ملیر دریا پر مسلط ایک شاہراہ

حفیظ بلوچ

سندھ حکومت نے کل جس منصوبے کا افتتاح ’بھٹو ایکسپریس وے‘ کے نام سے کیا، وہ دراصل وہی متنازع ’ملیر ایکسپریس وے‘ ہے جس کے خلاف گزشتہ کئی برسوں سے ملیر کے مقامی لوگوں، کسانوں، ماہی گیروں، ماحولیاتی کارکنوں، وکلاء، شہری تنظیموں اور سندھ انڈیجینئس رائٹس الائنس نے مسلسل جدوجہد کی ہے۔ یہ صرف ایک سڑک نہیں، یہ کراچی کے آخری قدرتی دریا، اس کے سبز ماحولیاتی نظام، قدیمی بستیوں، زرعی زمینوں، آبی گزرگاہوں اور مقامی آبادیوں کے وجود پر حملہ ہے۔

اس منصوبے کے خلاف صرف احتجاج ہی نہیں ہوئے بلکہ قانونی، ماحولیاتی، تکنیکی اور بین الاقوامی سطح پر بھی مضبوط دلائل دیے گئے۔ عوامی سماعتوں میں اس منصوبے کو مسترد کیا گیا، انوائرمینٹل ٹربیونل میں اس کے خلاف دلائل تسلیم کیے گئے، سندھ ہائی کورٹ میں کیس آج بھی زیرِ سماعت ہے، جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) نے بھی ماحولیاتی اعتراضات کے بعد اس منصوبے سے خود کو الگ کر لیا، لیکن اس سب کے باوجود منصوبہ طاقت، سرمایہ، ریاستی سرپرستی اور سیاسی اثر و رسوخ کے زور پر مکمل کیا گیا۔

سب سے افسوسناک کردار ان مقامی منتخب نمائندوں کا رہا جو ملیر اور کراچی کے عوام کے ووٹ لے کر ایوانوں تک پہنچے لیکن دریا، زمین، پانی، ماحولیات اور مقامی آبادیوں کے وجود پر حملے کے خلاف خاموش رہے۔ جن لوگوں کو ملیر کی آواز بننا تھا وہ اقتدار، مفادات اور سیاسی وفاداریوں کے درمیان کہیں گم ہو گئے۔

ملیر دریا صرف ایک برساتی نالہ نہیں۔ یہ کراچی کا سب سے بڑی قدرتی دریا ہے جسے صدیوں سے ’دریائے ملیر‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کھیرتھر کے پہاڑوں سے آنے والے پانی کو سمندر تک پہنچانے والا یہی قدرتی راستہ زیرِ زمین پانی کو ری چارج کرتا، زراعت کو زندہ رکھتا، درختوں اور جنگلی حیات کو سہارا دیتا اور شہر کو ماحولیاتی توازن فراہم کرتا رہا ہے۔

ملیر دریا، لیاری، تھدو اور لَٹ ندی جیسے قدرتی آبی راستے کراچی کو سیلابی تباہ کاریوں سے بچاتے تھے، لیکن گزشتہ دہائیوں میں ان دریاؤں پر ہاؤسنگ اسکیمیں، سڑکیں، بائی پاس اور کنکریٹ تعمیرات مسلط کر دی گئیں۔ ماہرین مسلسل خبردار کرتے رہے ہیں کہ قدرتی آبی گزرگاہوں کو بند کرنے کا نتیجہ شہری سیلاب، شدید ماحولیاتی بحران، گرمی کی شدت میں اضافے اور پانی کی قلت کی صورت میں نکلے گا۔

ملیر ایکسپریس وے منصوبہ تقریباً 39 کلومیٹر طویل شاہراہ کے طور پر متعارف کروایا گیا، جس کا بنیادی مقصد ڈیفنس اور کراچی کے پوش علاقوں کو شہر کے مضافاتی ہاؤسنگ پراجیکٹس، خصوصاً بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے سٹی سے جوڑنا تھا۔ لیکن بنیادی سوال یہ تھا:
کیا کراچی کو واقعی ایک اور ”ایلیٹ کوریڈور“ کی ضرورت تھی یا شہر کو اپنے دریاؤں، سبز علاقوں، پانی کے ذخائر اور مقامی آبادیوں کے تحفظ کی؟

ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر کے لیے انوائرمینٹل امپیکٹ اسسمنٹ (EIA) پر اعتراضات

 

اس منصوبے پر عملی کام اُس وقت شروع کر دیا گیا جب اس کی انوائرمینٹل امپیکٹ اسسمنٹ (EIA) ہی موجود نہیں تھی۔ سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 2014 کے تحت کسی بھی بڑے ترقیاتی منصوبے پر تعمیراتی کام شروع کرنے سے پہلے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ (EIA) کرانا قانونی طور پر لازمی ہے۔ قانون کے مطابق EIA صرف ایک رسمی رپورٹ نہیں بلکہ ایک مکمل قانونی عمل ہے، جس میں منصوبے کے ماحولیاتی، سماجی، آبی، زرعی اور انسانی اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے۔
اس عمل کے تحت عوامی سماعت بھی لازمی ہوتی ہے تاکہ متاثرہ مقامی آبادی، ماہرین، شہری تنظیمیں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز اپنے اعتراضات اور تجاویز پیش کر سکیں۔ اگر عوامی سماعت میں سنجیدہ اعتراضات سامنے آئیں تو قانون کا تقاضا ہے کہ ان اعتراضات کا جائزہ لے کر ای آئی اے رپورٹ میں ضروری تبدیلیاں کی جائیں اور شفاف طریقے سے اس عمل کو مکمل کیا جائے۔ اس کے بعد ہی منصوبے کی منظوری، بڈنگ، کنٹریکٹنگ اور تعمیراتی عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔

________________________

________________________

لیکن ’بھٹو ایکسپریس وے‘ منصوبے میں یہ پورا عمل الٹ ترتیب میں کیا گیا۔ اس منصوبے کا افتتاح اور ابتدائی تعمیراتی سرگرمیاں دسمبر 2020 میں شروع کر دی گئیں، جبکہ ای آئی اے کے لیے عوامی سماعت مارچ 2022 میں منعقد کی گئی۔ یعنی منصوبے پر کام پہلے شروع ہوا اور ماحولیاتی منظوری بعد میں حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، جو سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 2014 کی روح اور قانونی تقاضوں دونوں کی واضح خلاف ورزی تھی۔

سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) کی عوامی سماعت کے دن اس منصوبے کے خلاف سب سے بڑا قانونی اعتراض یہی تھا کہ پورا ماحولیاتی عمل پہلے ہی بے معنی بنایا جا چکا تھا، کیونکہ منصوبہ زمین پر نافذ ہو چکا تھا۔ درخواست گزاروں اور ماحولیاتی ماہرین نے مؤقف اختیار کیا کہ جب ایک منصوبہ عملی طور پر شروع ہو جائے تو اس کے بعد ہونے والی عوامی سماعت محض ایک رسمی کارروائی رہ جاتی ہے، کیونکہ ایسے حالات میں عوامی مشاورت، قانونی احتساب اور متبادل تجاویز کی اصل حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔

اعتراضات میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ تقریباً 800 صفحات پر مشتمل ای آئی اے رپورٹ انگریزی زبان میں انتہائی محدود وقت کے لیے عوام کے سامنے رکھی گئی۔ متاثرہ مقامی آبادیوں کو نہ مناسب وقت دیا گیا اور نہ ہی رپورٹ کو مقامی زبانوں میں فراہم کیا گیا۔ اس کے باوجود ملیر کے نوجوانوں، ماہرین ماحولیات، شہری تنظیموں، وکلاء اور انڈیجینئس لیگل کمیٹی کے اراکین نے محدود وقت میں رپورٹ کا جائزہ لے کر تفصیلی اعتراضات جمع کروائے۔

ان اعتراضات میں واضح کیا گیا کہ منصوبہ ملیر دریا کے قدرتی بہاؤ، زیرِ زمین پانی کے نظام، جنگلی حیات، حیاتیاتی تنوع، زرعی زمینوں اور مقامی ایکوسسٹمز کو شدید نقصان پہنچائے گا۔ یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملیر دریا سے بڑے پیمانے پر ریتی اور بجری نکالنے کا عمل پورے کراچی کے ماحولیاتی توازن کو تباہ کرے گا اور شہری سیلاب کے خطرات میں اضافہ کرے گا۔

دلائل میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ منصوبہ کراچی اور ملیر کی انڈیجینئس آبادیوں، قدیمی گوٹھوں، مقامی ثقافت، روزگار اور زمین سے تاریخی وابستگی کو ختم کرنے کا باعث بنے گا۔ متعدد گوٹھوں کی بے دخلی، زرعی زمینوں کی تباہی اور مقامی لوگوں کے معاشی و ثقافتی خاتمے کے خدشات بھی واضح کیے گئے۔ مزید برآں ہائیڈرولوجیکل اسٹڈیز کو ناکافی اور غیر شفاف قرار دیا گیا جبکہ یہ اعتراض بھی اٹھایا گیا کہ ای آئی اے رپورٹ میں کئی اہم ماحولیاتی اور سماجی اثرات کو کم ظاہر کیا گیا یا مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔

عوامی سماعت کے دوران مقامی افراد، ماہرین ماحولیات، شہری تنظیموں اور قانونی ماہرین کی جانب سے منصوبے کو واضح طور پر مسترد کیا گیا اور ’سیپا‘ و منصوبہ پیش کرنے والے ادارے عوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ اس کے باوجود انہی اعتراضات کو نظر انداز کرتے ہوئے منصوبے کو منظوری دے دی گئی، جسے درخواست گزاروں نے ماحولیاتی قانون، شفافیت اور عوامی مشاورت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔

ملیر ایکسپریس وے، جہنم کی شاہراہ: جس کی قیمت ملیر کو چکانی پڑے گی

 

ستم ظریفی یہ ہے کہ انوائرمینٹل ٹربیونل میں منصوبے کے خلاف خدشات اور دلیلیں تسلیم کی گئیں لیکن منصوبہ برقرار رکھا گیا۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ اس منصوبے کے خلاف سندھ انوائرمینٹل پروٹیکشن ٹربیونل میں اپیل دائر کی گئی۔ سماعت کے دوران درخواست گزاروں کی متعدد قانونی اور ماحولیاتی دلیلیں درست تسلیم کی گئیں۔ ٹربیونل نے خود اس منصوبے پر کئی شرائط عائد کیں اور نگرانی کمیٹی بنانے کا حکم دیا۔ لیکن حیران کن طور پر تمام اعتراضات تسلیم کرنے کے باوجود منصوبے کو اسی گھسے پٹے آخری حربے ”پبلک انٹرسٹ“ کے نام پر جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی۔

یہ وہ لمحہ تھا جہاں سوال صرف ماحولیات کا نہیں رہا بلکہ انصاف کے تصور کا بھی بن گیا۔ اگر قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو جائے، اگر ماحولیاتی نقصان تسلیم ہو جائے، اگر عوامی اعتراضات جائز مان لیے جائیں تو پھر عوامی مفاد اور ’پبلک انٹرسٹ‘ آخر کس کا نام ہے؟

اس فیصلے کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا، جہاں کیس آج بھی زیرِ سماعت ہے اور گرین چیمبر کے وکلاء یہ قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ای آئی اے منظوری قانونی تقاضوں اور ماحولیاتی قوانین کے برعکس دی گئی۔ یہ کیس صرف ایک سڑک کا مقدمہ نہیں بلکہ یہ سوال ہے کہ کیا ریاست ترقی کے نام پر کسی دریا کو ختم کر سکتی ہے؟ کیا مقامی آبادیوں کی رضامندی کے بغیر ان کی زمینیں لی جا سکتی ہیں؟ کیا ماحولیات کو صرف ایک Formal Requirement بنا دیا گیا ہے؟

ان بیشتر سوالوں کا جواب ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کی جانب سے ہاتھ کھینچ لینے کے اسباب سے واضح ہو جاتا ہے۔ اس منصوبے کے خلاف ایک اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب سندھ انڈیجینئس رائٹس الائنس کی قانونی ٹیم، پروفیسر ایڈووکیٹ عبیرا اشفاق نے ملیر کے انڈیجینئس زمینداروں عظیم دھکان اور اسلم بلوچ کی جانب سے ایشیائی ترقیاتی بینک میں شکایت دائر کی۔
شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ منصوبہ اے ڈی بی کے ماحولیاتی اور سماجی تحفظ کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ مزید یہ کہ مقامی آبادیوں سے شفاف مشاورت نہیں کی گئی،ماحولیاتی اثرات کو کم ظاہر کیا گیا، منصوبہ مقامی لوگوں کی بے دخلی اور ماحولیات کی تباہی کا باعث بنے گا۔ ان خدشات پر اے ڈی بی کی ٹیم نے منصوبے کا جائزہ لیا اور بعد ازاں بینک نے اس منصوبے سے خود کو الگ کر لیا۔ یہ دراصل عالمی سطح پر اس منصوبے کے خلاف ایک بڑی اخلاقی اور ماحولیاتی چارج شیٹ تھی۔

دسمبر 2020 سے لے کر آج تک ملیر ایکسپریس وے / شاہراہ بھٹو کے نام پر ملیر دریا میں ریتی اور بجری کی بے دریغ کھدائی جاری ہے۔ یہ معاملہ صرف ماحولیاتی نقصان تک محدود نہیں بلکہ وسائل کی منظم لوٹ مار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر ملیر کے بیانات بھی میڈیا میں آ چکے ہیں، مگر اس کے باوجود یہ سلسلہ رکا نہیں۔ عدالتی آبزرویشنز، میڈیا رپورٹس اور عوامی احتجاج کے باوجود دریا کی لوٹ مار مسلسل جاری رہی۔

اس بے قابو کھدائی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملیر جیسے سرسبز علاقے میں زیرِ زمین پانی خطرناک حد تک متاثر ہوا۔ کئی علاقوں میں پانی کا TDS چار ہزار سے تجاوز کر چکا ہے، جو نہ صرف پینے بلکہ روزمرہ استعمال کے لیے بھی خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ وہ پانی جو کبھی زندگی تھا، اب زہر بنتا جا رہا ہے۔

مزید برآں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹس میں بھی اس منصوبے کو سنگین مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کی مثال قرار دیا گیا، لیکن ان الزامات کی آزادانہ تحقیقات کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کی گئی۔

اس شاہراہ کے اطراف زمینوں کی لیز، قبضوں اور رئیل اسٹیٹ مفادات کا ایک نیا سلسلہ بھی مسلسل پھیل رہا ہے۔ خدشہ ہے کہ آنے والے وقت میں انہی لیزوں اور منصوبوں کے نام پر مقامی آبادیوں پر مزید دباؤ اور بے دخلی کی یلغار ہوگی۔

دوسری جانب ملیر دریا میں ریتی بجری کی کھدائی کے ساتھ ساتھ درختوں اور جنگلات کی کٹائی بھی تیز ہو چکی ہے۔ ادارہ جاتی سرپرستی میں جاری یہ عمل ملیر کے قدرتی ماحولیاتی نظام کو تباہی کے دہانے پر لے آیا ہے۔

کبھی ملیر دریا مون سون سے لے کر اپریل اور مئی تک چشموں کی صورت میں بہتا رہتا تھا، جو جنگلی حیات، زراعت اور مقامی آبادیوں کی پانی کی ضروریات پوری کرتا تھا، لیکن اب بارشوں کے کچھ عرصے بعد ہی دریا خشک ہونے لگا ہے، اور یہ کسی ایک موسم کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک سنگین ماحولیاتی انہدام کی علامت ہے۔

اگر لالچ کی پٹی آنکھوں سے اتار کر دیکھا جائے تو کراچی کے مستقبل پر خطرات منڈلاتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ تب ترقی کے نام پر ٹباہی کا مطلب بھی سمجھ میں آتا ہے۔ 2025 کی بارشوں میں ملیر ایکسپریس وے کے بعض حصوں کے متاثر ہونے اور پانی کے قدرتی بہاؤ کے دوبارہ ابھرنے نے ان خدشات کو مزید تقویت دی کہ دریا کو کنکریٹ سے قابو کرنے کی کوششیں زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتیں۔ ماہرین خبردار کر چکے ہیں کہ ملیر دریا کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ شہری سیلاب میں اضافہ کرے گی۔ دریا کے ریور بیڈ میں اتنی بڑی شاہراہ تعمیر کرنے سے دریا کے دوسرے کنارے موجود گاؤں اور زرعی زمینیں سیلابی پانی سے تباہ ہو سکتی ہیں۔ زیرِ زمین پانی کی ری چارجنگ مزید متاثر ہوگی۔ گرمی کی شدت بڑھے گی۔ کراچی کا ماحولیاتی انہدام مزید تیز ہو سکتا ہے۔ لیکن کیا کیا جائے کہ صرف آنکھوں پر لالچ کی پٹی ہی نہیں بندھی، کانوں میں بے حسی کی روئی بھی ٹھنسی ہوئی ہے!

یہ منصوبہ دراصل اُس ترقیاتی ماڈل کی علامت ہے جہاں: دریا ”خالی زمین“ سمجھے جاتے ہیں، جنگلات ”ریئل اسٹیٹ“ بن جاتے ہیں، صدیوں سے آباد مقامی لوگ اور زمیں زادے ”رکاوٹ“ تصور کیے جاتے ہیں، اور ماحولیات کو کوئی ” دور پرے کی اور غیر متعلقہ چیز“ سمجھا جاتا ہے۔

سوال ابھی باقی ہے ـ کوئی بھی باشعور انسان ترقی، انفراسٹرکچر یا شاہراہوں کا مخالف نہیں ہو سکتا۔ سوال سڑک بنانے کا نہیں، سوال یہ ہے کہ ترقی کس قیمت پر کی جا رہی ہے؟ اپنے ہی بنائے گئے ماحولیاتی اور قانونی اصولوں کو روندتے ہوئے، ایک زندہ دریا کے پورے ایکو سسٹم کو تباہ کرتے ہوئے، ملیر دریا سے خلافِ قانون ریتی اور بجری نکالتے ہوئے، زمیں زادوں کی صدیوں پر محیط لوک دانائی، فہم و فراست اور مقامی علم کو نظر انداز کرتے ہوئے، ملیر کے گرین بیلٹ، زرعی زمینوں، زیرِ زمین پانی، جنگلی حیات اور مقامی آبادیوں کے وجود کو خطرے میں ڈال کر آخر کس قسم کی ترقی مسلط کی جا رہی ہے؟
اگر واقعی مقصد عوامی فلاح اور ترقی تھا تو پھر مقامی انڈیجینئس کمیونٹیز کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا؟ ماحولیاتی قوانین کی پابندی کیوں نہیں کی گئی؟ شفاف مشاورت کیوں نہیں ہوئی؟ اور اس منصوبے کو اس عجلت میں مکمل کرنے کی ضرورت آخر کیوں پیش آئی؟ تو آخر یہ سوال کیوں نہ پیدا ہو کہ کیا یہ ترقی کراچی اور ملیر کے لوگوں کے لیے تھی؟ یا پھر دریا، زمین اور ماحولیات کی قیمت پر مخصوص سرمایہ دارانہ مفادات کو راستہ دینے کے لیے؟

بھٹو ایکسپریس وے کا افتتاح ہو سکتا ہے۔ کنکریٹ بچھایا جا سکتا ہے۔ نام تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن تاریخ یہ ضرور یاد رکھے گی کہ اس منصوبے کے خلاف ملیر کے لوگوں نے آواز اٹھائی تھی۔ کسانوں نے، نوجوانوں نے، ماحولیاتی کارکنوں نے، وکلاء نے، دانشوروں نے اور انڈیجینئس کمیونٹیز نے اس شہر کے دریا، زمین اور مستقبل کے لیے مزاحمت کی تھی۔ کیونکہ سوال صرف ایک ایکسپریس وے کا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کراچی آخر کس کے لیے تعمیر کیا جا رہا ہے؟ لوگوں کے لیے؟ یا طاقتور سرمایہ دارانہ منصوبوں کے لیے؟

__________________________

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button