دیکھو دیکھو کون آیا، ڈار آیا ڈار آیا
مالیاتی ٹائم بم ٹک ٹک کر رہا ہے۔۔ جب خزانے میں پڑے ڈالر کئی مہینوں سے ساڑھے تین سے چار ارب ڈالر کے درمیان جھول رہے ہوں اور آئی ایم ایف بھی شرائط کی گرم ریت پر دوڑا دوڑا کے ہنپا رہا ہو اور دسمبر تک بیرونی قرض خواہوں کو ساڑھے چار ارب ڈالر سود…
جو جاگ رہا ہے، بھاگ رہا ہے
شاید ہی کوئی ہفتہ جاتا ہو جب خبر نہ آتی ہو کہ ترکی یا لیبیا کی سمت سے بحیرۂ روم کے دوسری جانب یونان یا اٹلی جاتے ہوئے غیر قانونی تارکینِ وطن کی ایک اور کشتی ڈوب گئی اور اس میں اتنے افغان، افریقی اور پاکستانی سوار تھے بحیرۂ روم اس وقت دنیا کا سب…
آئی ایم ایف اور بھرا ہوا سگریٹ
گزشتہ ہفتے جو سالانہ وفاقی بجٹ پیش کیا گیا، اس میں یکم جولائی سے کم سے کم ماہانہ تنخواہ پچیس ہزار روپے سے بڑھا کے بتیس ہزار روپے کر دی گئی ہے، جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی اکثریت کے لیے پنشن کی کم ازکم حد ساڑھے آٹھ ہزار روپے ماہانہ سے بڑھا کے دس ہزار روپے…
بگڑتی معیشت، پاکستان جنوبی ایشیا میں افراطِ زر کی سب سے بلند شرح والا ملک!
گزشتہ روز پاکستان کے دفتر شماریات کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس سال مئی میں، 2022ع کے مئی کے مقابلے میں افراطِ زر کی شرح 37.97 فیصد رہی۔ اس عرصے کے دوران پورے جنوبی ایشیا میں کسی بھی دوسرے ملک میں افراطِ زر کی شرح اتنی زیادہ نہیں تھی قبل ازیں گزشتہ…
جب تک چل رہی ہے، چل رہی ہے
ولی عہد عباس خان عباسی نے نواب آف بہاولپور صادق خان پنجم کی زندگی کے آخری دنوں میں پوچھا کہ بابا سائیں کوئی نصیحت جو آگے چل کے میرے کام آئے؟ نواب ضادق خان پنجم نے فرمایا، ”اس شخص سے ہمیشہ ڈرتے رہنا، جو تمہارے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کے ملے۔“ میں نے ایک اور…
مُنے اور اُن کے ابّا
یادش بخیر! منو بھائی نے ادبِ لطیف میں اس اصطلاح کو تبدیل کرنے کا معرکہ سر کیا۔ منو بھائی سے پہلے یہ اصطلاح بھاگوان خواتین استعمال کیا کرتی تھیں۔ میرے ایک کلاس میٹ اور اُن کے بھائیوں نے پاکستان میں جدید ریستوران کی چَین بنائی۔ میرے کلاس فیلو چند سال یہ…
نہ انجن کی خوبی، نہ کمالِ ڈرائیور
کیا اچھا منظر ہے۔ آئین کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر خود آئین مارے خوشی کے جھومنے کے خوف سے کپکپا رہا ہے۔ ریاست جن چار ستونوں پر کھڑی ہے، وہ ستون آئین کا بوجھ نہیں سہار پا رہے۔ ہر ستون سے فرانسیسی شہنشاہ لوئی چہاردہم کا بھوت چمٹ چکا ہے۔ ہر ستون سے آواز…
آپ سے نہیں ہوتا تو ہم عوام پر چھوڑ دیں
پاکستانی اعلیٰ عدلیہ کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں سے سیاسی معاملات میں متنازع، ڈرامائی، افسانوی، ضرورت، وابستگی اور ترجیحات پہ مبنی فیصلے آتے رہے عدلیہ میں کئی ایسے ججز آئے جنہوں نے آئین کے برخلاف فیصلے دیے، کچھ ججز کے فیصلوں کو وسیع تر ذاتی مفاد لے ڈوبا،…