عالمگیر تاریخ
دنیا میں رونما ہونے والے واقعات، حادثات، تہذیبی، مذہبی اور نظریاتی تصادم حالات اور ماحول بدل دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں تاریخ نویسی بھی برابر تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ جب تاریخی معلومات جمع ہو گئیں، تو بڑی سلطنتوں کے مورخین نے یونیورسل تاریخ لکھ کر اپنی اپنی…
پچاس بااثر یہودیوں کی دنیا (1)
موقر اسرائیلی اخبار ’یروشلم پوسٹ‘ پچاس بااثر یہودی شخصیات کی سالانہ فہرست جاری کرتا ہے۔ دو ہزار تئیس کی فہرست میں اگرچہ بیشتر نام اسرائیلیوں کے ہیں، جب کہ کچھ غیر اسرائیلی نام ایسے ہیں جو موجودہ دنیا اور ہماری زندگیوں پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ اس فہرست میں…
اپنے شہر سے کبھی باہر نہ نکلنے والا ایک شخص، جس نے 15ویں صدی میں حیران کن طور پر دنیا کا درست نقشہ بنایا
پندرہویں صدی میں اٹلی کی وینیزیا جھیل کے قریب ایک چھوٹے سے جزیرے پر رہنے والے شخص نے نہ جانے کس طرح دنیا کا ایک حیران کن حد تک درست نقشہ تیار کیا۔ آج کل یہ نقشہ وینس میں سینٹ مارکس لائبریری کی دوسری منزل پر آویزاں ہے، جو اپنی تاریخی اہمیت کے پیشِ نظر…
مؤرّخ اور ہم عَصر تاریخ
مورخ کے لیے ہم عصر تاریخ کا لِکھنا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ وہ جذباتی طور پر اپنی پسند اور ناپسند کا اظہار کرتا ہے۔ رومی مورخ ٹیسیٹس (AD56) نے اگسٹس (14 AD) اور اُس کے بعد کے حکمرانوں کی تاریخ لِکھتے ہوئے رومی سلطنت کی کمزوریوں کو بیان کیا ہے۔ اس موضوع پر…
ہندوستان میں بسنے والے شیدی غلاموں کی تاریخ
پاکستان کے مختلف خطوں میں صدیوں سے افریقی نسل کے لوگ مقیم ہیں جنہیں سندھ میں ’شیدی‘ اور بلوچستان میں ’مکرانی‘ کہا جاتا ہے جبکہ بعض لوگ انہیں حبشی بھی کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ شیدی افریقی زبان کے لفظ ’سدی‘ کا بگڑا ہوا روپ ہے جو حقیقت میں عربی کے لفظ…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط65)
سندھو بتاتا ہے ”میرے ذریعہ تجارت کی ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میرے کنارے سرکش، لڑاکے اور قانون شکن قبائل آباد تھے اور تجارتی نقطہ نگاہ سے سفر کرنے والے قافلے خود کو کبھی محفوظ نہیں سمجھتے تھے۔ یہ قبائل اس قدر سرکش اور لڑاکے تھے کہ سکندر اعظم کے بہت…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط61)
”قدیم دور کا ’اروڑ‘ یا ’بکر‘ یا ’سکر‘ اور دور حاضر کا سکھر، سندھ یا وادی مہران کا تیسرا بڑا شہر میرے مغربی کنارے آباد ہے۔ سندھی زبان کے لفظ سکھر کا مطلب ہے ”اعلیٰ“۔ اس شہر کا معروف بھی ہے ”دریا ڈنو“ یعنی ”دریا کا تحفہ“ اگر میں ادھر سے نہ بہتا تو یہ…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط59)
سُوریءَ تے سو وار، ڈیھاڑیو چنگ چڑھِیں جِم وِرچی چھڈئَیں، سِکَنڑ جی پچار پِرت نہ پَسیں پار، نِینھں جئائین نِگئو (شاہ عبدلطیف بھٹائیؒ) منظوم ترجمہ: عاشق سولی چڑھتے ہیں دن میں سو سو بار پریت کی ریت کو بھول نہ جانا، دیکھ کے نیزے، دار جا تو اب اس پار، پنپ رہی…