سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط54)
اگلے دن کی نئی صبح، نئی ہوا۔۔ جبکہ پرانا سورج نئی دھوپ لئے ہے۔ نہائے دو دن ہو چکے ہیں۔ میں نے حضور بخش سے کہا، ”سائیں! کچھ نہانے کا بندوبست ہو سکتا ہے۔“ وہ بولا ”میڈا سائیں! ابھی چادر تان کر نہانے کی جگہ بنا دیتا ہوں۔“ چادر کے بنے اس غسل خانے میں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط53)
سفر شروع کئے گھنٹہ بھر گزر چکا ہے۔ سورج اوپر اٹھ آیا ہے۔ آفتابی کرنوں میں سندھو کی سطح پر جیسے سفید موتیوں کی لہریں اتار دی ہیں۔ ہمارے سروں سے پرندوں کی بڑی ڈار اڑتی ہم سے ذرا دور سندھو کے سینے پر چمکتے پانیوں پہ اتر گئی ہے۔ چاچا گاماں بولا، ”سائیں! یہ…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط52)
اس سے پہلے کہ کوئی اور بولتا میرا دوست سندھو بول پڑا، ”بلائنڈ ڈولفن جسے سندھی ’بِلھن‘ کہتے ہیں، میرا اور اُس کا ساتھ ازل سے ہے۔ کہتے ہیں یہ مچھلی تبت سے نکلے کچھ اور دریاؤں میں بھی پائی جاتی تھی لیکن اب صرف مجھ میں اور دریائے گنگا میں ہی باقی بچی ہے۔…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط50)
سندھو پھر سے سرگوشی کرنے لگا ہے؛ ”اونٹ یہاں کی اہم سواری ہے۔ اس کی پیٹھ پر بوروں میں کپاس لاد کر لائی لے جائی جاتی ہے یا پھر اونٹ گاڑی کھینچ رہے ہوتے ہیں یا ساربان کے پیچھے قطار میں چلتے قدیم زمانے کی عکاسی کر تے ہیں۔ ان کے گلے میں بندھے ٹل…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط49)
سندھو سرگوشی میں بتا رہا ہے؛ ”بھنگی خیل کے ’بنی افغاناں‘ رقبے جو پہاڑی نالوں کی وجہ سے اکثر ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہتے ہیں، بہت زیادہ محنت اور محافظت چاہتے ہیں لیکن جہاں ان نالوں اور میرا پانی مضبوط پشتے باندھ کر ہموار زمینوں پر پھیلا دیا جاتا ہے، وہاں کی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط45)
ہم پیدل ہی اس پل سے گزر کر اٹک خورد ریلوے اسٹیشن پہنچے ہیں۔ سر سبز پہاڑوں میں گھرا یہ ریلوے اسٹیشن انیسویں صدی کے ولایت کا کوئی اسٹیشن معلوم ہوتا ہے۔ مجھے لمحہ بھر کے لئے محسوس ہوا میں اٹھارویں صدی کے ’ولیم وڈزورتھ‘ کے ولایت میں ہوں۔ پرسکون ماحول، پلیٹ…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط44)
جی ٹی روڈ علی الصبح سنسان ہے اور اس کے کنارے وقت کی دھول میں چھپتی ’بہرام کی بارہ دری‘ اشوک اعظم کے دور کے اسٹوپاز، شیر شاہ سوری کی ڈاک چوکی پر بھی ویرانی کا ہی ڈیرہ ہے۔ اس شاہراہ سے گزرنے والے چند ہی لوگ ہوں گے، جن کی توجہ یہ مٹتی گرتی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط42)
ہم اٹک قلعہ کی مغربی دیوار کے قریب کھڑے ہیں۔ ہوا ٹھنڈی اور موسم خوشگوار ہے۔ میرے دائیں ہاتھ مشرقی سمت اٹک برج ہے، جس کے نیچے دریاؤں کا باپ اباسین (سندھو اس خطہ میں اباسین بھی کہلاتا ہے) پر سکون بہہ رہا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی پر سکون ہے، جیسے اژدھا شکار نگل…