ملیر دریا پر مسلط ایک شاہراہ
سندھ حکومت نے کل جس منصوبے کا افتتاح ’بھٹو ایکسپریس وے‘ کے نام سے کیا، وہ دراصل وہی متنازع ’ملیر ایکسپریس وے‘ ہے جس کے خلاف گزشتہ کئی برسوں سے ملیر کے مقامی لوگوں، کسانوں، ماہی گیروں، ماحولیاتی کارکنوں، وکلاء، شہری تنظیموں اور سندھ انڈیجینئس رائٹس الائنس…
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (پانچویں قسط)
تؤنگ کے بازار پہنچتے ہی دور دور تک پہاڑوں کے درمیان پھیلی ہوئی ہریالی نے دل موہ لیا۔ کہیں گندم کی فصلیں اور ان کی کٹائی ہو رہی تھی تو کہیں تھریشر چل رہا تھا، اور کہیں پیاز کی فصل تیار کھڑی تھی۔ کچھ مزدور مرد اور عورتیں کھیتوں کے کام میں مشغول تھے، کہیں…
ملیر: زرعی زمینیں اور ثقافتی ورثہ خطرے میں
نام نہاد ”ترقی“ اپنا خراج بہت جلد درختوں اور جنگلی حیات کی سینکڑوں اقسام کو نگل کر وصول کرے گی۔ ان میں سے بعض نایاب اور مقامی اقسام ایسی ہیں جو صرف ملیر کے علاقے میں پائی جاتی ہیں اور جنہیں بالغ ہونے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ مزید برآں، مون سون کے موسم…
ملیر ایکسپریس وے : انسانوں کی بے دخلی اور ماحولیاتی تباہی کی قیمت پر؟
کراچی : پچھلے سال کے آخر میں، کراچی کے ضلع ملیر میں واقع مگسی گوٹھ کے ایک پینتیس سالہ چھوٹے درجے کے کسان، عبدالغفار نے دیکھا کہ سرکاری کارکنوں کا ایک گروپ اس کے محلے میں داخل ہوا ہے اور گھروں، فٹ پاتھوں اور گلیوں کے کونوں کو نشان زد کرنا شروع کر دیا ہے…