Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

farmer-of-sindh-in-the-context-of-history
کالماہم ترینتازہ ترین

سندھ کے کسان؛ تاریخ کے تناظر میں

By Akhtar Rasool
مارچ 8, 2024 6 Min Read
0

آزادی کے 75 سال گزر جانے کے بعد بھی پاکستان میں کسانوں کی حالتِ زار میں کوئی نمایاں تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔ ملک کے دوسرے سب سے بڑے صوبہ سندھ میں ہاری تحریک کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ اس ضمن میں گوہر سلطانہ عظمیٰ کی ایک تحقیق کا مطالعہ بہت ضروری ہے تاکہ ہمارے سیاستدان اور دانشور سندھ کے کسانوں کے مسائل کے بارے میں زیادہ بہتر جان سکیں۔

جہانگیر کے دورِ حکومت میں سندھ کو 1614 میں مستقل علیحدہ صوبہ بنادیا گیا۔ 1732 میں یہ علاقہ نواب امیر خان کو بطور جاگیر بخش دیا گیا۔ اس نے جنوبی سندھ کا علاقہ 1738 میں میاں محمد یار کلہوڑا کی نگرانی میں دے دیا۔

اس طرح شمالی اور جنوبی سندھ کے تمام علاقے کلہوڑا خانوادے کے تصرف میں آگئے اور میاں نور محمد کلہوڑا کو مغلیہ حکومت کی طرف سے خدا یار خان کے خطاب کے ساتھ پورے سندھ کی حکمرانی کا پروانہ مل گیا، کیونکہ مغل فتوحات کا مقصد نہ تو فتح شدہ علاقوں کو مظالم سے آزاد کرانا تھا اور نہ اس سے عوام کی فلاح و بہبود مراد تھی۔ اس کا مقصد صرف اپنی طاقت کی ہیبت طاری رکھنا تھا۔ اس لیے سندھ میں مغل تسلط کسی قسم کی مثبت سماجی و اقتصادی تبدیلی کا باعث نہ بن سکا۔

کسان اورکاشت کار سمیت ایسے طبقے بدستور ماضی کی طرح استحصالی ہاتھوں میں پستے رہے۔ اسلام کی روح سے زمین کا مالک صرف خدا ہے۔ زمین اسی شخص کی عارضی ملکیت سمجھی جاتی ہے جو خود فصل بوتا اور کاٹتا ہے۔ آنحضرت نے زمین کو بٹائی پر دینے کی سخت ممانعت فرمائی ہے اور زمین و جائیداد کی ذاتی ملکیت کو حرام قرار دیا ہے۔

1843 میں سندھ پر برطانوی تسلط سے پہلے کے ڈیڑھ سو برسوں کے دوران مقامی مسلمان حکمرانوں کی باہمی جنگوں کے سبب، روایتی لگان داری کا نظام زوال پذیر ہو چکا تھا۔ انگریزوں نے ایک ایسا طبقہ پروان چڑھایا جو حکومت اور کسان کے درمیان مالیہ جمع کرنے کا کام انجام دیتا تھا۔ اس طبقے کو زمین کے مالکانہ حقوق عطا کیے گئے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ زرعی علاقوں سے مالیہ وصول کرنے کی رفتار اور مالیے کی رقم میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔ نتیجتاً سندھ میں پہلا مالیہ وصولی کا انتظام نقد رقم کی بنیاد پر قائم کیا گیا۔

یہ نقد رقم ہاریوں کی کاشت کردہ زمین کی کل پیداوار کا ایک مخصوص حصہ تھی جو زمیندار متعین کرکے علیحدہ کر لیتا تھا۔ زمین کا نقد مالیہ ادا کرنے سے زمیندار کا صرف وہ طبقہ مستثنیٰ تھا، جس کی زرعی ریاستیں جاگیروں (مالیے سے مستثنیٰ زمینی عطیات) کے زمرے میں شامل کر لی گئی تھیں۔ یہ جاگیریں یا تو ان افراد کو عطا ہوتی تھیں جنہوں نے نئے حکمرانوں کی حمایت کی تھی یا جو پہلے سے قائم تھیں اور جنھیں نئے حکمرانوں نے قائم کرنے کی اجازت دی تھی۔

برطانوی دور میں سندھ میں انگریزی راج میں لوٹ مارکے حوالے سے چند اور اہم شہادتیں ملتی ہیں۔ زرعی زمین سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کے لیے انگریزوں نے ریونیو کھاتے کی بنیاد ڈالی۔ زمین کے ریکارڈ کا اندراج ہونے لگا۔ زمین کی سرکاری اور غیر سرکاری بنیادوں پر تقسیم اور الاٹمنٹ ہونے لگی۔

ٹپے دار، پٹواری، مختیار کار، مقدم، ڈپٹی کمشنر وغیرہ جیسے بااختیار افسر صاحبان اور پولیس کی مدد سے افسر شاہی کا ایک ایسا فرمانبردار گروہ پیدا کیا گیا جو اپنے اپنے علاقے کے سیاہ و سفید کا مالک تھا اور لگان وصولی اب جنس کے بجائے سکہ رائج الوقت کے تحت ہونے لگی۔

ایک اہم بات یہ تھی کہ 1843 میں سندھ پر انگریز کے قبضے کے وقت سندھ میں تمام زمیندار چھوٹے ہوں یا بڑے سب مسلمان تھے۔ ہندو بنیا کاروبارکرتا تھا سود پر قرض دیتا تھا، تالپوروں کے دربار میں ملازم تھا۔ زمین کی ملکیت ہندوئوں کے لیے حاصل کرنا ممکن نہ تھا۔

1866 میں سندھ میں سول عدالتیں وجود میں آئیں۔ ہندوؤں کو قانون کے ذریعے قرض کی واپسی کی سبیل کی ڈگری ہوجانے کی صورت میں مقروض مسلمان کی زمین جبری طور پر فروخت ہونے لگی اور ہندو پہلی مرتبہ زمیندار بننے لگے۔ 1866 سے 1892 تک 1771 ہندو ایسے زمیندار بن چکے تھے جو دو سو ایکڑ سے زائد زمین کے مالک تھے، جب کہ مسلمان زمینداروں کی تعداد 7620 تھی۔ 1947 تک ہندوئوں نے مقامی مسلمان زمینداروں اور کاشت کاروں کی لاکھوں ایکڑ اراضی اپنے پاس گروی رکھ لی۔

1930 میں عبدالقادر نے جیٹھ مل پرس رام، حیدر بخش جتوئی اور عبدالمجید سندھی کے ساتھ انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما جمشید اے آر مہتہ کی جانب سے میرپور خاص میں طلب کردہ کسان تحریک کے سرگرم کارکنوں کی کانفرنس میں حصہ لیا، جس میں تنظیمی طور پر سندھ ہاری کمیٹی کا قیام عمل میں آیا۔ عبدالقادر کو اس کا جنرل سیکریٹری چنا گیا۔

سندھ ہاری کمیٹی کو اس وقت زبردست کامیابی ملی، جب اس نے بے دخلی کے مقدموں کو قانونی کارروائی کے ذریعے ان کے وراثتی حقوق دلوائے۔ حیدرآباد کی کامیابیوں نے سندھ ہاری کمیٹی کو اپنی سرگرمیاں مزید پھیلانے کا حوصلہ دیا اور بہت جلد اس کی سرگرمیاں حیدرآباد سے لے کر نواب شاہ، سانگھڑ اور لاڑکانہ کے ضلعوں تک پھیل گئیں۔

پھیلاؤ کے ساتھ یہ ضرورت محسوس ہونے لگی کہ کسی مرکزی جگہ پر تنظیم کا مرکز قائم کیا جائے، نتیجتاً سندھ ہاری کمیٹی کا مرکز 1936 میں حیدرآباد منتقل کر دیا گیا اور اس عمارت میں قائم کیا گیا جو ایک مسلمان مال افسر نے بطور عطیہ دی تھی، اس مسلمان افسر کا نام حیدر بخش جتوئی تھا۔ یہی حیدر بخش جتوئی مستقبل میں ہاری کمیٹی کی ناقابلِ شکست قیادت بن کر سامنے آئے۔ انہوں نے ڈپٹی کلکٹر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور کمیٹی کے قطعی عملی رکن بن گئے۔

تاریخ کا مطالعہ اور شعور کی آنکھیں ہمیں سمجھاتی ہیں کہ ہماری تاریخ عوام کے ساتھ دھوکا دہی کی تاریخ ہے۔ سندھ ہاری کمیٹی کی مضبوط اور باصلاحیت قیادت جس طرح ہاریوں میں مقبول اور محبوب بن گئی تھی، اس نے نہ صرف رخصت ہونے والی انگریز حکومت کے لیے مشکلات پیدا کردی تھیں بلکہ وہ آنے والی حکومتوں کے لیے، ان کے حقوق تسلیم نہ کرنے کی صورت میں ہمیشہ کے لیے درد سر بن سکتی تھی۔ اس ہوش ربا ’فتنے‘ کو کچلنے سے قبل اسے اپنے مقصد کے لیے کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس وقت کے سیاست دانوں کی سوچ نے اس سمت سفر کرنا شروع کیا۔

لیگ کے بڑے رہنما اس بات سے اچھی طرح واقف تھے کہ یہ بدحال ہاری کبھی بھی لیگ کے بڑے زمینداروں کو ووٹ نہیں دیں گے۔ خواہ اسلام کے نام پر پاکستان کی کتنی ہی پرزور اپیل کیوں نہ کی جائے۔ سندھ کے ہاری کی ہمدردیاں اور ووٹ مسلم لیگ اور کانگریس کے نظریات سے زیادہ اس امر سے وابستہ تھے کہ خود ان کی صدیوں کی محرومیوں اور برسوں کی جدوجہد کا پھل کون ان کے ہاتھ پر رکھتا ہے۔

یہ لوگ پاکستان کی حمایت اس لیے کر رہے تھے کہ ان کے خیال میں نئی ریاست ان کو ایسے مواقع فراہم کرے گی، جن کی مدد سے وہ ایک غیر ملکی حکومت اور اس کے تحت کام کرنے والی نوکر شاہی کی مداخلت سے آزاد ہوکر اپنی سماجی اور سیاسی طاقت استعمال کرسکیں گے ۔ ہاریوں کو یقین تھا کہ پاکستان کی نئی ریاست میں قرآن کے احکامات نافذ ہوں گے اور زمین کی ملکیت ان قوانین کے تحت تسلیم کی جائے گی۔ دوسری طرف ہاری کے سامنے اپنی سندھ ہاری کمیٹی کا کردار تھا۔ اس کے امیدواروں کے پاس صرف وعدے اور نعرے نہیں تھے بلکہ ان کی ایک طویل اور کامیاب جدوجہد تھی۔

راسخ العقیدہ مسلمان اور سادہ لوح ہاری نے پرکھ کی کسوٹی کو یوں دیکھا کہ جب سندھ ہاری کمیٹی بغیر کسی طاقت و اقتدار کے اس کی صدیوں کی غلامی کی زنجیروں کو پگھلا سکتی ہے تو مسلم لیگ طاقت اور اقتدار حاصل کر کے ان زنجیروں کو نام و نشان تک کیوں نہیں مٹا سکتی۔ لہٰذا وقت کے کشکول میں ہاری نے ایک غلط فیصلہ کا سکہ پھینک دیا۔ جس نے اس کی عروج پاتی تقدیر کو زوال کے راستے پر ڈال دیا۔

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

advises for farmers of sindh for cotton cropancient history documentarybest farmer in indiabest farmers in keralacomplete history of punjabconstitution of indiadrip irrigation in sindhfamers of sindhfamous farmerfarmer in villagefarmer of tharFarmersfarmers hard work lifefarmers lifefarmers lifestylefarmers of sindhHistoryHistory of Afghanistanhistory of immigrantsHistory of Indiahistory of mohajirshistory of mqmhistory of muhajirshistory of punjabhistory of punjab for examshistory of punjab in hindihistory of scindia familyHistory of Sindhhow is the life of pakistani hindulife of farmer in pakistanlife of farmerslife of formerpunjab historySindhsindh farmersindh farmersSindhitharparkar sindhthe story of golan heightstypes of farmingvillage life of sindhwheat for sindhworld bank project in sindh
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
languages-evolution-origin-words
Previous

الفاظ کا سفرنامہ ۔ زبانیں (پہلا حصہ)

Can-artificial-intelligence-make-the-world-disease-free
Next

کیا آرٹیفیشل انٹیلیجینس سے دنیا بیماریوں سے پاک ہو سکتی ہے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme