Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Rule-of-law-or-rule-of-force-The-story-of-our-stagnation-from-2007-to-2025
اہم ترینتازہ ترینکالم

قانون کی حکمرانی یا طاقت کی حکمرانی؟ 2007 سے 2025 تک ہماری جمود کی کہانی

By Akhtar Rasool
نومبر 19, 2025 3 Min Read
0

پاکستان میں عوامی مفاد کی عدالتی لیٹیگیشن نہ ہونے کے برابر ہیں، تقریباً موجود ہی نہیں۔ آپ سو موٹو اختیارات چھین سکتے ہیں، عدالتوں کی تشکیلِ نو کر سکتے ہیں، لیکن بنیادی حقوق یا وہ قانونی بنیادیں جن پر مقدمات کھڑے ہوتے ہیں، انہیں کبھی ختم نہیں کیا جا سکا۔

اس ملک میں قانون کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم 2007 سے آگے بڑھے ہی نہیں۔ اُس وقت ہمارے نعرے ”عدلیہ کی آزادی“ اور ”قانون کی حکمرانی“ تھے، اور آج بھی وہی ہیں۔ ذرا ٹھہر کر اس بات کو سوچ کر دیکھیں۔ قانون کی حکمرانی اچھی لگنے والی بات ضرور ہے، مگر اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ بیرک گولڈ کو اُن کے معاہدوں کے مطابق سونا دینے کی اجازت ہو۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک سزا یافتہ قیدی کو رات کی تاریکی میں پھانسی دے دی جائے۔ قانون کی حکمرانی یہ بھی ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالتیں جائز ہیں کیونکہ وہ باقاعدہ طور پر قائم کی گئی ہیں۔ قانون کی حکمرانی ایک دن یہ بھی ماننے پر مجبور کرے گی کہ 26ویں اور 27ویں ترامیم کو قبول کیا جائے۔ تو برائے مہربانی اپنے نعرے بدلیں، کہیں کہ ”عوام کے لیے قانون“ اور ”قانون کا یہ مطلب ریئل اسٹیٹ اور ورلڈ بینک نہیں ہے“۔

ہم نے گزشتہ اٹھارہ سالوں میں کوئی تنقیدی، تجزیاتی اور ساخت شکن قانونی جدوجہد پیدا ہی نہیں کی۔ ہمارے لاء اسکول ایسے وکیل پیدا کر رہے ہیں جو مجھے یہ سمجھاتے ہیں کہ ”ان کسانوں کے پاس ملکیتی دستاویزات نہیں، اور اگر وہ زمین ریئل اسٹیٹ مافیا کو بیچنا چاہیں تو یہ ان کی آزادیِ انتخاب ہے“۔ جو قسم کی فیمنسٹ وکالت ہم تیار کر رہے ہیں، وہ جیلوں کے خاتمے کے بجائے صرف سزا دلوانے پر مُصر ہے، اور بحالی انصاف (restorative justice) کو ایسے پیش کرتی ہے جیسے یہ کوئی انقلابی نظریہ ہو، حالانکہ جیلوں کی صنعت اور اُن کی نوآبادیاتی تاریخ کے تناظر میں یہ محض ایک عارضی مرہم ہے۔ اس پس منظر میں جیلوں کی صنعتیں، نوآبادیاتی تشدد اور ان کی سفاک تاریخیں آج بھی زندہ ہیں۔ ہم آج بھی اسی کالونیل استعماری دور میں زندہ ہیں، جس دور میں برطانیہ سامراج نے غریبوں کو کچلنے کے لیئے قوانین بنائے گئے تھے، آج انہی قوانین کے ذریعے یہاں کے انڈیجینئس مقامی لوگوں کو اپنے ہی زمینوں سے بےدخل کیا جا رہا ہے۔

قانون ایک ایسا میدان ہے جس میں بے شمار امکانات تھے، مگر یہ چند مردوں کے تنگ نظر مقاصد کا زینہ بن چکا ہے۔ مجھے تو خوشی ہوتی اگر وکیل قانونی باریکیوں کے دیوانے ہوتے، مگر وہ اس طرح محنت اور مطالعہ کرنے والے نہیں۔ اگر آپ دنیا بھر کے فیصلے پڑھیں تو شاید کبھی بھی ”لغاری“ والے فیصلے پر اتنا فخر محسوس نہ کریں، مگر میں دیکھتی ہوں کہ میرے سابقہ طلبہ اپنے سوٹ کے برانڈ اور دفتر کی چمک دمک پر زیادہ خوش ہوتے ہیں۔

ہمارے ملک میں ”بیرسٹر“ کا لقب کوئی معنی نہیں رکھتا۔ یہ اچھی قانونی تعلیم ضرور ہے اور میں اپنے سابقہ طلبہ کی محنت کا احترام بھی کرتی ہوں، مگر یہ ٹائٹل اپنے آپ میں کھوکھلا ہے، برطانیہ آپ کو نہ ویزا دیتا ہے، نہ نوکری، نہ اپنی عدالتوں میں پریکٹس کا حق۔ کسی بھی سنجیدہ اور باشعور معاشرے میں اگر کوئی میئر بیرسٹر کا لیبل لگا کر گلوبل ساؤتھ کے مسائل حل کرنے کا دعویٰ کرے، خاص طور پر ایک ایسے شہر میں جو کبھی روشنیوں کا شہر تھا اور اب کھنڈر ہے، تو اسے بے رحمی سے مذاق کا نشانہ بنایا جائے۔ یہ مضحکہ خیز ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے میں کہوں کہ کیلیفورنیا بار پاس کرنے سے میں سیدہ بن گئی ہوں۔

قانون کی عملی دنیا کو بنیادی طور پر چند اشرافیہ وکلا نے یرغمال بنا لیا ہے۔ اُن میں نہ صبر ہے، نہ وہ اہلیت کہ ویسے ہی سڑکوں پر نکلیں جیسے 2007 میں نکلے تھے۔ تب بھی وہ انتہائی متکبر تھے اور محنت کش وکلاء کو اپنی طاقت کے زور پر احتجاج کے لیے باہر لاتے تھے۔ انہی وکلا نے اب غالب حیثیت اختیار کر لی ہے اور عدالتوں کو مردانہ غلبے اور پیسہ کمانے کی جگہیں بنا دیا ہے۔ اس حد کی جارحانہ مردانہ عصبیت اور پدرسری کا کوئی جواز نہیں کہ ہماری عدالت میں اور سڑکوں پر ہر دو سو مردوں کے مقابلے میں ایک عورت دکھائی دے۔

مجھے خوشی ہے کہ سندھ کے وکیل اب آواز اٹھا رہے ہیں، مگر جب تک ہم ان ’ایلیٹ‘ یا اشرافیہ وکیلوں کو ہٹائیں گے نہیں، جو سندھ کے وکیلوں کی جدوجہد پر مفت کی سواری کر رہے ہیں، یہ شعبہ اسی طرح اقربا پروری، عورت دشمنی اور طاقتور طبقے کے مفادات کے گرد گھومتا رہے گا۔

Tags:

Academic FailureBar PoliticsBar ReformCivic Accountabilitycivic rightsClass InequalityClass PrivilegeColonial LawColonial LegacyConstitutional RightsCourt AccessCourt HierarchyCourt PoliticsCourt ReformCritical Lawcritical thinkingElite captureElite DominationElite LawyersFeminist CritiqueFeminist LawGender ExclusionGender inequalityGender PoliticsHuman DignityHuman Rightsindigenous rightsInstitutional FailureInstitutional PowerJudicial ActivismJudicial BiasJudicial HierarchyJudicial PowerJudicial ReformJudicial StagnationJustice Accessjustice systemland dispossessionLand RightsLand StrugglesLaw SchoolsLawyer CultureLawyer ElitesLawyer MovementsLawyer TrainingLegal AcademiaLegal AuthorityLegal AwarenessLegal BarriersLegal BoundariesLegal CrisisLegal CultureLegal DebateLegal EducationLegal ElitismLegal EthicsLegal FrameworkLegal HistoryLegal IdentityLegal IndustryLegal MarginsLegal MisconductLegal ModernityLegal NarrativesLegal OppressionLegal PatronageLegal PrejudiceLegal ReformsLegal ResistanceLegal StruggleLegal TraumaMale dominanceNepotismPatriarchyPower AbusePower Elitepower imbalancePower PoliticsPower StructuresPrison SystemProperty LawPublic JusticePublic LitigationPublic RightsPublic Voicereal estateRestorative JusticeRights Discourserule of lawSindh Lawyerssocial justiceSocial MovementsSocial PowerState controlState LegitimacyState Powerstate violenceStructural InequityStructural ViolenceWorker Rights
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Sand-and-gravel-mining-within-the-boundaries-of-Khirthar-National-Park-A-game-of-greed
Previous

کھیرتھر نیشنل پارک کی حدود میں ریتی بجری مائننگ: حرص و لالچ کا کھیل

Lyari-and-the-trailer-of-the-Hindi-film-Dharrunde
Next

لیاری اور ہندی فلم ”دھرندر“ کا ٹریلر

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme