Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

سندھو سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط43)

By Akhtar Rasool
اگست 24, 2023 8 Min Read
0

رات ہمارے گرد تیزی سے پھیل رہی ہے۔ آسمان پر ابتدائی شب کا چاند، اس کی کرنیں گیندی شفق سے پھسل پھسل کر زمین پر اس طرح پھیل رہی ہیں جیسے زمین کی سطح پر کسی نرم و نازک پھول کی پنکھڑیاں بکھیری ہوں۔ ہوا کے جھونکوں کی سر سراہٹ ایسے لگ رہی ہے جیسے کسی درد مند کے دل سے کراہ نکلتی ہو۔ چاند کی کرنیں غائب ہو گئی ہیں۔آسمان پر بجلی کی چمک، بادل کی کڑک، ٹھنڈی ہوا کے لطیف جھونکے سبھی بارش کا سندیسہ ہیں۔ بجلی کی زور دار کڑک کے ساتھ ہی مینہ برسنے لگا ہے

گہری نیند سے اٹھا ہوں اور عشاء کی سفری نماز ریسٹ ہاؤس کی چھوٹی سی مسجد میں ادا کر کے ڈاک بنگلہ کی اونچائی سے مصنوعی روشنیوں کا نظارہ دلفریب ہے۔اٹک برج سے گزرتی گاڑیوں کی روشنیاں سندھو کے پانی سے ٹکراتی اٹھکھیلیاں کرتی شاندار منظر پیش کررہی ہیں۔ یوں لگ رہا ہے جیسے روشنیاں پانی کی موجوں پر تیرتی غائب ہوتی جا رہی ہیں۔ بارش کے بعد شفاف آسمان کی وسعت پر روشن چاند اور لاکھوں کروڑوں ستارے دور دور تک بکھرے ہیں۔ یوں محسوس ہوا کہ بارش نے جیسے آ سمان ہی کو نہیں بلکہ تاروں کو بھی نہلا کر ان کی چمک دمک میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ میں خراماں خراماں ٹہلتا باس کے ساتھ سندھو کے کنارے چلا آیا ہوں۔ میں نے باس سے کہا؛ ”باس! سندھو کے گرد اس پہاڑی بستی کے گھروں میں جلتے چراغ، دھیرے دھیرے ستاروں سے سجتا سنورتا آسمان، چاند کی چاندنی، ستاروں کی روشنی، سندھو تو مدہوش ہو جاتا ہوگا۔“ میری بات سن کر باس بولے؛ ”یار! روز روز یہ نظارہ دیکھ کر سندھو اکتا ہی جاتا ہوگا۔ جیسے ہم روز روز ایک ہی چیز دیکھ کر اکتا جاتے ہیں۔“

مجھے سندھو کی ہنسی سنائی دی جیسے کہہ رہا ہو؛ ”ہا ہا! میں تو روز اس نظارے کے انتظار میں ہوتا ہوں۔ میرے بس میں ہو تو میں دن کی روشنی طلوع ہونے ہی نہ دوں۔ یہ سماں مجھے مدہوش ہی نہیں کرتا بلکہ پرجوش کر دیتا ہے۔ چاند کی روشنی مجھے بے قرار کرتی ہے اور اگر نین اور تم جیسا کوئی میرے کنارے بیٹھا ہو تو میں مدھر سروں کی ایسی تان کھنچتا ہوں کہ سننے والا مست ہو جائے۔ ایسے میں تم جیسے ہوش کھو کر جوش ٹھنڈا کر کے ہی سکون پاتے ہیں۔ ہاں سنو! میرے دوست قدرت کے خزانے بے بہا اور بیش بہا ہیں البتہ حسن و جمال کے ان خزانوں سے مستفید ہونے والی آنکھیں گنتی کی ہیں۔ سنو! یہاں قدرت کی زنبیل سے ہر گھڑی ایک نیا منظر ابھرتا، نکھرتا اور تحلیل ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ لینے ہر پل اک نیا منظر تراشا جاتا ہے۔ نئے مناظر اور موسموں کو دیکھتے دیکھتے کیسے آنکھیں تھک سکتی ہیں۔ باس؟ باس! ذرا میرے پانی پر غور کریں ان ستاروں اور چاند کا عکس اس کے پانی پر جھومتا دکھائی دے گا۔“

انہوں نے جواب دیا؛ ”تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔ یار تیری نگاہ بہت تیز ہے کیسی کیسی باتیں نوٹ کر لیتے ہو تم۔“

میں دوڑتا ڈاک بنگلے پہنچا ہوں۔ نین کو آواز دی اور اس کا ہاتھ تھامے سندھو کی طرف چل پڑا ہوں تاکہ اسے پانی پر تیرتا جھل مل ستاروں کا آنگن دکھا سکوں۔اس کی نظر پانی پر اترے ستاروں کے آنگن پر پڑی تو وہ بھی اس منظر میں کھو گئی ہے۔

سندھو نے مجھے ایک بار کہا تھا؛ ’چاندنی رات ہو، ستاروں سے بھرا آسمان، میرا کنارہ ہو۔ اس ماحول کو وہی محسوس کر سکتا ہے جس کا دل محبت سے بھرا ہو۔‘ یہ بات یاد آئی تو مجھے محسوس ہوا، اس نے ٹھیک ہی کہا تھا۔ پانی کا جل ترنگ، خاموشی، ہوا کی سرسراہٹ وہی محسوس کر سکتا ہے جس کے دل میں محبت کا شعلہ اور قدرت سے پیار والا دل ہو جو میرے اور میرے دوستوں کے پاس موجود ہو۔ کہتے ہیں خاموشی بھی سوالات کا جواب دیتی ہے۔ کبھی خاموشی میں ان جوابات کو سنانا دوست۔

بھوک ستا رہی ہے۔ ہم دریا کے کنارے سے اٹھ آئے ہیں۔ ہاں یاد آیا دوپہر کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔ اٹک کے پرانے بازار میں ہم چپلی کباب کھانے چلے آئے ہیں۔ رات کے 10 بجے ایک آدھ ہوٹل یا منیاری کی دوکان کے علاوہ سارے بازار میں ہو کا عالم ہے۔ پیاز، قیمہ، ٹماٹر، ادرک، مرچ مصالے سے تیار کردہ یہ کباب پشاور کا خاص تحفہ ہیں لیکن اب ملک کے ہر شہر میں دستیاب ہیں۔ چپلی کباب کی یہ دکان اٹک کی مشہور اور پرانی دکان ہے۔گاہکوں کی بھیڑ کا رات کے اس پہر ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ اس بازار میں چند پرانی عمارات ماضی کی کاریگری کی چھاپ کا شاندار نمونہ پیش کرتی ہیں۔ ہم چپلی کباب ہوٹل بیٹھے کھانے کے انتظار میں ہیں۔ کبابوں کی خوشبو نے بھوک کافی چمکا دی ہے۔ ہمارے میز کے ساتھ ہی کم و بیش ساٹھ پینسٹھ برس کا ”درویش“ کب سے ہمیں دیکھ رہا ہے۔ اس کی آنکھ اور ہاتھ پر ایک ہی سوال ہے ”بھوکا ہوں، کھانا کھلا دو۔“ میری نظر ایک آدھ بار اُس پر پڑی۔ تنگ آ کر یا ترس کھا کر مشتاق نے اُس کے لئے بھی کھانے کا آڈر دیا ہے۔ کھانا اس تک پہنچا تو اس نے محبت بھری نظر سے ہمیں دیکھا اور کھانے پر ٹوٹ پڑا۔ شاید کئی دن یا کئی پہر کا بھوکا ہے۔ بھوک دنیا کی سب سے سفاک حقیقت ہے۔ ویسے بھی ارشاد نبویﷺ ہے؛”بہترین صدقہ بھوکے کو کھانا کھلانا ہے۔“

بھوک بھی کیا چیز ہے اور انسان بھی کیا شے ہے۔ اگر سمجھے تو ایک وقت کا کھانا، دو گھونٹ پانی اور چند لقمے خوراک کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بھی تلخ سچائی ہے کہ بھوک سے کم اور بھرے پیٹ سے زیادہ لوگ مرتے ہیں۔ پھر بھی ہم دو گھونٹ پانی اور چار لقمے خوراک کے لئے زندگی بھر نہ جانے کیسے کیسے عذاب اور جوکھم اٹھاتے ہیں۔ ان دونوں چیزوں کا حصول کبھی اتنی زندگی کا طلب گار نہیں ہوتا جتنی زندگی ہم بھوک اور پیاس مٹانے میں گنواتے ہیں۔ ذرا سوچئے گا۔
یقین کریں ان چپلی کباب کا ذائقہ منفرد ہی نہیں بلکہ یہ طبعیت پر گراں بھی نہیں گزرتا ورنہ ایسی خوراک اکثر طبعیت خراب کر دیتی ہے۔ کھانے کے بعد لالہ جی کا ’نسخہ لالوی‘ یعنی کڑک چائے نے کھانے کا لطف دوبالا کر دیا ہے۔

میں علی الصبح ہی دروازے پر عدیل کی دستک سے جاگ گیا ہوں۔ باہر ابھی جاتے اندھیرے کی پرچھائیاں باقی ہیں۔ ہمیں اٹک خورد پر طلوع ہوتے سورج کے نظارے میں خود کو ڈبونا ہے۔ اکبر اعظم کے تعمیر کردہ اٹک قلعہ کی 500 سال پر پھیلی تاریخ کے اوراق میں کھونا ہے۔ میں منہ پر پانی کے چھینٹے مارتا باہر آیا تو ایک مانوس آواز میری سماعتوں سے ٹکرائی ہے۔ سندھو کی جانی پہچانی آواز۔۔ ”تم نین کے بغیر چڑھتے سورج کا نظارہ دیکھنے کا سوچ بھی کیسے سکتے ہو؟ اس کے بغیر۔۔۔“ میں اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی واپس مڑا، نین کے کمرے پر دستک دی۔ کچھ لمحوں کے انتظار کے بعد اُس نے آنکھیں ملتے دروازہ کھولا، بولی؛ ”کیوں اٹھا دیا صبح صبح۔“ میں نے اس کا ہاتھ تھاما وہ بولتی ہی رہ گئی ہے۔ اسے جیپ میں بٹھایا اور ہم مشرق سے ابھرتے سورج کا نظارہ کرنے سندھو کی طرف رواں ہیں۔

یہ نئی صبح ہے۔ کل ہونے والی بارش نے ماحول نکھار دیا ہے۔ افق پر تا حد نگاہ نیلا شفاف آسمان ہے۔ فضا تازہ جبکہ ماحول کی گرد رات کی بارش میں دھل چکی ہے۔

آسمان پر بادل اترے ہیں۔ آوارہ بادل۔ ٹھنڈی ہوا میں درخت اور پودے جھوم جھوم کر اللہ کی حمد بیان کر رہے ہیں۔ ایسی ہی ثناء کرتے پرندے بھی ہیں۔ جیپ کے ریڈیو پر نصرت فتح علی خاں کی گائی حمد کے بول؛ ”نظر بھی نہ جو آئے دکھائی بھی دے رہا ہے، وہی خدا ہے وہی خدا ہے۔“ دل میں اتر رہے ہیں۔ مدعا سبھی کا ایک ہے البتہ زبان اور انداز میں فرق ہے۔ فرمان الہٰی ہے؛ ”سارے آسمان اور ساری زمینیں اور جو کچھ ان میں ہے سب اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں۔“ رات کی چادر سے صبح کا اجالا طلوع ہونے کو ہے۔

سنسان ناہموار سڑک پر جیپ دوڑی چلی جا رہی ہے۔ ارد گرد تا حدِ نظر پھیلے گندم کے سنہرے کھیت صبح کی ہوا میں جھوم رہے ہیں۔ گرمی کی یہ صبح معمول سے ہٹ کر سہانی ہے۔ رات کی بارش نے درختوں کو دھو کر نکھار اور موسم خوش گوار کر رکھا ہے۔ سورج طلوع ہونے میں کچھ وقت ہے۔ ہم شیر شاہ سوری کی تعمیر کردہ جی ٹی روڈ پر چڑھ آئے ہیں۔ وہ بھی کیا کمال حکمران تھا؟ ساڑھے چار سال کی حکومت اور اس مختصر وقت میں کئے جانے والے کام عقل دنگ کر دیتے ہیں۔ کلکتہ سے پشاور تک جرنیلی سڑک کی تعمیر ہو یا زمین کا ریکارڈ مرتب کرنا ہو یا روہتاس قلعہ کی تعمیر ہو۔ یہی تین کارنامے حیران کرنے کے لئے کافی ہیں۔ اس کے برعکس ہمارے آج کے حکمرانوں کے دعویٰ اور جھوٹے وعدے اس ملک کے سادہ عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے کافی ہیں۔گھوڑے سدھانے والے کا بیٹا اپنی قابلیت سے ہندوستان کا حکمران بنا۔ اصل نام فرید خاں تھا۔ بہادری اور شجاعت کے باعث ’شیر خاں‘ کا لقب ملا اور پھر وہ اسی نام سے مشہور ہو گیا۔ وہ خالصتاً افغان تھا اور ہندوستان میں ’سُور‘ خاندان کی حکمرانی کا بانی۔ شیر شاہ مافوق الفطرت انسان، اعلیٰ پائے کا منتظم، نڈر سپہ سالار، عمدہ گھڑ سوار اور منصف مزاج حکمران تھا۔ برصغیر کی تاریخ میں اس کا اونچا مقام ہے۔ ”سسرام“ (بھارت) میں اس کا عالی شان مقبرہ ہے۔ایک ہمارے آج کے حکمران ان خوبیوں سے عاری اور عوام پہ ضرب کاری ہیں۔شاید یہ سمجھ بیٹھے ہیں ان کی قبریں مٹی کی نہیں سونے جوہرات کی ہوں گی یا شاید انہیں موت آنی ہی نہیں۔ جب انسان دولت اور ہوس کی لوٹ میں مبتلا ہو جائے وہاں عزت، غیرت جیسے الفاظ بے معنی ہو جاتے ہیں۔ ”ماریو پوزو“(mario puzo) اپنے شہرہ آفاق ناول”گارڈ فادر“ میں لکھتا ہے؛ ”دولت کے ہر انبار کے پیچھے لوٹ مار کی داستان پوشیدہ ہوتی ہے۔“

یہ ناول جرائم کی دنیا کے ایک مافیا کی کہانی بیان کرتا ہے۔ اس ناول کی اکیس ملین کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔ اس ناول پر نہایت کامیاب آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ”دی گوڈ فادر“ (the god father)1972؁ء میں بنی۔ جرائم اور کرپشن کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ماریو نے یہ ناول 1969؁ء میں لکھا، اس کے ذھن میں یہ بات کبھی بھی نہیں ہوگی کہ اس ناول کی فرضی کہانی کو کوئی مارکوس، کوئی عدی امین وغیرہ آ کر سچ بھی ثابت کر دیں گے۔ اسی لوٹ مار پر ایک یورپی سیانے نے خوب کہا ہے؛ ”اگر لندن میں مقیم پاکستان کے ایک سابق وزیر اعظم کو صحرائے اعظم کا وزیر اعظم بنا دیا جائے تو چند سالوں میں صحرا کا یہ سمندر بھی ریت سے خالی ہو جائے گا۔“ (جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب ’بُک ہوم‘ نے شائع کی ہے، جسے ادارے اور مصنف کے شکریے کے ساتھ سنگت میگ میں قسط وار شائع کیا جا رہا ہے. سنگت میگ کا لکھاری سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Tags:

chandra gupta maurya all episodehistory of india and pakistan 1857 to 1947history of pakistan all episodeshistory of pakistan in urduHistory of Sindhindia pakistan partition history in hindikids story in malayalamlost treasures of egypt full episodemanipur case full story in hindimodern history of pakistanporas sikandar episode 1poras sikandar storysikandar history in hindisindhusindhu ghati civilization historystory of pakistanstory of sindh
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کچے گوشت اور بغیر اُبلے دودھ سمیت وہ غذائیں، جو آپ کو موت کے منہ میں لے جا سکتی ہیں!

Next

سندھو گھاٹی اور اساطیری ادب! (آخری حصہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme