کیا سندھ کا بھرم ٹوٹ رہا ہے؟
سندھ، جو دنیا کے اولین تہذیبوں کی ماں، صدیوں سے جنت نظیر سرزمین کہلاتی آئی ہے، آج بےبسی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ وہ سرزمین، جس کی کوکھ سے سندھو تہذیب کا جنم ہوا، جہاں سے انسانیت نے تمدن سیکھا، پہلے اسے عالمی یتیم خانہ بنایا گیا، ڈیموگرافی تبدیل کی گئی، آج…
ندی اور بوڑھا (سنہالی ادب سے منتخب افسانہ)
پچھلے دس یا اس سے بھی کچھ زیادہ سالوں سے، ہر دن بوڑھا زیادہ تر وقت ندی کے کنارے بیٹھا رہتا۔ اُس کی عمر بیاسی برس تھی اور اب اُس نے کام کاج چھوڑ دیا تھا۔ ندی، بالکل اُس کے گھر کے سامنے تھی اور کچھ صدیاں پُرانی تھی۔ اُس کی ساری زندگی اسی ندی…
تاریخ کو عام لوگوں تک کیسے پہنچایا جائے؟
تاریخ بڑی حد تک بھاری بھرکم کتابوں تک محدود تھی مگر جدید دور میں اسے عام لوگوں تک پہنچانے کے لیے رنگارنگ طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ موجودہ دور میں تاریخ اشرافیہ کی قید سے نکل کر عوام تک پہنچ گئی ہے، جس کی وجہ سے عام لوگوں میں تاریخ سے دلچسپی بھی پیدا…
پاکستان میں ذات پات کا نظام
عام خیال یہ ہے کہ ذات پات کا نظام صرف بھارت میں مضبوط رہا ہے، جہاں ہندو مت کے عقائد کے مطابق الوہی طور پر ہندو سماج کی تقسیم برہمن، کھشتری، ویش اور شودر میں ہے، جن میں برہمن کا کام مذہبی رسومات کی ادائیگی، پوجا پاٹ اور مذہبی کتابوں کا علم حاصل کرنا ہے۔…
انڈس ڈیلٹا: سمندر میں غرق ہوتا ایک ورثہ اور سندھو پر نئے کینال
پاکستان کے وسیع و عریض سندھ ڈیلٹا کے ایک چھوٹے سے ماہی گیری گاؤں داندو جیٹی میں ایک کشتی خالی کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری سمندر کے لیے روانگی کے لیے تیار ہے۔ قریب کھڑی ایک کشتی سے سندھی لوک گلوکارہ فوزیہ سومرو کی آواز بلند ہو رہی ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے…
تکلامکان: انسان اور صحرا کی جنگ کی کہانی
ذرا تصور کریں، ایک بے کراں صحرا، جہاں ریت کے طوفان ہر شے کو نگل جاتے ہیں، جہاں زندگی ایک سراب کی مانند دکھائی دیتی ہے، اور جہاں کی ہوائیں انسانی آبادیوں تک خوف کی سرگوشیاں پہنچاتی ہیں۔ یہی تکلامکان ریگستان تھا، ”موت کا خشک سمندر“ ، جس کے بے رحم طوفانوں…
’سندھو جی گونج‘: سندھی سینیما کی نئی بازگشت
فلم ’سندھو جی گونج‘ میں سندھو دریا کے گرد گھومتی چار کہانیاں اور ان سے جڑے کردار سبھی میں سندھو بہتا، ٹھہرتا، تھمتا اور کہیں تھکتا نظر آتا ہے۔ میں نے فلم پر جب لکھنا چاہا تو فلم ناقد اور ’سندھو جی گونج‘ کے ڈسٹری بیوٹر کامران جاوید نے مختصر دورانیے کے…
پھول، مگر مچھ اور زنجیریں (تھائی ادب سے منتخب افسانہ)
اس کی عمر ستائیس اٹھائیس سال کے لگ بھگ ہوگی۔ وہ ایک وجیہہ نوجوان تھا۔ اس کے چہرے پر بظاہر بیماری کے کوئی آثار نہیں تھے۔ نہ اس کا رنگ زرد تھا نہ چہرے پر وحشت کا کوئی نشان بلکہ اس کی آنکھوں سے غیر معمولی ذہانت جھلکیاں مار رہی تھی۔ ہمیں دیکھ کر وہ…