Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

When-the-mind-of-the-rickshaw-puller-did-not-have-the-intention
کالماہم ترینتازہ ترین

جب رکشے والے کے دماغ کا ارادہ نہیں تھا۔۔

By Akhtar Rasool
دسمبر 30, 2023 4 Min Read
0

رکشے والا خود اپنے آپ پہ ہنس رہا تھا لیکن یہ ہنسی وہ نہیں تھی، جو ہم دوستوں یاروں میں قہقہے لگاتے ہیں۔

یہ اس طرح کا ہنسنا تھا، جیسے اندر سے کوئی بات باہر نکلنے کو مچل رہی ہو، لیکن اس میں آپ کو ڈر ہو کہ بات کہہ دی تو سامنے والا مذاق اڑائے گا، اور پھر بالآخر آپ کسی طرح کہہ دیں اور بے فکرے ہو کے ہنسنے لگ جائیں۔

ملتان گیا چند ماہ پہلے، بس اڈے سے گھر جانا تھا۔ پچھلی دو مرتبہ سے یہ ہو رہا تھا کہ ایک ہی رکشے والا اتفاق سے باہر کھڑا ہوتا، اسے راستہ یاد تھا، وہ آٹومیٹک طریقے سے گھر لے جاتا تھا۔ اس مرتبہ وہ نہیں تھا، کوئی نئے صاحب تھے، اُن سے بھاؤ تاؤ کر کے بیٹھ گیا۔

اب جو پہلا فلائے اوور آیا، اس پر سو فیصد اوپر جانا بنتا تھا۔ رکشے والا اس کے عین نیچے سڑک پر چلنا شروع ہو گیا۔

میں حیران کہ راستہ کوئی ہے نہیں دائیں بائیں سے میرے گھر کا، سیدھی سڑک تھی اوپر والی، پھر سوچا شاید اس کے رکشے میں اتنی طاقت نہیں ہوگی کہ پُل پر چڑھ سکے، حالانکہ نیا رکشہ تھا۔

آخر میں نے اس سے پوچھ لیا کہ ’یار سیدھا راستہ تھا، کیا رکشہ چڑھ نہیں سکتا اوپر والی سڑک پر؟ یا گئیرز میں خرابی ہے کوئی؟ مسئلہ کیا ہے، نیچے سے کوئی شارٹ کٹ ہے کیا؟‘

جھینپتے ہوئے ہلکی سے مسکراہٹ سے کہنے لگا ’سر میرے دماغ نے ارادہ نہیں کیا تھا اوپر سے جانے کا۔‘ اس کے بعد ہنسنے لگ گیا۔ میں نے پھر پوچھا کہ ’ارادہ کیا مطلب یار، رکشہ یا گاڑی تو آٹومیٹک چلتے ہیں، بندہ دماغ پہ زور دے کے تھوڑی چلاتا ہے۔‘

ہنستے ہوئے کہنے لگا کہ ’بس سر جی دماغ نے ارادہ نہیں کیا تو میں سیدھا ہی آ گیا، رکشہ میرا نیا ہے، بس ویسے ہی۔‘ پھر میں بھی ہنسنے لگ گیا۔

میں تب سے اب تک یہ سوچ رہا تھا کہ آخر اس بات میں ایسا کیا ہے، جو مجھے نئی سی لگی، عجیب لگی۔ آج خیال آیا کہ یہ شاید رکشے والے کی سادگی تھی اور سچائی تھی جو مجھے روٹین سے ہٹ کے لگی، اچھی لگی۔

کوئی بھی ڈرائیور ہو، اس کے پاس اپنے مطلوبہ راستے سے منزل تک جانے کے لیے سو وجوہات ہوتی ہیں۔ کہیں پہ سگنل زیادہ ہیں، کسی روڈ پہ ٹریفک پھنسا ہوتا ہے، کہیں اسپیڈ بریکر زیادہ ہیں، لیکن یہ والی موج شاید ہی کسی کے پاس ہوتی ہو کہ ’دماغ نے ارادہ نہیں کیا تھا۔‘

مزید آسان لفظوں میں ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اس کا دل نہیں کر رہا تھا اوپر سے جانے کو اور وہ سکون سے نیچے چلتا رہا، میں نے پوچھا تو جھوٹ نہیں بولا مگر اپنی بات کے ٹھیک سمجھے جانے کا اسے بھی یقین نہیں تھا۔

تو خیر اس کے بعد باقی راستے وہ ’بائے ایئر‘ ہی رہا اور سکون سے گھر پہنچ گیا۔ بائے ایئر اس لیے کہا کہ اب الحمدللہ ملتان میں سڑک کم ہے اور پُل زیادہ ہیں تو زیادہ تر سفر بائے ایئر ہی کٹتے ہیں۔

یہ والی سادگی اب شارٹ ہو چکی ہے۔ سیدھی بات پہ کوئی یقین نہیں کرتا شاید اس لیے، یا تفصیلیں بتانا ہماری مجبوری بن چکا ہے اور سیدھی سادی بات کی تفصیل کوئی ہوتی ہی نہیں۔

ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اب ہم لوگ خواہ مخواہ کے متجسس ہو چکے ہیں اور سادی چیز میں بھی پیچیدگی ڈھونڈ کر اس سے مزہ لیتے ہیں۔

ایک چیز کا شکار تو میں بھی ساری عمر رہا، وہ یہ کہ سادی بات عموماً سخت ہوتی ہے، اگر کہہ دی جائے تو لوگوں کے ناراض ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اسے کہنے کے لیے بھی صراطِ مستقیم جیسی کہانی ٹیڑھی میڑھی کر کے بتانا پڑتی ہے۔

آخری چکر جو مجھے سمجھ آتا ہے، وہ یہ کہ ساری باتیں پرانی ہو چکی ہیں۔ انفارمیشن اوورلوڈ اور چوبیس گھنٹے موبائل پنتھی کے بعد سادے نزلے زکام پہ آپ کو چھٹی کیوں ملے گی؟ مثال دے رہا ہوں۔ یونیورسٹی سے اگر آپ نے فلو کا بتا کر چھٹی مانگی تو کون دے گا؟ کچھ مشکل سی، کم پائی جانے والی بیماری بتائیں گے تو پورا ہفتہ بھی آف مل سکتا ہے تاکہ باقیوں میں نہ پھیل جائے۔

تو، وہ رکشے والا، عجب آزاد مرد تھا، مجھے یہ سوچنے پہ مجبور کر گیا کہ سیدھی بات کر دینا زیادہ بہتر ہوتا تو بے شک ہے لیکن اس کے بعد وہ بات ٹھیک سمجھی بھی جائے، یہ پھر قسمت ہی ہے۔

بشکریہ: انڈپینڈنٹ اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

apne mind ko control kaise kare vivek bindracheck details of drivercontrol your mindharbor from the holocausthow to control mindhow to control your mind in hindimind controlreddit let's not meetthese violent delightsthese violent delights book reviewthese violent delights by chloe gongthese violent delights by: chloe gong [full audiobook]these violent delights chloe gongthese violent delights have violent endsthese violent delights review
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Perus-Takanakoy-Festival-where-mutual-disputes-are-settled-by-fighting
Previous

پَیرُو کا ٹَکاناکوئے میلہ، جہاں آپسی جھگڑوں کو لڑ جھگڑ کر نمٹایا جاتا ہے!

The-ruins-of-kingdoms-are-a-lesson
Next

سلطنتوں کے کھنڈرات باعثِ عبرت

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme