یہ کہانی انہی دو دنیاؤں کی ہے۔
اسلام آباد کی شاہراہِ دستور پر جب سورج ڈھلتا ہے، تو اس کی آخری کرنیں دو مختلف منظرناموں پر پڑتی ہیں۔ ایک طرف ’ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو‘ کی وہ فلک بوس عمارت ہے جس کے چمکتے شیشے اقتدار کے ایوانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی حاکمیت کا اعلان کرتے ہیں، اور دوسری طرف اسی روشنی کے سائے میں، شہر کے مضافات میں، کچھ اور بھی بکھرا ہوا تھا، اینٹیں، لکڑیاں، ٹوٹی چارپائیاں، اور ان کے درمیان بیٹھے لوگ۔۔ وہ لوگ جن کی چھتیں اب آسمان بن چکی تھیں۔ یہ محض اینٹ اور گارے کا ڈھیر نہیں، بلکہ اس طبقاتی خلیج کا نوحہ ہے جس نے وفاقی دارالحکومت کو دو متوازی دنیاؤں میں بانٹ دیا ہے۔
جب قانون موم کی ناک بن جائے
مئی 2026 کے ان گرم دنوں میں اسلام آباد کی فضاؤں میں ایک عجیب سا تضاد رقص کر رہا ہے۔ یکم مئی کی صبح سے سوشل میڈیا کے در و دیوار ان صداؤں سے لرز رہے ہیں جو ’ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو‘ کے حق میں بلند ہو رہی ہیں۔ ہر بااثر قلم کار، اینکرز اور ڈیجیٹل آوازیں اس تشویش میں مبتلا ہیں کہ اگر ان عالی شان اپارٹمنٹس پر حرف آیا تو ان میں رہنے والے ججز، جرنیل، سیاست دان اور بزنس ٹائیکونز ”بے چارے“ کہاں جائیں گے؟ صحافی، اینکرز، انفلوئنسرز سب پریشان تھے کہ ”ان اپارٹمنٹس میں رہنے والوں کا کیا ہوگا؟“
شہری انتظامیہ (سی ڈی اے) نے جب وہاں ”آپریشن“ کا آغاز کیا تو انسانی ہمدردی کے وہ چشمے ابل پڑے جو شاید اس شہر نے پہلے کبھی نہ دیکھے تھے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کمال پھرتی دکھائی اور فوری طور پر آپریشن رکوا دیا۔ دلیل بڑی دلنشین تھی: ”وہاں خاندان اور بچے رہتے ہیں، ان کا موقف سن کر فیصلہ کیا جائے گا“۔
یہ فیصلہ بظاہر انسانی تھا لیکن سوال وہیں سے جنم لیتا ہے جہاں انصاف ختم ہونے لگتا ہے۔ کیا خاندان صرف شیشے کے ٹاورز میں بستے ہیں؟
دوسری جانب ایوانِ وزیراعظم سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر مسلم آباد، بری امام اور رمشا کالونی کی اجڑی بستیوں سے اٹھتا ہوا دھواں کچھ اور ہی سوال کر رہا ہے۔ کیا ان کچی بستیوں میں انسان نہیں بستے تھے؟ کیا وہاں کوئی بچہ نہیں رویا تھا؟
نرگس بی بی کا صدمہ اور ریاست کا تازیانہ
ریاست کے دہرے معیار کی سب سے اذیت ناک تصویر 46 سالہ نرگس بی بی ہے۔ وہ عورت جو اپنے خاندان کے لیے ناشتہ بنا رہی تھی، جب اس کے کانوں میں بلڈوزر کی گرج پڑی تو وہ یہ صدمہ نہ سہہ سکی۔ وہ ایک پل میں مفلوج ہو کر ہسپتال کے آئی سی یو پہنچ گئی۔ آج اس کا بیٹا نعمان نثار اپنی ماں کی زندگی کی بھیک مانگ رہا ہے، جبکہ پیچھے ان کا مکان اور دکان مٹی کا ڈھیر بن چکے ہیں۔
کیا نرگس بی بی کا صدمہ ان بااثر مکینوں کے خدشات سے کم تھا جن کے لیے سارا میڈیا پریشان ہو گیا اور وزیراعظم خود ڈھال بن گئے؟ یہ کیسا انصاف ہے کہ جس ٹاور نے 2005 سے اب تک اپنے واجبات کا 84 فیصد رقم ادا نہیں کی، اسے قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے کمیٹیاں بنتی ہیں، لیکن یاسمین بی بی جیسی بیوائیں، جو لوگوں کے گھروں میں برتن دھو کر ایک ایک روپیہ جوڑتی رہیں، ان کے لیے ریاست ’تجاوزات‘ کا تازیانہ لے کر پہنچ جاتی ہے؟
یاسمین نے اینٹ در اینٹ اپنا ایک کمرہ کھڑا کیا تھا، آج وہ کھلے آسمان تلے بیٹھی پوچھتی ہے: ”کیا اس ملک میں غریب کی کوئی وقعت ہے؟“ یہ وہی لوگ ہیں جو ان بنگلوں میں جھاڑو دیتے ہیں، ان کی گاڑیاں دھوتے ہیں، لیکن جب سر چھپانے کی باری آئے تو یہ ’غیر قانونی قابضین‘ قرار پاتے ہیں۔
مسلم کالونی: پانچ دہائیوں کی یادیں اور ملبے کا ڈھیر
دسمبر 2025 کے اواخر میں ایوانِ صدر اور بری امام کے درمیان واقع مسلم کالونی میں جو ہوا، وہ شہری منصوبہ بندی کے نام پر ایک انسانی المیہ تھا۔ سی ڈی اے انفورسمنٹ نے 700 کنال اراضی واگزار کرانے کا دعویٰ کیا، لیکن اس عمل میں 30 ہزار سے زائد افراد کے خواب روند دیے گئے۔
محمد افتخار، جو اب اپنے خاندان کے لیے کرائے کا مکان ڈھونڈ رہے ہیں، بتاتے ہیں کہ ان کے اباؤ اجداد اسی مٹی میں دفن ہیں۔ ان کی اہلیہ اور بیٹیاں دربدر ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ”ہم 20 سال سے یہاں رہ رہے تھے۔ حکومت کہتی رہی کہ نوٹس دے کر کارروائی ہوگی، لیکن ہمیں کوئی واضح نوٹس نہیں ملا۔ ہمارے پاس اس گھر کے سوا کچھ نہیں تھا“۔
کنول، ایک سکول ٹیچر، جو بچوں کو مستقبل کے خواب دیکھنا سکھاتی تھی، خود بے گھر ہو گئی۔ اسی ملبے پر کھڑی اسکول ٹیچر کنول کا سوال ریاست کے ضمیر پر دستک دیتا ہے، ”ریاست کی ذمہ داری شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے، لیکن یہاں ریاست خود شہریوں سے ان کے حقوق چھین رہی ہے“۔
سیکیورٹی رسک یا نفاذ کی ناکامی؟
سی ڈی اے کی ڈائریکٹر میونسپل ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر انعم فاطمہ کا اپنا موقف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ قابضین ہیں اور زمین سرکاری ہے۔ اتھارٹی کا دعویٰ ہے کہ 2002 میں ان لوگوں کو معاوضے اور متبادل پلاٹ دیے گئے تھے، لیکن ’نفاذ کی ناکامی‘ کی وجہ سے بستیاں دوبارہ آباد ہو گئیں۔
ایک اہم نکتہ یہ بھی اٹھایا گیا کہ یہ بستیاں ’ڈپلومیٹک انکلیو‘ کی دیوار سے متصل ہونے کی وجہ سے ’سیکیورٹی رسک‘ تھیں۔ لیکن متاثرین پوچھتے ہیں کہ جو لوگ پانچ دہائیوں سے یہاں آباد تھے، وہ اچانک ریاست کے لیے خطرہ کیسے بن گئے؟ مظفر حسین شاہ، جس کے بڑوں نے اسلام آباد کی بنیادیں رکھنے میں پسینہ بہایا، آج خود کو ’غیر قانونی‘ سن کر سکتے میں ہے۔ وہ ملبے سے اینٹیں چنتے ہوئے پوچھتا ہے: ”کیا شہر بنانے کا یہی صلہ ملنا تھا؟“ مظفر حسین کے بچے روات میں ایک رشتہ دار کے گھر پناہ لیے ہوئے ہیں، لیکن یہ پناہ عارضی ہے، جیسے ان کی زندگی۔
یہ کہانی صرف 2026 کی نہیں، اس کی جڑیں دسمبر 2025 تک جاتی ہیں۔ ایوانِ صدر اور بری امام کے درمیان واقع مسلم کالونی، ایک ایسی بستی جو پانچ دہائیوں سے آباد تھی، جہاں 30 ہزار سے زائد افراد رہتے تھے۔ نومبر 2025 میں، سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ نے مشترکہ آپریشن کیا۔ دعویٰ کیا گیا کہ 700 کنال سرکاری زمین واگزار کرا لی گئی۔ لیکن اس زمین کے ساتھ جو کچھ واگزار ہوا، وہ صرف مٹی نہیں تھی، وہ لوگوں کی زندگیاں تھیں۔
دو دنیائیں: ایک شیشے کی، ایک مٹی کی
اسلام آباد میں یہ محاورہ حرف بہ حرف سچ ثابت ہو رہا ہے کہ ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘۔ اگر آپ خرم مسیح ہیں، جسے ریاست نے خود 2012 میں رمشا مسیح کیس کے دوران ایچ نائن کی رمشا کالونی میں بٹھایا تھا، تو آج وہی ریاست آپ کو بے دخل کر دے گی۔ خرم ٹھیک کہتا ہے: ”ہمارے پاس اب نیلے آسمان کے سوا کوئی چھت نہیں بچی“۔
وزیراعظم کا آپریشن روکنے کا فیصلہ اشرافیہ کے لیے خوش آئند سہی، لیکن اگر یہ رعایت صرف شاہراہِ دستور کے نادہندگان تک محدود ہے تو یہ انصاف نہیں، بلکہ غریب کا استحصال ہے۔ قانون غریب کے لیے مکڑی کا جالا ہے جس میں وہ پھنس جاتا ہے، اور امیر کے لیے ’پھولوں کی سیج‘ جہاں اسے خراش تک نہیں آتی۔
اسلام آباد کی یہ کہانی دراصل دو پاکستانوں کی کہانی ہے۔ ایک وہ پاکستان جہاں پالیسی بدلتی ہے، کمیٹیاں بنتی ہیں، اور وزیراعظم خود مداخلت کرتے ہیں۔ دوسرا وہ پاکستان، جہاں بلڈوزر پہلے آتا ہے، سوال بعد میں۔
اسلام آباد کی چمک دمک کے پیچھے چھپی یہ سسکیاں اب ایک طاقتور صدا بن رہی ہیں۔ جب ریاست اپنے شہریوں کو طبقات میں بانٹ دیتی ہے تو معاشرے کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ آج کا سوال صرف زمین کا نہیں، بلکہ اس سماجی معاہدے کا ہے جو ریاست نے اپنے عوام سے کر رکھا ہے۔
کچی آبادیوں کے ملبے پر کھڑے ہو کر ان ایوانوں سے پوچھنا لازم ہے: کیا ہم سب ایک ہی ملک کے شہری ہیں یا یہاں دو پاکستان آباد ہیں؟ یہاں دو دنیائیں بستی ہیں، ایک شیشے کی، ایک مٹی کی؟
اگر غریب کی چار دیواری محفوظ نہیں، تو یاد رکھیے، ناانصافی کی بنیاد پر کھڑا کوئی بھی عالی شان ٹاور زیادہ دیر محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ کسی نے سچ کہا تھا کہ اسلام آباد غریبوں کے لیے بنا ہی نہیں تھا، اسی لیے اس کی زمین ان پر ہمیشہ تنگ رہتی ہے۔
شاید کسی دن، جب یہ شہر بلند و بالا عمارتوں کے چمکتے شیشوں میں، دوڑتی عالی شان گاڑیوں کے عکس دیکھنے کے بجائے اپنے آئینے میں خود کو دیکھے گا، تو اسے معلوم ہوگا کہ اصل دراڑ غریبوں کی عمارتوں میں نہیں، انصاف میں پڑ چکی ہے۔
___________________




