یورپی سیاح اور اسلامی دنیا
اسلام اور مسیحیت میں ابتداء ہی سے تصادم اور اشتراک کا عمل رہا ہے۔ مسلمانوں کی پہلی فتوحات میں، جن ملکوں پر قبضہ کیا گیا، وہ بازنطینی سلطنت کا حصہ تھے، جو مسیحیوں کے آرتھوڈوکس فرقے سے تعلق رکھتے تھے۔ 712 عیسوی میں مسلمانوں نے جنوبی اسپین یا اندلس پر قبضہ…
مؤرّخ اور ہم عَصر تاریخ
مورخ کے لیے ہم عصر تاریخ کا لِکھنا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ وہ جذباتی طور پر اپنی پسند اور ناپسند کا اظہار کرتا ہے۔ رومی مورخ ٹیسیٹس (AD56) نے اگسٹس (14 AD) اور اُس کے بعد کے حکمرانوں کی تاریخ لِکھتے ہوئے رومی سلطنت کی کمزوریوں کو بیان کیا ہے۔ اس موضوع پر…
جنگوں میں ہاتھیوں کے استعمال کی تاریخ
یوں تو ہاتھی بھاری بھرکم، سُست، کاہل اور شریف سا جانور لگتا ہے، جو نہ تو بہت تیز بھاگ سکتا ہے، نہ کسی وار سے بچنے کے لیے فوری جھک سکتا ہے اور نہ ہی پھرتی کے ساتھ سامنے سے ہٹ سکتا ہے۔۔ لیکن پھر بھی ہاتھیوں کو زمانہِ قدیم میں اہم جنگی ہتھیار کے…
ایک انتہائی سبق آموز کہانی کا دوسرا رخ
زندگی میں سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے، بس آپ کو سبق سکھانے والا استاد ہونا چاہیے۔ آنکھ کا کُھلنا کیسا ظالم سبق ہے۔ نہ کھلے آنکھ، ہیں جی؟ پھر کیا ہوگا؟ کھلے اور بند ہو جائے اور پھر نہ کھلے؟ کھل جائے اور سامنے کوئی بھیانک منظر ہو۔ تو نارمل حالات میں آنکھ…
خلائی گاڑی پارکر کا چھ سالہ تاریخی سفر اختتام کے قریب، جس کی منزل دہکتا سورج ہے!
امریکی خلائی ادارے ناسا کا ایک راکٹ گزشتہ پانچ برس سے سورج کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سائنسدانوں کو توقع ہے کہ اس سال کے آخر میں وہ اپنا 96 فی صد سفر مکمل کر کے سورج کے انتہائی قریب پہنچ کر اس کی بیرونی فضا میں داخل ہو جائے گا۔ یہ اتنا ہی اہم…
جاپانیوں میں تعظیماﹰجھکنے کی رسم کی تاریخ اور پسِ منظر
جاپانی لوگوں نے تقریباً پانچ سو سے آٹھ سو سال پہلے جھکنا شروع کیا تھا جب چین سے بدھ مت متعارف ہوا تھا۔ اس زمانے میں جھکنا درجہ کی علامت تھا۔ مثال کے طور پر، جو لوگ اونچے درجے کے لوگوں کو سلام کرتے ہیں وہ اپنے آپ کو نیچی حالت میں ظاہر کرتے ہیں…
امریکہ میں آقا، ملازم اور غلام
1620 میں پیورٹین فرقے کے لوگ امریکی ریاست میساچوسٹس میں آ کر آباد ہوئے تاکہ یہاں وہ اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزاریں۔ ان کی تعداد کم تھی جبکہ زمین وافر مقدار میں تھی، اس لیے انہیں نئے آبادکاروں کی ضرورت تھی جو ان کی روزمرہ کی ضروریات کو بڑھائیں۔ اس…
’امریکہ تو ہے ہی گھٹیا، مگر آپ کیا ہیں؟‘
اگر ’آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت‘ کے توریتی اصول پر ہی انتقام لیا جاتا تو بھی بارہ سو کے بدلے بارہ سو جانوں کا کفارہ بنتا ہے۔۔ مگر جب نشہ ہی طاقت کا ہو اور باز پرس سے مکمل چھوٹ بھی ہو اور مقصد بدلے کے بجائے مکمل نسلی بیخ کُنی…