سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط70)
۔۔۔اگر حالات ایسے ہی رہے تو لگتا ہے مستقبل قریب میں یہاں کوئی بھی ملاح نہ رہے گا اور 200 سال پرانی یہ ثقافت بھی شاید دیکھنے کو نہ رہے گی۔ ہم روز بروز مشکل ہوتے حالات میں 200 سال پرانی اپنے بزرگوں اور سندھو کی ثقافت زندہ رکھنے کے لئے کب تک کو شاں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط61)
”قدیم دور کا ’اروڑ‘ یا ’بکر‘ یا ’سکر‘ اور دور حاضر کا سکھر، سندھ یا وادی مہران کا تیسرا بڑا شہر میرے مغربی کنارے آباد ہے۔ سندھی زبان کے لفظ سکھر کا مطلب ہے ”اعلیٰ“۔ اس شہر کا معروف بھی ہے ”دریا ڈنو“ یعنی ”دریا کا تحفہ“ اگر میں ادھر سے نہ بہتا تو یہ…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط60)
ہم کشمور اور گڈو بیراج کو پیچھے چھوڑتے روہڑی کو رواں ہیں۔بایک سو ساٹھ (160) کلو میٹر کی یہ مسافت انشاءاللہ ہم اڑھائی گھنٹے میں طے کریں گے۔سندھو لمبی خاموشی توڑتے بولا؛ ”سنو سیاحو! کیا تم میں سے کوئی بتا سکتا ہے کہ مجھ پر کُل کتنے بیراجز تعمیر کئے گئے…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط59)
سُوریءَ تے سو وار، ڈیھاڑیو چنگ چڑھِیں جِم وِرچی چھڈئَیں، سِکَنڑ جی پچار پِرت نہ پَسیں پار، نِینھں جئائین نِگئو (شاہ عبدلطیف بھٹائیؒ) منظوم ترجمہ: عاشق سولی چڑھتے ہیں دن میں سو سو بار پریت کی ریت کو بھول نہ جانا، دیکھ کے نیزے، دار جا تو اب اس پار، پنپ رہی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط56)
”تم جانتے ہو؟“ سندھو نے مجھ سے پوچھا اور حسب عادت میرا جواب سنے بغیر ہی وہ بتانے لگا؛ ”نواب صاحب نے اس جہاز کو حکومت کے حوالے کیا تو اس کا کنٹرول محکمہ شاہرات حکومت پنجاب کو ملا۔ یہ خراب ہوا تو اس کے پرزے بھی لوگ چوری کرنے لگے۔ ہمیں تو بس موقع…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط52)
اس سے پہلے کہ کوئی اور بولتا میرا دوست سندھو بول پڑا، ”بلائنڈ ڈولفن جسے سندھی ’بِلھن‘ کہتے ہیں، میرا اور اُس کا ساتھ ازل سے ہے۔ کہتے ہیں یہ مچھلی تبت سے نکلے کچھ اور دریاؤں میں بھی پائی جاتی تھی لیکن اب صرف مجھ میں اور دریائے گنگا میں ہی باقی بچی ہے۔…
سندھو سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط43)
رات ہمارے گرد تیزی سے پھیل رہی ہے۔ آسمان پر ابتدائی شب کا چاند، اس کی کرنیں گیندی شفق سے پھسل پھسل کر زمین پر اس طرح پھیل رہی ہیں جیسے زمین کی سطح پر کسی نرم و نازک پھول کی پنکھڑیاں بکھیری ہوں۔ ہوا کے جھونکوں کی سر سراہٹ ایسے لگ رہی ہے جیسے…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط40)
پانچ دریاؤں کی سرزمین: ”ملنا، بچھڑنا، خوشی اور غمی کا اٹوٹ انگ ہیں۔“ (بابا گرونانک) ”بابا گرونانک کا قول حقیقت ہے اور یہ ہے بھی حقیقت کہ میں پہاڑوں کی سر زمین سے باہر نکل آیا ہوں۔ پیر سر، در بند اور تربیلا پیچھے رہ گئے ہیں۔ وہ پٹھانوں کی قدیم ثقافت،…