ماں بولی (حصہ ہشتم)
ماں بولی کے اس مرحلے پر ہم برصغیر سے نکل کر اس کے گرد و نواح کی ریاستوں کی طرف دیکھتے ہیں، تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ زبان کو اختیار بنانے یا دبانے کے فیصلے قوموں کی تقدیر کس طرح بدل دیتے ہیں۔ اس حصے میں چین اور افغانستان دو ایسے تجربات ہیں جو ایک…
ماں بولی (حصہ ہفتم)
جب بات ریاستوں میں بولی جانے والی ماں بولیوں کی آتی ہے تو اس مرحلے پر ہندوستان اور پاکستان کے لسانی تجربات کو آمنے سامنے رکھنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ کون سی زبان بڑی ہے اور کون سی چھوٹی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ریاست نے زبان کو طاقت…
ماں بولی (حصہ ششم)
ماں بولی کے اس پڑاؤ میں ہم بات کریں گے برصغیر میں زبان، اقتدار اور تاریخ کی، اور اس حصے میں قدیم ہندوستان سے تقسیم تک کا ذکر کریں گے۔ زبان کبھی محض الفاظ کا مجموعہ نہیں رہی۔ انسانی تاریخ میں زبان ہمیشہ طاقت، علم اور اختیار کے ساتھ جڑی رہی ہے۔ جس کے پاس…
قانون کی حکمرانی یا طاقت کی حکمرانی؟ 2007 سے 2025 تک ہماری جمود کی کہانی
پاکستان میں عوامی مفاد کی عدالتی لیٹیگیشن نہ ہونے کے برابر ہیں، تقریباً موجود ہی نہیں۔ آپ سو موٹو اختیارات چھین سکتے ہیں، عدالتوں کی تشکیلِ نو کر سکتے ہیں، لیکن بنیادی حقوق یا وہ قانونی بنیادیں جن پر مقدمات کھڑے ہوتے ہیں، انہیں کبھی ختم نہیں کیا جا سکا۔…
ملیر اور کارپوریٹ سامراج کی نئی یلغار
اگر ملیر کی تاریخ کو باریک بینی سے دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ علاقہ آج بھی نوآبادیاتی کالونیل ازم کے دائرے میں سامراجی طاقتوں کی پیدا کردہ سازشی حالات سے گزر رہا ہے۔ برطانوی سامراج بظاہر تو اس سرزمین سے رخصت ہوگیا، لیکن درحقیقت اس نے اپنے دلالوں کو…
ملیر ایجوکیشن سٹی یا کارپوریٹ کالونی
ملیر کی زمین پر سندھ حکومت کی جانب سے جو منصوبہ “ایجوکیشن سٹی” کے نام سے شروع کیا گیا ہے وہ ملیر کی زمینوں پر قبضے کی ایک نئی شکل ہے۔ یہ منصوبہ ریاستی و حکومتی اداروں اور کارپوریٹ مفادات کو ترقی اور علم جیسے خوبصورت الفاظ کے پردے میں ملیر کی زمینوں،…
جنٹل مین بن کے دکھاؤ
پانچویں کے بعد ہائی اسکول میں داخلہ لیا تو انگریزی پڑھنی شروع کی۔ ایک دن چھٹی کی درخواست لکھواتے ہوئے استاد محترم نے I beg to say لکھوایا تو ہاتھ پتھر کے ہو گئے۔ دل نے آواز دی کہ چھٹی کوئی دے یا نہ دے لیکن یہ بھیک نہیں مانگی جا سکتی کہ I beg…
تاریخ کا خوف
تاریخ ہمیشہ کئی نظریات اور مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے۔ اس لیے تاریخ کے ذریعے حکمراں طبقے اپنے عدل، انصاف، فیاضی، سخاوت، بہادری اور شجاعت کی داستانیں محفوظ کراتے رہے ہیں۔ تاریخ میں ہم یہ روایت دیکھتے ہیں کہ جب ایک شاہی خاندان کی حکومت ختم ہوتی ہے اور…