Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Sand-and-gravel-mining-within-the-boundaries-of-Khirthar-National-Park-A-game-of-greed
اہم ترینتازہ ترینکالمماحولیات

کھیرتھر نیشنل پارک کی حدود میں ریتی بجری مائننگ: حرص و لالچ کا کھیل

By Akhtar Rasool
نومبر 14, 2025 4 Min Read
0

کھیرتھر نیشنل پارک، ملیر اور جامشورو کے علاقوں میں ریتی بجری مائننگ نے ماحولیاتی تباہی کے ساتھ ساتھ سماجی طور پر بھی سنگین صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف غیر قانونی مائننگ کے باعث زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے، دوسری طرف یہ پانی مزید کھارا اور آلودہ ہو چکا ہے، جس سے مختلف بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ حال ہی میں کوہستان کے ایک گوٹھ میں ڈائریا کی وبا پھوٹنے سے کئی بچوں کی اموات ہو چکی ہیں۔

پہاڑوں اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی سے نہ صرف ماحولیاتی توازن بگڑا ہے بلکہ جنگلی حیات بھی خطرناک وائرل بیماریوں کا شکار ہو کر ہلاک ہو رہی ہیں۔ ہم گزشتہ کئی سالوں سے کھیرتھر نیشنل پارک کے تحفظ کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم نے سندھ ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا ہوا ہے، جس پر اسٹے آرڈر نافذ ہے کہ اس علاقے میں کسی بھی قسم کی مائننگ، جنگلات کی کٹائی یا شکار نہیں کیا جا سکتا۔

ملیر میں تو مائننگ پر قانونی طور پر مکمل پابندی عائد ہے، لیکن اس کے باوجود غیر قانونی مائننگ کھلے عام جاری ہے۔ کھیرتھر اور ملیر دونوں میں عدالت کے حکم اور قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ کوئی بھی شخص دن کی روشنی میں گڈاپ کی سڑکوں اور بحریہ ٹاؤن کے اندر سے ریتی بجری سے لدے ڈمپرز گزرتے ہوئے دیکھ سکتا ہے۔ گڈاپ کھار سینٹر، ملیر کی ندیوں اور ملیر دریا کے کناروں پر رات دن غیر قانونی مائننگ جاری ہے اور یقیناً یہ سب کچھ اداروں کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں۔ یہی ہماری بدقسمتی ہے کہ یہ تباہی سرکاری سرپرستی میں ہو رہی ہے اور سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

اس مسئلے کا ایک تاریک پہلو یہ ہے کہ ریتی بجری مافیا مقامی غریب لوگوں کو چند پیسوں کے عوض استعمال کرتا ہے، اور اب اس کے سنگین نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں گوٹھ حیات گوندر کے قریب تھدو ندی میں انہی مائننگ گروہوں کے درمیان جھگڑا ہوا۔ اگرچہ لاٹھیاں یا گولیاں نہیں چلیں، لیکن جھگڑے کے دوران ایک اہم سڑک، جو کراچی اور جامشورو کو آپس میں ملاتی ہے، کو بھاری مشینری سے گڑھا کھود کر بند کر دیا گیا۔۔ یہ سلسلہ اگر اسی طرح چلتا رہا تو، خاکم بدہن، کچھ بعید نہیں کہ معاملہ کشت و خون تک پہنچ جائے۔

مقامی لوگوں کے مطابق، یہ جھگڑا دو مائننگ گروہوں کے درمیان تھا اور اس کے نتائج عام کوہستانی غریب لوگوں کو بھگتنے پڑ رہے ہیں۔ اس سڑک پر پچاس سے زائد دیہات کی آمد و رفت کا دار و مدار ہے۔ سڑک بند ہونے سے لوگ کئی دنوں تک شدید مشکلات کا شکار رہے۔ یاد رہے کہ ان علاقوں کی روزمرہ ضروریات، بازار، اسپتال اور روزگار کے بیشتر ذرائع کراچی کے گڈاپ ٹاؤن سے وابستہ ہیں، جہاں جانے کے لیے یہی راستہ استعمال ہوتا ہے۔

بحریہ ٹاؤن سے گزرنے والا متبادل راستہ رات نو بجے سے صبح نو بجے تک بند رہتا ہے، اور دن میں بھی وہاں داخل ہونے والوں سے درجنوں سوالات کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ رات سڑک بند ہونے سے مقامی آبادی بے حد پریشان رہی۔ مقامی لوگوں نے متعلقہ ایس ایچ او کو صورتحال سے آگاہ کیا، مگر اس کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔۔ اور وجہ صاف ظاہر ہے۔

جب میری مقامی لوگوں سے بات ہوئی تو وہ اپنی مدد آپ کے تحت سڑک کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یاد رہے کہ ہم کئی سالوں سے کھیرتھر نیشنل پارک کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں۔ جب عدالتی حکم کے باوجود مائننگ نہ رکی تو ہماری قانونی ٹیم (پروفیسر ایڈوکیٹ عبیرا اشفاق) کی قیادت میں وہاں کا جائزہ لینے گئی۔ اس موقع پر ریتی بجری مافیا کے مقامی غنڈوں نے ہم پر حملہ کیا۔ جب گڈاپ تھانے میں ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی گئی تو انکار کر دیا گیا، جس کے بعد ملیر کورٹ سے عدالت کے حکم پر ایف آئی آر درج کرانے کا آڈر پاس کرایا۔

یہ مسئلہ صرف ریتی بجری مائننگ تک محدود نہیں ہے۔ بلڈر مافیا اور بااثر سردار وڈیرے مقامی لوگوں کی زمینیں بھی چھین رہے ہیں۔ آج کھیرتھر نیشنل پارک کے ساتھ ساتھ پورا کوہستانی سماج تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ سندھ کا ایک اہم قدرتی اور ثقافتی وسیلہ، سندھ ہی سے چھینا جا رہا ہے، مگر چاروں طرف خاموشی چھائی ہوئی ہے۔

کوہستان کے مقامی انڈیجینئس لوگ بے بسی سے اپنی زمینوں، جنگلات اور پہاڑوں کو لٹتا اور اجڑتا دیکھ رہے ہیں۔ انہیں اپنے ہی علاقوں سے بےدخل کیا جا رہا ہے۔ یہ صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک بڑا انسانی المیہ ہے، جو کسی بڑے حادثے کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

میری تمام سندھ دوستوں، ماحولیاتی اور انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل ہے کہ مرتے ہوئے کوہستان کو بچانے کے لیے آگے آئیں، اور کوہستان کے غریب، انڈیجینئس لوگوں کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔

Tags:

Abira Ashfaq legal teamaccess disruptionattacks on activistsBahria Town influencecall for actionchild deathsClimate vulnerabilitycommunity resiliencecommunity strugglescommunity sufferingcourt stay ordercourt-directed FIRCultural ErosionDeforestationdestroyed forestsdiarrhoea outbreakdisplaced communitiesdried riversdumpers loaded with sandecocide in SindhEcological CrisisEcological imbalanceendangered ecosystemsenvironmental awarenessEnvironmental Crimeenvironmental defendersenvironmental degradationEnvironmental DestructionEnvironmental JusticeFeudal Influencefield inspection attackFIR refusalforced evictionforest cutting banGadap Town roadsgovernment silencegravel mafiagroundwater depletionHabitat Lossheavy machinery blockageHuman Rights Violationhuman tragedyillegal huntingillegal miningindigenous communitiesindigenous land rightsInstitutional CorruptionJamshoro environmental issuesKarachi Jamshoro roadKharsar centerKirthar Ecosystemkirthar national parkKohistan crisisKohistan villageslack of law enforcementLand Grabbinglaw violationlegal harassmentlocal poverty exploitationLocal resistancelooming disasterMalir mining crisisMalir River banksmining ban violationmining group conflictmining trucksmountain cuttingnatural resource theftnature under threatpolice negligencePolluted Waterpowerful buildersprotect indigenous peopleprotect Kirtharriverbed miningroad blockaderural mobility crisissaline water issuessand gravel miningsand mafiasave KohistanSHO inactionSindh High Court caseSindh natural heritagesocial collapse risksocial injusticeState negligencestolen landsstop illegal miningsustainable rightsThadu Nadithreatened biodiversityvillage connectivityviral diseases in wildlifewadera system abusewater contaminationwildlife deaths
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
History-of-Photography-The-fascinating-story-of-a-beautiful-journey-that-changed-the-world
Previous

فوٹوگرافی کی تاریخ: ایک خوبصورت سفر کی دلچسپ کہانی، جس نے دنیا بدل دی

Rule-of-law-or-rule-of-force-The-story-of-our-stagnation-from-2007-to-2025
Next

قانون کی حکمرانی یا طاقت کی حکمرانی؟ 2007 سے 2025 تک ہماری جمود کی کہانی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme