جب رکشے والے کے دماغ کا ارادہ نہیں تھا۔۔
رکشے والا خود اپنے آپ پہ ہنس رہا تھا لیکن یہ ہنسی وہ نہیں تھی، جو ہم دوستوں یاروں میں قہقہے لگاتے ہیں۔ یہ اس طرح کا ہنسنا تھا، جیسے اندر سے کوئی بات باہر نکلنے کو مچل رہی ہو، لیکن اس میں آپ کو ڈر ہو کہ بات کہہ دی تو سامنے والا مذاق…