تاریخ نہ سہی، کیلنڈر ہی سیدھا کر لو
1950 کی دہائی کے پاکستان میں 23 گزیٹڈ چھٹیاں (ہالیڈیز) ہوا کرتی تھیں۔ ان میں سے دو سیکولر چھٹیاں یکم جنوری، بینک ہالیڈے تھیں۔ دس مسلم تہواروں (شبِ معراج، شبِ برات، جمعۃ الوداع، عیدالفطر، حج، عید الضحٰی، یکم محرم، عاشورہ، آخری چہارشنبہ، عیدِ میلاد النبی)…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط70)
۔۔۔اگر حالات ایسے ہی رہے تو لگتا ہے مستقبل قریب میں یہاں کوئی بھی ملاح نہ رہے گا اور 200 سال پرانی یہ ثقافت بھی شاید دیکھنے کو نہ رہے گی۔ ہم روز بروز مشکل ہوتے حالات میں 200 سال پرانی اپنے بزرگوں اور سندھو کی ثقافت زندہ رکھنے کے لئے کب تک کو شاں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط61)
”قدیم دور کا ’اروڑ‘ یا ’بکر‘ یا ’سکر‘ اور دور حاضر کا سکھر، سندھ یا وادی مہران کا تیسرا بڑا شہر میرے مغربی کنارے آباد ہے۔ سندھی زبان کے لفظ سکھر کا مطلب ہے ”اعلیٰ“۔ اس شہر کا معروف بھی ہے ”دریا ڈنو“ یعنی ”دریا کا تحفہ“ اگر میں ادھر سے نہ بہتا تو یہ…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط60)
ہم کشمور اور گڈو بیراج کو پیچھے چھوڑتے روہڑی کو رواں ہیں۔بایک سو ساٹھ (160) کلو میٹر کی یہ مسافت انشاءاللہ ہم اڑھائی گھنٹے میں طے کریں گے۔سندھو لمبی خاموشی توڑتے بولا؛ ”سنو سیاحو! کیا تم میں سے کوئی بتا سکتا ہے کہ مجھ پر کُل کتنے بیراجز تعمیر کئے گئے…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط59)
سُوریءَ تے سو وار، ڈیھاڑیو چنگ چڑھِیں جِم وِرچی چھڈئَیں، سِکَنڑ جی پچار پِرت نہ پَسیں پار، نِینھں جئائین نِگئو (شاہ عبدلطیف بھٹائیؒ) منظوم ترجمہ: عاشق سولی چڑھتے ہیں دن میں سو سو بار پریت کی ریت کو بھول نہ جانا، دیکھ کے نیزے، دار جا تو اب اس پار، پنپ رہی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط56)
”تم جانتے ہو؟“ سندھو نے مجھ سے پوچھا اور حسب عادت میرا جواب سنے بغیر ہی وہ بتانے لگا؛ ”نواب صاحب نے اس جہاز کو حکومت کے حوالے کیا تو اس کا کنٹرول محکمہ شاہرات حکومت پنجاب کو ملا۔ یہ خراب ہوا تو اس کے پرزے بھی لوگ چوری کرنے لگے۔ ہمیں تو بس موقع…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط55)
نئے دن کا آغاز نئے سفر اور نئے عزم سے شروع کرنے کی تیاری ہے۔ لنگر اٹھا لئے گئے ہیں۔ چمکتی دھوپ میں سندھو کے پانیوں پر راج کرتی ہماری کشتی۔ جیسے جیسے سورج بلند ہو رہا ہے، دھوپ کی حدت بڑھ رہی ہے۔ کشتی پانی کی موجوں پر اڑی جا رہی ہے۔ ہوا پانی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط54)
اگلے دن کی نئی صبح، نئی ہوا۔۔ جبکہ پرانا سورج نئی دھوپ لئے ہے۔ نہائے دو دن ہو چکے ہیں۔ میں نے حضور بخش سے کہا، ”سائیں! کچھ نہانے کا بندوبست ہو سکتا ہے۔“ وہ بولا ”میڈا سائیں! ابھی چادر تان کر نہانے کی جگہ بنا دیتا ہوں۔“ چادر کے بنے اس غسل خانے میں…