فریبِ نظر (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
آدمی مچھلیوں کی طرف متوجہ تھا۔ مچھلیاں شیشے کے پیچھے ساکت اور معلق تھیں۔ شیشے کے عقب میں ان کے لیے پتھر کی سِلوں کے درمیان ایک تالاب بنایا گیا تھا جو کافی وسیع تھا۔ اس کی منڈیریں ایک دوسرے سے خاصے فاصلے پر واقع تھیں اور یہ فاصلہ نیم تاریکی میں کہیں آگے…
ماں پڑھتی ہے (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
کئی مہنوں بعد گاؤں آیا ہوں۔ماں یہاں اکیلی رہتی ہے۔ آج گھر کا دروازہ کھلا ہے، ورنہ تو ماں صبح سویرے دروازہ بند کر کے باہر کا کام نمٹانے چلی جاتی ہیں۔ صبح کا سارا وقت حویلی میں گزرتا ہے۔جانوروں کو چارا ڈالتے، گائے کا دودھ دھوہتے، گوبر پھینکتے۔ اِس سمے بھی…
شرط (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
ماسکو کی اونچی سوسائٹی کی پارٹی عروج پر تھی۔ میزبان ایک بینک کا مالک تھا۔ مہمانوں میں جرنیلوں، سیاست دانوں اور اعلٰی افسروں کے علاوہ ایک نوجوان وکیل بھی شامل تھا۔ شراب کا دور چل رہا تھا۔ گفتگو نہ جانے کیسے سزائے موت اور عمر قید کی قانونی باریکیوں پر پہنچ…
اداکار کی موت (منتخب افسانہ)
شیانوف ایک لحیم شحیم اداکار تھا۔ اداکاری کے فن میں نہ سہی اپنی جناتی ضخامت کی وجہ سے تھیٹر میں خاصا کامیاب بھی تھا اور سادہ لوح طبیعت کے باعث مقبول بھی۔ دوسرے اداکار اس سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہتے۔ کوئی اس کو گینڈا کہتا۔ کوئی سرکاری سانڈ۔۔ لیکن سب اسے پیار…
ہیں خواب میں ہنوز (کیوبن ادب سے منتخب افسانہ)
1957 کے آس پاس ایک بوڑھا امریکی جوڑا ہوانا شہر میں ہمارا پڑوسی تھا۔ وہ مبالغے کی حد تک کم آمیز تھے۔ ہم دونوں کے گھروں کا ٹیرس مشترکہ تھا، بس درمیان میں کنکریٹ کی ایک چھوٹی سی دیوار تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارا تو راہ چلتے، لفٹ میں یا گھر میں…
یادِ یارِ مہرباں (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
(1) میں سرما کا وہ خشک سویرا کبھی نہیں بھول سکتا، جس دن میرے دادا کے گاؤں سے بوڑھے فڈانگو کی وفات کی خبر آئی۔ بعض اوقات ہم اچھی یا بری خبر سن کر ذرا مختلف رد عمل دکھاتے ہیں۔ فڈانگو کی موت کی خبر میں نے دل سے سنی اور اس سے پہلے کہ…
مجھ سے باتیں کرو! (افسانہ)
اس واہیات گاؤں میں ویسے ہی گنتی کے چند بلب تھے، جو کوتاہ قد دیواروں سے ذرا اوپر ٹِکے، سہمے سہمے انداز میں یوں جھانکتے تھے، جیسے شریف زادیاں گلی سے گذرتے کسی وجیہہ اجنبی نوجوان کو سب سے نظریں بچا کر پردوں کی اوٹ سے جھانکتی ہیں۔۔ ایسے میں جونہی لائٹ گئی،…
شاداب نگر کا چینی بھوت (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
’یار سکندر سچ بتا، اتنا سستا فلیٹ کیسے مل گیا اور وہ بھی شاداب نگر کی پہاڑی پر؟‘ جب علی کے اصرار کرنے پر سکندر نے فلیٹ کی اصل قیمت بتائی، تب اس نے بے صبری سے پوچھا۔ ’ہاں یار جھوٹ تھوڑی بولوں گا تجھ سے اور ویسے بھی باس نے بتایا تھا کہ اپنا…