تپتی دھوپ (ترک ادب سے منتخب افسانہ)
بچہ: ”اماں۔۔ اماں! کل صبح سے پہلے مجھے جگا دینا۔“ ”تم پھر نہیں جاگو گے۔“ ”نا جاگوں تو میرے جسم میں سوئی چبھونا، میرے بال کھینچنا، میری پٹائی کرنا۔“ پیلے چہرے والی پتلی دبلی عورت کی سیاہ آنکھوں میں خوشی سے بھرپور چمک دوڑ گئی۔ ”اور اگر تم پھر بھی نہیں جاگے…
یہ مرد (افسانہ)
کسی قسم کے احساس کے بغیر گوبند نے چپ چاپ لکشمی کی چارپائی کے اردگرد پردے لگا دئیے، پردے۔۔۔ جو لکڑی کے فریم میں سفید کپڑا لگا کر بنائے گئے تھے اور حسبِ خواہش کھولے یا بند کیے جا سکتے تھے۔ تب مس سلطانہ اور بکیٹی تیز تیز چلتی ہوئی آئیں اور ان کے بعد…