حاجی مراد (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
حاجی مراد نے اپنی دکان کے چبوترے سے نیچے چھلانگ لگائی، اپنے لباس کی سلوٹوں کو درست کرتے ہوئے چاندنی رنگ کا کمربند مضبوط کیا، مہندی لگی داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور اپنے شاگرد حسن کو آواز دی۔ پھر دونوں نے مل کر دکان بند کی۔ اس کے بعد حاجی مراد نے اپنی جیب سے…
قبرستان کا رشتہ (فرینچ ادب سے منتخب افسانہ)
پانچوں دوست اپنی دعوت کے اختتام پر تھے۔ وہ سب اس خبر کے ادھیڑ عمر رؤسا تھے۔ ان میں سے دو کنوارے اور تین شادی شدہ تھے۔ وہ اپنی جوانی کی یادوں کو تازہ رکھنے کے لیے مہینے میں ایک دفعہ یکجا ہوا کرتے تھے، پہلے طعام کا انتظام ہوتا تھا اور اس کے بعد…
قیدی کی وردی (مصری ادب سے منتخب افسانہ)
گاڑی کی آمد کا وقت قریب آیا تو ریلوے اسٹیشن زقازیق پر سب سے پہلے پہنچنے والا شخص حجشہ سگرٹ فروش تھا۔ وہ بجا طور پر ریلوے اسٹیشن کو اپنی چلتی منڈی تصور کرتا تھا اور بے مثال پھرتی کے ساتھ پلیٹ فارم پر گھومتے ہوئے اپنی چھوٹی چھوٹی جہاں دیدہ آنکھوں سے گاہکوں…
آخری فرار
کروڑ پتی مجرم کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔۔ اور اس سزا پر عمل درآمد کے لیے اسے شہر سے دور دراز ایک گمنام جزیرے کی جیل میں قید کر دیا گیا تاکہ وہ اپنی دولت یا اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے فیصلے پر اثر انداز نہ ہو سکے۔ کروڑ پتی مجرم…
دوسری عورت (عربی افسانہ)
طلال نے یونیورسٹی کے آخری سمسٹر تک اپنی کزن کے بارے میں نہیں بتایا اور نہ ہی کبھی یہ عندیہ ظاہر کیا کہ وہ اس کے ساتھ شادی کرے گا۔ یہ بات اس نے اس وقت ظاہر کی، جب ہم نتیجے کا انتظار کر رہے تھے اور اس کے بعد عملی زندگی کی کٹھنائیوں کا…
اگرتم ایک گھوڑے ہوتے۔۔۔ (افسانہ)
”اگر تم ایک گھوڑے ہوتے تو میں گولی مار کر۔۔ تمکارا۔۔ بھیجا۔۔۔ اڑا دیتا۔۔۔“ ایک گھوڑا ہی کیوں؟ کوئی اور جانور کیوں نہیں۔۔کتا، بلی، چوہا یا کوئی بھی دوسرا جانور ہوتا تو گولی اس کی کھوپڑی سے بھی گزر سکتی تھی۔ ہوش سنبھالتے ہی جو پہلی آواز اس کی سماعتوں سے…
ایک مصری علامتی کہانی!
جس سال ملک میں تبدیلی آئی اور لوگوں نے امید کی کہ اب زندگی بہتر ہو جائے گی، انہی دنوں اس گھر کے حالات بگڑ گئے۔ ان کے پاس کھانے کو کچھ نہیں رہا، ماں کی چھاتیاں خشک ہو گئیں اس نے خاندان کے سربراہ سے کہا کہ وہ صورتحال ٹھیک ہونے تک آرام سے…
الٹی شلوار (افسانہ)
“صاب اب میرا کام ہو جائے گا نا۔۔۔“ اس نے دیوار کی طرف رُخ موڑا اور تیزی سے کپڑے پہننے لگی ”ہاں ہاں بھئی۔۔۔“ میری سانسیں ابھی بھی بے ترتیب تھیں ”پھر میں پیسے لینے کب آؤں؟“ دوپٹے سے اس نے منہ پونچھا اور پھر جھٹک کر لپیٹ لیا ”پیسے ملنے تک تمہیں ایک دو…