تیس ہزار بیوائیں اور اَسی ہزار یتیم بچے.. شانگلہ کے کان کنوں کی لرزہ خیز داستان
یوم مزدور آیا اور گزر گیا.. اس روز ہر سال سرکاری چھٹی بھی ہوتی ہے، ٹی وی پر کوئی ایک آدھ پروگرام نشر ہوتا ہے اور قیامت کی گرمی میں خون پسینہ بہا کر کام کرنے والے مزدوروں کے حوالے سے کسی ٹھنڈے ٹھار آڈیٹوریم میں کوئی ایک آدھ سیمینار بھی منعقد ہوتا ہے لیکن…
تیرہ سو فٹ گہری کھائی سے پانچ دن بعد نکالے گئے کان کن اور مزدوروں کی زندگیاں
کوئٹہ – کوئلے کی کان میں کام کرنے والے تیس سالہ محمد عمر کا کہنا ہے ”اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا زندہ رہنا ایک معجزہ ہے، کیونکہ ہم 1300 فٹ گہرائی میں پھنسے ہوئے تھے اور پانچ دن کچھ کھائے یا پیے بغیر گزر چکے تھے، تو اللہ نے واقعی ہمیں ایک نئی…