ماں بولی (حصہ ششم)
ماں بولی کے اس پڑاؤ میں ہم بات کریں گے برصغیر میں زبان، اقتدار اور تاریخ کی، اور اس حصے میں قدیم ہندوستان سے تقسیم تک کا ذکر کریں گے۔ زبان کبھی محض الفاظ کا مجموعہ نہیں رہی۔ انسانی تاریخ میں زبان ہمیشہ طاقت، علم اور اختیار کے ساتھ جڑی رہی ہے۔ جس کے پاس…
ماں پڑھتی ہے (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
کئی مہنوں بعد گاؤں آیا ہوں۔ماں یہاں اکیلی رہتی ہے۔ آج گھر کا دروازہ کھلا ہے، ورنہ تو ماں صبح سویرے دروازہ بند کر کے باہر کا کام نمٹانے چلی جاتی ہیں۔ صبح کا سارا وقت حویلی میں گزرتا ہے۔جانوروں کو چارا ڈالتے، گائے کا دودھ دھوہتے، گوبر پھینکتے۔ اِس سمے بھی…
نیم ایڈریس پلیٹ (ہندی ادب سے ایک افسانہ)
’’کیا نام تھا اس کا؟ اُف بالکل یاد نہیں آ رہا ہے۔۔‘‘ کیدارناتھ نے اپنے اوپر سے لحاف ہٹا کر پھینک دیا اور اٹھ کر بیٹھ گئے۔ ’’یہ کیا ہو گیا ہے مجھے۔۔ ساری رات بیت گئی، نیند ہی نہیں آرہی ہے۔۔ ہوگا کچھ نام وام۔۔ نہیں یاد آتا تو کیا کروں، لیکن نام تو…
نل کی پیاس (منتخب افسانہ)
یہ چھ فیٹ کشادہ ایک گلی ہے، بالکل پختہ، جس میں داخل ہوتے ہی ایک ٹیوب ویل سے ٹکرانا پڑتا ہے جو اب کام نہیں کرتا۔ یہ گلی سرخ پرچم کا ایک ناقابلِ شکست گڑھ ہے۔ الیکشن کے دنوں میں یا پارٹی کی برسی کے موقعے پر یا کسی بڑے نیتا کی آمد پر اکثر…
سندھ میں 52 ہزار ایکڑ زمین فوج کی حمایت یافتہ فرم کے حوالے
سندھ کی صوبائی نگران حکومت نے قوم پرست جماعتوں کے تحفظات اور مخالفت کے باوجود فوج کی حمایت یافتہ کمپنی کے ساتھ باضابطہ طور پر ایک ایسا معاہدہ کر لیا ہے، جس کے تحت اسے چھ اضلاع میں باون ہزار ایکڑ سے زائد زمین کارپوریٹ فارمنگ کے لیے دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی ( آخری قسط)
سندھو اپنی بات جاری رکھتا ہے ”اگر میں یہ کہوں کہ اجرک اور سندھی ٹوپی سندھی ثقافت کی پہچان ہیں تو ہر گز غلط نہ ہوگا۔ اجرک مختلف رنگوں کی بلاک پرنٹنگ شال کا ایک ایسا امتزاج ہے جو سندھی ثقافت کا نمایاں جزو ہے۔ دراصل یہ ساڑھے چار ہزار سال پرانے بلاک پرنٹنگ…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط62)
سندھو بتاتا ہے ”معصوم شاہ مینار کے علاوہ میرے کنارے 1934ء میں تعمیر کی گئی کنہیا لال کوٹج (آج کی ملک حویلی) اپنے منفرد طرزِ تعمیر کی وجہ سے دور سے ہی پہچانی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر قابلِ ذکر مقامات میں ہندو راج کی عمارات کالی دیوی کا آستان، سادھ…
دوسری گلی کا کُتا (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
دنیا کا نقشہ اپنے سامنے میز پر پھیلائے، انگلیوں میں پنسل تھامے، وہ بہت دیر سے کچھ ڈھونڈ رہا تھا یا سوچ رہا تھا، کبھی کبھی پنسل نقشے پر بنی لکیروں کے اوپر ہی اوپر راستہ ڈھونڈتے بہت دور تک نکل جاتی اور پھر اسے یوں لگتا، جیسے پنسل کے ساتھ اس کا ذہن بھی…