کھیرتھر ماحولیاتی انصاف چاہتا ہے!
کھیرتھر نیشنل پارک (KNP) سندھ کے اضلاع کراچی، دادو اور جامشورو کے بعض حصوں پر محیط ایک محفوظ قدرتی خطہ ہے۔ اس کے جنگلی حیات اور قدرتی وسائل کو ایک جامع قانونی فریم ورک کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ تاہم، ان تحفظات کے باوجود غیر قانونی کان کنی، تعمیراتی سرگرمیوں…
ندی کے زہر میں دفن تہذیب: ’سوناءِ کُوھر‘ کا المیہ
پہاڑی علاقوں کی وہ ندیاں، جو بارش کے بعد جنم لیتی ہیں اور جھرنوں کی صورت میں بہتے ہوئے نیچے کے میدانوں تک زندگی پہنچاتی ہیں، دراصل قدرت کا وہ خاموش تحفہ ہیں جن پر پورا ایک ماحولیاتی نظام قائم ہوتا ہے۔ پہاڑ کی چوٹی سے نکلنے والا شفاف پانی جب کئی کلومیٹر…
قانون سازی نہیں، ریتی بجری کی چوری ہی رکوا دو!
ملیر کی زرعی تہذیب کی ”رگِ جاں“ اور ”شہہ رگ“ وہ مخزنِ عظیم ہے، جس کا نام ”ریتی بجری“ ہے۔ اس عظیم الشان زرعی تہذیب کے زوال کی اصل وجہ ملیر کی ندیوں سے وسیع پیمانے پر ریتی بجری کے اخراج اور چوری کا بھیانک عمل ہے، جو اربوں روپے کا کالا کاروبار ہے۔ فطری…
کھیرتھر نیشنل پارک کی حدود میں ریتی بجری مائننگ: حرص و لالچ کا کھیل
کھیرتھر نیشنل پارک، ملیر اور جامشورو کے علاقوں میں ریتی بجری مائننگ نے ماحولیاتی تباہی کے ساتھ ساتھ سماجی طور پر بھی سنگین صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف غیر قانونی مائننگ کے باعث زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے، دوسری طرف یہ پانی مزید کھارا اور…
تھائی لینڈ میں چوتھے ایشیائی ماحولیاتی و انسانی حقوق محافظ فورم میں سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائنس کی نمائندگی
تھائی لینڈ کے تاریخی شہر چیانگ مائی میں ”چوتھا ایشیائی ماحولیاتی و انسانی حقوق محافظ فورم“ (4th Asia Environmental Human Rights Defenders Forum) منعقد ہوا، جس میں ایشیا بھر سے دو سو سے زائد ماحولیاتی انسانی حقوق کے محافظوں، ماہرین، اور تنظیموں نے شرکت…
بڑھتی ہوئی عدم مساوات کی تصویر بنا ایشیا امیروں کا نیا کھیل کا میدان بن گیا
دنیا کے نقشے پر ایشیا آج صرف آبادی یا معیشت کا استعارہ نہیں بلکہ تضاد کی ایک زندہ تصویر ہے، جہاں فلک بوس عمارتوں کے سائے میں جھونپڑیاں سکڑتی جا رہی ہیں اور ڈیجیٹل اسکرینوں کی چمک میں لاکھوں چہرے اندھیرے میں گم ہو رہے ہیں۔ یہ وہ خطہ ہے جو بظاہر ترقی کے…
ایجوکیشن سٹی: تعلیم کے نام پر زمین ہتھیانے کا نیا سرمایہ دارانہ کھیل
کراچی کے ضلع ملیر میں ”ایجوکیشن سٹی“ کے نام پر ایک نیا کمرشل تعلیمی پروجیکٹ زیرِ تکمیل ہے۔ بظاہر یہ منصوبہ تعلیم کے فروغ کے لیے ایک مثبت اقدام دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت زمین کے حصول کا ایک اور باب بنتا جا رہا ہے۔ یہ…