Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

دیکھو دیکھو کون آیا، ڈار آیا ڈار آیا

By Akhtar Rasool
جون 26, 2023 4 Min Read
0

مالیاتی ٹائم بم ٹک ٹک کر رہا ہے۔۔

جب خزانے میں پڑے ڈالر کئی مہینوں سے ساڑھے تین سے چار ارب ڈالر کے درمیان جھول رہے ہوں اور آئی ایم ایف بھی شرائط کی گرم ریت پر دوڑا دوڑا کے ہنپا رہا ہو اور دسمبر تک بیرونی قرض خواہوں کو ساڑھے چار ارب ڈالر سود بمع قسط بھی دینے ہوں تو پھر غصہ آنا، اپنے خون کے گھونٹ خود ہی پینا اور آئی ایم ایف سے مذاکرات کی تازہ ترین صورتِ حال کے بارے میں جاننے پر بضد رپورٹر کو خالی خزانے کے وزیر کی طرف سے جھڑک دینا یا دھکا دینا یا چماٹ جڑنا تو بنتا ہے!

ایک منسوب قولِ علی ہے کہ ”بے وقت کا مذاق دشمنی کا سبب بن سکتا ہے۔“ اور وہ بھی ایک ایسے نازک مرحلے پر، جب آئی ایم ایف کے موجودہ مالیاتی پروگرام کی زندگی کے محض پانچ دن باقی رہ گئے ہوں۔ ہم سب کا اجتماعی فرض ہے کہ ڈار صاحب سے چبھتے سوالات پوچھنے یا بحث میں الجھنے یا پنجے جھاڑ کے پیچھے پڑنے کے بجائے ان کا دل بڑھانے کی کوشش کریں

اگلے پانچ دن ایسے جملے بولنے میں کسی کا کیا جاتا ہے کہ ’ویل ڈن ڈار صاحب، تم جیتو یا ہارو ہمیں تم سے پیار ہے، قدم بڑھاؤ اسحاق ڈار ہم تمہارے ساتھ ہیں، دیکھو دیکھو کون آیا ڈار آیا ڈار آیا، ڈار تیرے جانثار بے شمار بے شمار وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔۔۔

یہ وقت گڑے مردے اکھاڑنے کا ہرگز نہیں۔ بعض دل جلے سوشل میڈیا پر بَک رہے ہیں کہ اتفاق گروپ کے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور شریف خاندان کے سمدھی ہونے کے علاوہ ڈار صاحب نے معیشت بطور مضمون کہاں کہاں سے پڑھا؟

جیسا کہ ان کے پیشرو مفتاح اسماعیل کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہ پرنسٹن یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں۔ اس وقت ایسا سوال ہی اپنی ذات میں چھچھورا ہے اور کسی بھی قومی دردمند کو زیب نہیں دیتا

اس طرح کی دل شکنی کی حوصلہ شکنی وقت کی ضرورت ہے۔ بصورتِ دیگر لوگ باگ خلیجی ممالک سے اگلے چند ماہ میں بیس سے پچیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کھینچنے کے لیے تشکیل دی جانے والی اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے سربراہ شہباز شریف اور ان کے شریکِ کار جنرل عاصم منیر کے بارے میں پوچھنے لگیں گے کہ اکنامکس کا مضمون ایف اے سے پڑھنا شروع کیا یا بی اے میں رکھا تھا؟

روایت ہے کہ نوے کے عشرے میں ایک کابینہ اجلاس شروع ہونے سے پہلے شرکا کے درمیان ہلکی پھلکی گپ شپ ہونے لگی

وزیرِ تجارت ڈاکٹر حفیظ پاشا کے بازو میں بیٹھے ایک اور وفاقی وزیر نے پوچھا، ڈاکٹر صاحب آپ تو ماشااللہ اکنامکس میں اسٹینفورڈ کے پی ایچ ڈی ہیں نا؟ ڈاکٹر صاحب نے اثبات میں سر ہلایا۔ وزیرِ موصوف نے بات آگے بڑھائی۔ ڈاکٹر صاحب مجھ میں اور آپ میں ایک چیز کامن ہے۔ ایف اے میں میرے پاس بھی اکنامکس تھی۔ خوشی ہوئی آپ کا سن کے۔۔۔ (دروغ بر گردنِ راوی)

ایک اور پوسٹ سوشل میڈیا پر تیر رہی ہے، جو غالباً جانے مانے بین الاقوامی ماہرِ معیشت اور سعودی ویژن دو ہزار تیس منصوبے کے ایک صلاح کار عاطف میاں کے کسی پرستار کی ہے

اس نے یہ بے وقت سوال اٹھایا ہے کہ عاطف میاں نے گذشتہ ماہ پاکستانی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے ایک ٹوئٹر تھریڈ میں جو بن مانگے مشورے دیے تھے، اس کا مہذب انداز میں شکریہ ادا کرنے کے بجائے وزارتِ ڈار نے یہ فقرہ کسنا کیوں مناسب سمجھا کہ تھیوری پڑھانے والے ماہرین کیا جانیں کہ عملی معیشت کیسے چلائی جاتی ہے

اس فقرے کا پنجابی ترجمہ کچھ یوں ہوگا کہ ’او جا اوئے، تینوں کی پتہ ککڑی دیا۔۔‘

اگر ہم نے اپنے بظاہر حکمرانوں، اصل حکمرانوں اور وزراِ باتدبیر کی معاشی اہلیت کو اکیڈمک ترازو میں تولنے کی مشقِ لاحاصل جاری رکھی تو کل کلاں کوئی ایسے سوالات اٹھانے والوں سے پلٹ کے یہ بھی پوچھ سکتا ہے کہ یہ جو ہماری یونیورسٹیوں میں ایک سے ایک چیتا پی ایچ ڈی بیٹھا ہے آج تک سامنے آ کے اسحاق ڈار یا دیگر کی طرح سینے پر ہاتھ مار کے کیوں نہیں کہہ پایا کہ ہٹو تم ایک طرف۔ مجھے دو وزارتِ خزانہ کی کمان میں بتاتا ہوں کہ لالٹین کیسے پکڑی جاتی ہے

بینکر شوکت عزیز یا بینکر شوکت ترین کو تو کسی نے نہیں کہا کہ باؤ جی یہ کسی میوچل فنڈ کی مینیجمنٹ نہیں بلکہ قومی معیشت کا جہاز ہے۔ آپ بس تھوک لگا کے نوٹ گنیں یا پھر لیجر بک بیلنس کرنے کا کام کریں۔ ان دونوں شوکتوں نے پاکستان کو کون سا جرمنی بنا دیا۔ وہ بھی آئے گذر گئے۔ یہ بھی گذر جائیں گے

اکبر بادشاہ اور ملکہ الزبتھ بنا سکول گئے آدھی آدھی صدی سے زائد حکمرانی کر گئے تو وزیرِ اعظم یا وزیرِ خزانہ پر کیوں بے فضول تنقید کی جا رہی ہے

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے بھی ایک شخص ایسا گذرا، جو سب کے بارے میں سب سے زیادہ جانتا تھا اور پھر تم نے دیکھا کہ کیا ہوا

مشکل یہ ہے کہ اس ملک میں فی مربع میل دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ ذہین پائے جاتے ہیں۔ ہمیں بس کسی ایک ایسے کی ضرورت ہے جو کامن سنس کا ماہر ہو اور اس ریاست کو بزعمِ خود کی دلدل سے نکال لے۔

بشکریہ: بی بی سی اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

Economic Crisiseconomic crisis in pakistaneconomic crisis pakistanhigh inflation rate in pakistanInflationinflation hike in pakistaninflation in pakistaninflation in pakistan 2022inflation in pakistan newsInflation Pakistaninflation rate in pakistaninflation rate in pakistan increasedinflation rises in pakistanPakistanPakistan Bankruptpakistan bankruptcypakistan bankruptcy situationpakistan crisispakistan crisis newspakistan economic crisespakistan economic crisispakistan economic crisis 2022pakistan economic crisis 2023pakistan economic crisis explainedpakistan economic crisis newspakistan economypakistan economy crisispakistan energy crisispakistan food crisisPakistan Inflationpakistan inflation ratepakistan newsPovertypublic opinion on inflation in pakistanrising inflation in pakistan
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

’بورنگ بلین‘ : ایک ارب سال تک زمین میں دن کا دورانیہ 19 گھنٹے تھا، تحقیق

Next

سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 10)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme