سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط41)
ہم ’اٹک برج‘ پہنچے ہیں۔ خیبر پختون خوا اور پنجاب کو ملاتا یہ پل تاریخی مقام اور میرے دائیں طرف سے بہتے سندھو اور سامنے کالا چٹا پہاڑ کے دامن سے بہتے دریائے کابل کا سنگم بھی۔ اس پل سے ان دریاؤں کے سنگم کا نظارہ شاندار ہے۔ میرے بائیں ہاتھ جرنیلی سڑک کو…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط40)
پانچ دریاؤں کی سرزمین: ”ملنا، بچھڑنا، خوشی اور غمی کا اٹوٹ انگ ہیں۔“ (بابا گرونانک) ”بابا گرونانک کا قول حقیقت ہے اور یہ ہے بھی حقیقت کہ میں پہاڑوں کی سر زمین سے باہر نکل آیا ہوں۔ پیر سر، در بند اور تربیلا پیچھے رہ گئے ہیں۔ وہ پٹھانوں کی قدیم ثقافت،…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط31)
بابو سر ٹاپ کے برفیلے میدان سے جنم لینے والی شفاف برفیلے پانی کی ’ٹھک ندی‘ کے پل سے گزر رہے ہیں۔ کل کے اس گمنام مقام کو آج نام بھی دیا گیا ہے تو ’زیرا پوائنٹ‘۔گمنام کو زیرا پوائنٹ کہنے سے فرق نہیں پڑتا مگر یہ اس شاہراہ کا نیا اہم اسپاٹ بن گیا…
پاکستان، سن 47 میں کیا ہو رہا تھا
کچھ دن پہلے مجھے ایک صاحب نے فون کیا، ریٹائرڈ سرکاری افسر تھے، انہوں نے کوئی کتاب لکھی تھی اور وہ مجھے ارسال کرنا چاہتےتھے، یہ بات میرے لیے کوئی نئی نہیں تھی سو میں نے انہیں پتا دے دیا، چند دن بعد مجھے اُن کی کتاب مل گئی۔اتفاق سے اسی دن مزید پانچ کتابیں…
ایک تصویر ایک کہانی ۔ 29
کراچی جیم خانہ کے سامنے ملازمین کے ساتھ کھڑی یہ درازقد خاتون فلس لوئیس نیپئر لارینس ہیں، جو اپنے لمبے بالوں، سماجی کاموں اور گھڑسواری کے لیے کراچی کے لوگوں میں مشہور تھیں۔ آج کی کہانی اس تصویر میں موجود عورت کی ہے۔ فلس لوئیس لارینس کو گھڑسواری کا شوق…