سندھ کے کسان؛ تاریخ کے تناظر میں
آزادی کے 75 سال گزر جانے کے بعد بھی پاکستان میں کسانوں کی حالتِ زار میں کوئی نمایاں تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔ ملک کے دوسرے سب سے بڑے صوبہ سندھ میں ہاری تحریک کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ اس ضمن میں گوہر سلطانہ عظمیٰ کی ایک تحقیق کا مطالعہ بہت ضروری ہے تاکہ…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط73)
کھانا کھانے کے بعد میں جھیل کے کنارے اکیلا ہی چلا آیا ہوں، گہری اور وسیع جھیل میں ہلکی ہلکی موجیں دھیمے سروں میں گنگناتی محسوس ہو رہی ہیں۔ کشتیاں سطح آب پر بگلوں کی طرح سر اٹھائے محو سفر ہیں، دور مچھلیاں پکڑنے والے مچھیرے اپنے جال تھامے اونچے سروں میں گا…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط65)
سندھو بتاتا ہے ”میرے ذریعہ تجارت کی ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میرے کنارے سرکش، لڑاکے اور قانون شکن قبائل آباد تھے اور تجارتی نقطہ نگاہ سے سفر کرنے والے قافلے خود کو کبھی محفوظ نہیں سمجھتے تھے۔ یہ قبائل اس قدر سرکش اور لڑاکے تھے کہ سکندر اعظم کے بہت…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط52)
اس سے پہلے کہ کوئی اور بولتا میرا دوست سندھو بول پڑا، ”بلائنڈ ڈولفن جسے سندھی ’بِلھن‘ کہتے ہیں، میرا اور اُس کا ساتھ ازل سے ہے۔ کہتے ہیں یہ مچھلی تبت سے نکلے کچھ اور دریاؤں میں بھی پائی جاتی تھی لیکن اب صرف مجھ میں اور دریائے گنگا میں ہی باقی بچی ہے۔…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط47)
”لو میں کوہ سلیمان کے سلسلے میں پہنچ گیا ہوں۔ بارش برس جائے تو اس پہاڑی سلسلے کے ندی نالوں اور رودکوہیوں میں طغیانی آجاتی ہے، بعض تو ایسے بپھرتے ہیں کہ سب کچھ بہا لے جاتے ہیں۔ جب یہ طغیانی سے لدے مجھ میں اترتے ہیں تو میں بھی پرجوش ہو جاتا ہوں۔ خوب…
بلوچستان کا احساسِ محرومی بڑھ رہا ہے
قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں انتہائی کم اراکین شریک ہوئے اور کچھ ایسے فیصلے کیے گئے ہیں جن سے بلوچستان میں محرومی کا احساس مزید بڑھے گا۔ قومی اسمبلی کے ایک رکن نے قرارداد پیش کی کہ گوادر ایئرپورٹ کا نام سابق وزیر اعظم سر فیروز خان نون کے نام پر رکھا جائے…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط40)
پانچ دریاؤں کی سرزمین: ”ملنا، بچھڑنا، خوشی اور غمی کا اٹوٹ انگ ہیں۔“ (بابا گرونانک) ”بابا گرونانک کا قول حقیقت ہے اور یہ ہے بھی حقیقت کہ میں پہاڑوں کی سر زمین سے باہر نکل آیا ہوں۔ پیر سر، در بند اور تربیلا پیچھے رہ گئے ہیں۔ وہ پٹھانوں کی قدیم ثقافت،…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط29)
شاہراہِ ریشم بائیں گھومتی قراقرم کے پہاڑوں پر بل کھاتی ”رائے کو ٹ برج“ پہنچتی ہے جبکہ میں سیدھا آگے کو رواں ہوں۔۔ سندھو کے پار ہمالیہ کی عمودی چٹانیں اس پر سایہ کئے ہیں۔ کہیں کہیں سبزہ بھی ہے۔ لینڈسلائیڈنگ آج بھی اس شاہراہ کا بڑا خطرہ ہے۔ رائے کوٹ تک کا…