Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

’امریکہ تو ہے ہی گھٹیا، مگر آپ کیا ہیں؟‘

By Akhtar Rasool
دسمبر 11, 2023 4 Min Read
0

اگر ’آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت‘ کے توریتی اصول پر ہی انتقام لیا جاتا تو بھی بارہ سو کے بدلے بارہ سو جانوں کا کفارہ بنتا ہے۔۔ مگر جب نشہ ہی طاقت کا ہو اور باز پرس سے مکمل چھوٹ بھی ہو اور مقصد بدلے کے بجائے مکمل نسلی بیخ کُنی ہو اور غصہ کھوپڑیوں کے مینار بنائے بغیر اترنا محال ہو تو تمام الہامی احکامات بھی دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔

یقین نہ آئے تو عصرِ حاضر کے چنگیزوں اور ہٹلروں کے گُرو ہنری کسنجر کا تصدیقی قول سن لیجیے کہ ’طاقت کا نشہ قوتِ مردانہ سے بھی زیادہ سکون آور ہے۔‘

بارہ سو جانوں کو اٹھارہ ہزار انسانوں کے قتل پر تقسیم کر کے دیکھ لیں۔ فی جان کا بدلہ پندرہ لاشیں بنتی ہیں اور ابھی یہ خونی جمع ضرب تفریق مسلسل جاری ہے۔ لاشیں اس قدر گرتی چلی جا رہی ہیں کہ تخمینے کا بھی سانس پھول رہا ہے۔

نازیوں کی ’فائنل سلوشن‘ والی تھیوری اس کے سوا کیا تھی کہ ایک پوری کی پوری مخصوص نسل ہی تمام سیاسی، اقتصادی و سماجی خرابیوں کی جڑ ہے، لہٰذا سزا بھی اجتماعی بنتی ہے۔

وہ بوڑھا بھی قصور وار ہے جو یہ مطعون نسل بڑھانے کا ذمہ دار ہے۔ وہ عورت بھی خطا وار ہے، جس نے اس بچے کو جنا کہ جو ہوش سنبھالتے ہی اس سزا وار گروہ کے مزید وارث پیدا کرے گا۔ لہٰذا ان سب کا ایک ہی علاج ہے، گیس چیمبرز۔۔ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔۔ مگر بانسری مکمل نہ بج پائی۔

سربوں نے بوسنائیوں پر یہی فارمولا آزمانے کی کوشش کی۔ روانڈا کے ہوتوؤں نے بھی تتسیوں کا حتمی علاج (فائنل سلوشن) کرنے کی کوشش کی، مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی۔

جدید لیبارٹری فلسطین ہے، اوریجنل فائنل سلوشن سے بچ نکلنے والوں کے ورثا نے اس نظریے میں وہ وہ جدت کاری کی کہ نسل کُشی کی سائنس کو آرٹ میں بدل دیا۔

اوریجنل فائنل سلوشن میں نازی حکام فیصلہ کرتے تھے کہ کسے زندہ رکھنا ہے، کسے مارنا ہے۔ آج موت اور زندگی کے فیصلے اے آئی (آرٹیفشل انٹیلیجینس) کر رہی ہے۔ فائدہ یہ ہے کہ صنعتی پیمانے پر نسل کشی میں جتنا وقت پہلے لگتا تھا، اب اسی وقت کے دسویں حصے میں کام ہو جاتا ہے۔

پہلے والوں کے پیشِ نظر یہ خدشہ نہیں تھا کہ عالمی ردِعمل کیا ہوگا، دنیا کیا کہے گی، لہٰذا نسل کُشی کو عالمی ضمیر کے لیے زود ہضم بنانا اتنا اہم نہیں سمجھا جاتا تھا۔

اب چونکہ نسل کشی کو سوشل میڈیا کا بدتمیز چیلنج درپیش ہے، لہٰذا ایک سلیقہ مند پروپیگنڈا ڈھانچے کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ پہلے کے برعکس آج کی جنگ بھی دو محاذی ہے، زمینی محاذ اور پروپیگنڈے کا محاذ۔ مطلوبہ کامیابی کے لیے دونوں کو بیک وقت فعال رکھنا پڑتا ہے۔


محمد حنیف کا کالم: اسرائیل کے بم اور فلسطین کے ایک شاعر اور استاد کا مارکر


مثال کے طور پر پہلے ان فلسطینیوں کے وجود سے ہی انکار کر دو۔ دنیا نہ مانے تو حرف، صوت اور تصویر کی پوری طاقت لگا کے ثابت کرنے کی کوشش کرو کہ یہ دیکھنے میں تو انسان لگتے ہیں، مگر دراصل یہ دو ٹانگوں پر چلنے والے نیم جانور ہیں۔ ان کا دماغ بیل کا سا ہے، ان کا مرنا جینا اتنا ہی اہم ہے، جتنا کسی بھیڑ یا بھیڑیے کا۔۔

نیز یہ کہ جانور بھلے دو ٹانگوں پر چلے یا چار پر، شعور سے عاری ہوتا ہے لہٰذا اس کی تکلیف بھی انسانی معیار پر پوری نہیں اترتی۔ چنانچہ جب بھی وہ خود پر ہونے والی زیادتی کے ردِ عمل میں کبھی سینگ مارے یا دُلتّی جھاڑنے کی کوشش کرے یا باربرداری کے قابل نہ رہے تو اسے بیابان کی جانب ہنکال دو، بیچ دو یا مار ڈالو۔

جدید نسل کُشی مرحلہ وار ہوتی ہے، یعنی کسی بھی تاریخی، سماجی یا قانونی بہانے سے ہدف کمیونٹی سے چھت اور پاؤں تلے کی زمین چھین لو، معاشی سکت مفلوج کر دو، اندر کا سکون اغوا کر لو۔ گھر سے باہر نکلے تو خود کو ایسے دیدہ و نادیدہ محاصرے میں محسوس کرے کہ زمین اور فضا بھی دشمن لگے۔

ہدفیہ نسل کی عزتِ نفس کو زبانی و عملاً مسلسل کچلتے رہو، کسمسانے کی جرأت کرے تو جیل میں بھر دو، چیختے ہوئے سڑک پر آئے تو ٹھنڈا کرنے کے لیے سر کا نشانہ لو۔ بالکل ہی آپے سے باہر ہو کے رسیاں تڑانے لگے اور عالمِ غیض میں حملہ کر دے تو نسل ہی مٹا دو۔ دھیرے دھیرے قسط وار۔۔ مبادا باقی دنیا کا ضمیر نہ جاگ پڑے۔

اور جاگ بھی پڑے تو سوکھے منھ سے کہہ دو ’آپ کو ان نیم انسانوں کی بہت تکلیف ہے نا، ایسا کرو آپ انہیں اپنے ہاں لے جا کے رکھ لو۔‘ ظاہر ہے کہ یہ فارمولا یا فائنل سلوشن سے بچنے کا واحد حل کوئی نہیں مانے گا۔۔ لہٰذا اپنا نسل کُش کام پوری توجہ سے جاری رکھو۔

چلیں امریکی انتظامیہ اور اس کے مغربی اتحادی تو ہیں ہی گھٹیا۔۔ آپ کیا ہیں؟ اپنا بھی تو تعارف کروایے حضور۔۔۔

بشکریہ: بی بی سی اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Latest

Tags:

american historyanimated historyBALOCHbaloch activistsBaloch Genocidebaloch insurgents pakistanbaloch liberation armybaloch militias are about to break pakistanBalochistanbalochistan attacks pakistanbalochistan baloch liberation army attackbalochistan documentarybalochistan freedom movementbalochistan pakistanbalochistan pakistan's other warbalochsBaluchistanCrimeCrimesCrimes in Karachidocumentary historyhindu minority in balochistanhindustan timesHistoryhistory channelhistory documentaryhistory lessonHistory of Warindian in pakistanlearn historymaritime historymilitary historynaela quadri balochpak atrocities in balochistanPakistanPakistan Armypakistan army posts attacks in balochistanpakistan atrocity balochistanpakistan balochistanpakistan balochistan historypakistan latest newspakistan newspakistan terror attackpakistan warPakistani Armyprotest in sindh pakistansimple historysindhi protest against pakistan pmspeaking hindi in pakistanstreet crimes in karachius historyus war crimesus war crimes listvietnam war storywar crimewar crime- history of usa war crimesWar Crimeswar crimes documentarywar crimes in historywar crimes listtwar crimes trialWar Historyworld history
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

”سمندر سے میری محبت ختم نہیں ہوگی“ کراچی کی ماہی گیر خاتون حکیمہ کی کہانی۔۔

Next

فلسطینی شاعر رِفعَت العَرعِير کی میراث ان کی آخری ویڈیو

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme