Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

تیس ہزار بیوائیں اور اَسی ہزار یتیم بچے.. شانگلہ کے کان کنوں کی لرزہ خیز داستان

By Akhtar Rasool
مئی 2, 2022 4 Min Read
0

یوم مزدور آیا اور گزر گیا.. اس روز ہر سال سرکاری چھٹی بھی ہوتی ہے، ٹی وی پر کوئی ایک آدھ پروگرام نشر ہوتا ہے اور قیامت کی گرمی میں خون پسینہ بہا کر کام کرنے والے مزدوروں کے حوالے سے کسی ٹھنڈے ٹھار آڈیٹوریم میں کوئی ایک آدھ سیمینار بھی منعقد ہوتا ہے

لیکن بندہ مزدور کے بہت تلخ اوقات مزید اور مزید تر تلخ ہوتے جاتے ہیں. ایسا ہی کچھ صوبہ خیبرپختونخوا کے پسماندہ ضلع شانگلہ میں کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کا بھی حال ہے، جن کا کوئی پرسان حال نہیں

ضلع شانگلہ سوات کے شہرمینگورہ سے چالیس کلومیٹر دور واقع ہے۔ پانچ تحصیلوں پر مشتمل ضلع شانگلہ کی آبادی ساڑھے سات لاکھ ہے، جہاں کے بیشتر لوگوں کا روزگار کوئلے کی کان کنی سے جڑا ہے

یہاں ہر کان کن مزدور کے ساتھ بے بسی، دکھ، تکلیف اور کرب کی ایک داستان جڑی ہوئی ہے. انہی میں سے پینتیس سالہ حسین علی بھی ہے، کوئلے کی کان میں کام کرنے کے دوران جن کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹنے سے وہ عمر بھر کے لیے معزور ہو گئے ہیں

حسین نے بتایا کہ انہوں نے میٹرک میں تعلیم چھوڑ کر کوئلے کی کان میں کام کرنا شروع کیا. 2016ع میں کام کے دوران کان میں سلائیڈنگ کی زد میں آ کر ان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ، جس کے بعد وہ ویل چیئر تک محدود ہو گئے

انہوں نے کہا کہ ضلع شانگلہ میں روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ اس جان لیوا کام سے وابستہ ہیں

حسین نے دعویٰ کیا کہ شانگلہ میں کوئلے کی کان میں اسپائنل کارڈ ٹوٹنے کی وجہ سے معذور ہونے والے نوجوانوں کی تعداد دو سو سے زیادہ ہے جبکہ کئی مزدور ہاتھ پاؤں سے محروم یا نابینا ہو چکے ہیں

ان کہا کہ تھا کہ اکثر مزدور پھیپھڑوں کی بیماری میں بھی مبتلا ہیں

انہوں نے بتایا کہ وہ مخیر حضرات اور غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے کئی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹنے سے معذور مزدوروں کے لیے ویل چیئرز کا بندوبست کر چکے ہیں

حسین نے بتایا کہ معذور ہونے کے بعد انہوں نے گاؤں میں ایک دکان کھول لی ہے اور فارغ وقت میں وہ مقامی بچیوں کو مفت تعلیم دیتے ہیں

ان کا کہنا ہے کہ آج کل زیادہ تر حادثات درہ آدم خیل کی کوئلے کی کانوں میں پیش آتے ہیں کیونکہ یہ کانیں نئی نئی شروع ہوئی ہیں اور ان میں حفاظتی اقدامات کا فقدان ہے

ضلع شانگلہ میں کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی آگاہی اور حقوق کے لیے کام کرنے والی مقامی تنظیم شانگلہ کوئل مائینز ورکررز ویلفئیر ایسوسی ایشن (سموا) کے جنرل سیکرٹری عابد یار نے بتایا ضلع شانگلہ کے 75فیصد تک مزدور کوئلے کی کان کنی سے وابستہ ہیں

ان کا کہنا تھا کہ صوبہ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں جتنی بھی کوئلے کی کانیں ہیں، ان میں شانگلہ کے مزدور کام کرتے ہیں

عابد یار نے کہا کہ شانگلہ کے کان کن مزدوروں کی پہلے کوئی تفصیل موجود نہیں تھی لیکن ان کی تنظیم نے 2017ع سے اپنی مدد آپ کے تحت کام شروع کر دیا ہے

سموا کے جنرل سیکرٹری نے کہا کہ شانگلہ میں اوسطاً سالانہ تین سو مزدور کوئلے کی کانوں میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور پچاس تک مستقل معذور ہو جاتے ہیں، جس میں اسپائنل کارڈ انجری، گردن کی ہڈی ٹوٹنا ہے

’اس طرح سو تک وہ مزدور شامل ہوتے جن کے ہاتھ یا پاؤں کی ہڈی ٹوٹ جاتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ کان کنی سے وابستہ مزدور پچاس سال تک کی عمرمیں ناکارہ ہو جاتے ہیں کیونکہ مائنز میں گیسز اور گرد سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات نہ ہونے سے ان کے پھیپھڑے اور گردے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

سموا کے جنرل سیکرٹری عابد یار نے کہا کہ شانگلہ زیادہ تر پہاڑی علاقہ ہے اور یہاں پچھلے ستر، اسی سالوں سے لوگ کان کنی سے وابستہ ہیں

انہوں نے کہا کہ شانگلہ کے لوگ پہاڑی اور سخت جان ہوتے ہیں۔ ’کانوں میں کام کرنے والوں میں اکثریت نوجوانوں کی ہے یہاں تک کہ اسکول کی چٹھیوں میں نوعمر لڑکے بھی یہی کام کرنے لگتے ہیں۔

انہوں نے کہا دو ہفتے پہلے بھی اورکزئی کی کان میں دھماکے سے شانگلے کی تین نوجوان مر گئے تھے، جن میں ایک میٹرک کا طالب علم تھا

عابد یار نے کہا کہ بدقسمتی سے کسی منرل ڈپارٹمنٹ یا لیبر ڈپارٹمنٹ نے شانگلہ کے مرنے والے اور معذور مزدوروں کا ڈیٹا جمع کیا اور نہ ہی کوئی مالی مدد کی

انہوں نے کہا کہ 2020 کی 196 مزدور مر گئے جبکہ 2021 میں 230 مزدور کوئلے کی کان میں ہلاک ہوئے

انہوں نے کہا ’شانگلہ میں مزدوروں کی 30 ہزار سے زائد بیوائیں جبکہ 80 ہزار کے قریب یتیم بچے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ اگر کام کے دوران مزدور مر جائے تو کان کا مالک پانچ لاکھ روپے دیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاق کے پاس 26.5 ارب روپے ورکرز ویلفیئر فنڈ، جو ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں کوئلے کے فی ٹن کے حساب سے جمع ہوتا ہے، وہ بھی مزدوروں پر خرچ نہیں کیا جاتا

مقامی صحافی فضل ربی نے بتایا کہ کوئلے کی کانوں کے مزدور حادثوں کے علاوہ صوبہ بلوچستان اورسابقہ فاٹا میں اغوا برائے تاوان اور دہشت گردی کے علاوہ مائنز تنازعات کا بھی شکار ہوتے ہیں

انہوں نے کہا دیکھا جائے تو اوسطاً ہر مہینے چار سے پانچ مزدوروں کی لاشیں ضلع شانگلہ لائی جاتی ہیں

فضل ربی نے کہا کہ ایک مزدور کو 1500 روپے یومیہ ملتے ہیں

فضل ربی کے مطابق شانگلہ کی یونین کونسل پیر آباد میں سب سے زیادہ مزدور متاثر ہوئے ہیں.

Tags:

Coal MinerCoal MiningLabor DayPakistanShangla
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بورس بیکر کے عروج و زوال کی کہانی، ٹینس لیجنڈ کروڑ پتی سے دیوالیہ کیسے ہوئے

Next

عمران حکومت کے خاتمے کے بارے میں امریکی دفاعی تجزیہ کار ریبیکا گرانٹ کا اہم بیان

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme