Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Mahmood Zafar Iqbal
ادباہم ترینتازہ ترین

مجھ سے باتیں کرو! (افسانہ)

By Akhtar Rasool
دسمبر 14, 2023 2 Min Read
0

اس واہیات گاؤں میں ویسے ہی گنتی کے چند بلب تھے، جو کوتاہ قد دیواروں سے ذرا اوپر ٹِکے، سہمے سہمے انداز میں یوں جھانکتے تھے، جیسے شریف زادیاں گلی سے گذرتے کسی وجیہہ اجنبی نوجوان کو سب سے نظریں بچا کر پردوں کی اوٹ سے جھانکتی ہیں۔۔ ایسے میں جونہی لائٹ گئی، اندھیرا کسی مکروہ وِلن کی طرح بھیانک قہقہے لگانے لگا اور اس اماوس زدہ رات میں میرے اندر اندھیرے سے نفرت اور خوف کا جن گویا ‘ہُو ہا ہا ہا’ کرتا بوتل سے باہر آ گیا۔

اندھیرے میں ٹھوکریں کھاتا مَیں ابھی اپنی قسمت کو کوس ہی رہا تھا کہ میرے جیسا شہری بابو اپنے پینڈو دوست کی شادی میں شرکت کرنے اس نحوست زدہ گاؤں میں کیوں چلا آیا۔۔۔ کہ اچانک ایک لالٹین میرے چہرے کے عین سامنے ہَوا میں جُھولنے لگی!

”سیدھے چلتے رہو۔۔۔ وہ سامنے چارپائی ہے۔۔۔ اس پر بیٹھ جاؤ۔۔۔ خبردار مُڑ کر میری طرف نہ دیکھنا ورنہ عمر بھر پچھتاؤ گے!“ اس منمناتی مگر تحکمانہ آواز نے گویا میری عین پشت پر میرے کانوں میں سرد سی سرگوشی کی۔

ایسی آواز تھی کہ مجھے لگا جیسے کسی نے برف کی ڈلی گردن کے پشت سے میرے کالر کے اندر سِرکا ڈالی ہو اور اب وہ ریڑھ کی ہڈی کی سیدھ میں آہستہ آہستہ خوف بن کر میرے وجود کے پاتال میں اُترتی چلی جا رہی تھی۔۔۔

”مجھ سے باتیں کرو!“

”کک۔۔۔ کون سی باتیں۔۔۔ مم۔۔۔ مجھے باتیں نہیں آتیں۔۔۔ لوگ تو میری خاموش طبعی کی وجہ سی مجھ سے کوسوں دُور بھاگتے ہیں!“ مَیں گھگھیا کر بمشکل بولا۔

”خاموش رہے تو بچ نہیں سکو گے۔۔۔ چلو باتیں کرو۔۔۔ عام سی باتیں۔۔۔ ڈھیروں باتیں۔۔۔ وہ جو تم اندر ہی اندر صرف اپنے آپ سے گھنٹوں کرتے ہو۔۔۔ اور کبھی کسی سے نہیں کرتے۔۔۔ ادھر تمہاری باتیں ختم ہوئیں۔۔۔ سمجھو اُدھر تمہاری موت آئی!“ اس جملے نے میرے وجود کو برف کی سلِ میں بدل ڈالا۔

ڈرتے ڈرتے مَیں نے عام، بےتُکی اور بے ربط باتیں شروع کیں۔ بند کھلا تو دھیرے دھیرے روانی خود بخود بڑھنے لگی اور خوف و دہشت کا احساس بتدریج کم ہونے لگا۔ ذات کی خاموش جھیل میں گفتگو کا کنکر پہلی بار گرا تو دائرے سفر کرتے کرتے کناروں سے سر مارنے لگے۔۔ حتیٰ کہ مَیں یہی بھول بیٹھا کہ کہاں اور کس سے ہمکلام تھا۔ برسوں سے میرے اندر جمع باتیں ساون کی شدید برسات کی طرح برس رہی تھیں کہ بے خیالی میں مجھ سے غلطی ہو گئی اور مَیں نے مڑ کر اپنی پشت پر بیٹھے اس اجنبی کو دیکھ لیا!

لالٹین تھامے میری پشت پر بیٹھی ایک دہشتناک کھوپڑی ہنس رہی تھی، نیچے پسلیوں کا گول سا مہیب پنجر، بازوؤں اور ٹانگوں کی طویل ہڈیوں کے سوا اور کچھ نہ تھا!!!

مگر نجانے کیوں مَیں اس ہیبت ناک ڈھانچے سے رتی برابر بھی خوفزدہ نہ ہوا!

”دیکھا۔۔۔ گفتگو چلی تو مَیں تمہارے اندر سے کتنی آسانی سے نکل گیا۔۔۔ ورنہ بائیس برس لگے تھے تب کہیں جا کر صدیوں پہلے میرے بدن سے میری روح آزاد ہوئی تھی!“

”تم۔۔۔ تم کیسے مرے تھے؟“

”خاموشی سے!!!“

Tags:

bedtime storiescomedy storiesdream stories ki dunyafairy tales stories in urduheart touching storieshindi moral storieshindi storiesmoral storiesmoral stories in urdunew stories in urduStoriesstories for kids in urdustories in hindistories in urdustories in urdu newurdu fairy tales new stories 2018urdu fairy tales new stories 2020urdu fairy tales storiesurdu scary storiesUrdu Storiesurdu stories for kids
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

سندھ کے ڈاکو: کلہوڑا دور سے آج تک سندھ کے ہر حکمران کے تاج کا کنکر کیوں بنے رہے؟َ

Pakistan-many-people-went-abroad
Next

سال 2023: پاکستان کے کون سے ضلع سے کتنے افراد بیرون ملک گئے اور ان کا تعلق کس شعبے سے تھا؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme