سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط31)
بابو سر ٹاپ کے برفیلے میدان سے جنم لینے والی شفاف برفیلے پانی کی ’ٹھک ندی‘ کے پل سے گزر رہے ہیں۔ کل کے اس گمنام مقام کو آج نام بھی دیا گیا ہے تو ’زیرا پوائنٹ‘۔گمنام کو زیرا پوائنٹ کہنے سے فرق نہیں پڑتا مگر یہ اس شاہراہ کا نیا اہم اسپاٹ بن گیا…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 20)
مرول ٹاپ بادلوں میں چھپ کر پیچھے رہ گیا ہے۔ سڑک قراقرم کے پہاڑوں پر سندھو کے سنگ بل کھاتی ہمالیہ کے پہاڑوں میں گھری پاک فوج کی چھوٹی چھاؤنی ’ہمزی گونڈ‘ (قمریگون) کو رواں ہے۔ یہ ممنوع علاقہ (restricted area) ہے۔ اس چھاؤنی کو مرکزی سڑک سے ملاتا واحد زمینی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 18)
”مرول ٹاپ سے وہ دور پہاڑ کی چوٹی پر جو سفید پتھروں کی لکیر دکھائی دے رہی ہے، دراصل ’لائن آف کنٹرول‘ ہے۔ اسی لائن آف کنٹرول کے دامن سے بہتا میں پاکستان میں داخل ہوا ہوں۔ دونوں سرحدوں پر مجھے کوئی فوجی نظر نہیں آیا البتہ ان اونچے پہاڑوں کی چوٹیوں پر دونوں…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 15)
صبح سے اب تک کے سفر نے مجھے بھی تھکا دیا ہے۔ میں آرام کی غرض سے سندھو کنارے بنے ’ہمالیہ ان‘ چلا آیا ہوں۔ کچھ آرام کے بعد باہر آیا تو چندا ماموں پہاڑوں کی اوٹ سے افق پر نمودار ہوتے بلندی کی جانب گامزن ہیں۔ چاندنی نے ماحول کو تاباں اور خوشگوار کر…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 14)
”لو میں تمہیں بتانا بھول گیا ہوں۔“ سندھو کی آواز نے مجھے متوجہ کیا ہے، ”یہاں لیہہ میں ہندوستان کا سب سے بڑا ٹرانس نیشنل پارک ’ہمس‘ واقع ہے۔ یہ برفانی چیتے کا سب سے گنجان آباد اور سب سے بلند پارک ہے۔ اس کے علاوہ میرے کنارے دو کوہان والے اونٹ ’نبرا ویلی‘…
فرے منریک: ایک پرتگیز پادری کی سفرِ سندھ کی کتھا (پہلا حصہ)
حیات کا سفر ان دو بھائیوں کی کہانی ہے، جن میں سے ایک کا نام ’صحیح‘ اور دوسرے کا نام ’غلط‘ ہے۔ یہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، بالکل ریل کی اُن پٹڑیوں کی طرح جو آپس میں کبھی نہیں ملتیں اور ایک دوسرے سے کبھی جدا بھی نہیں ہوتیں۔ ان دونوں میں بہت ہی…
فرعونوں کی زمین پر نپولین کا حملہ
یہ محض اتفاق نہیں کہ اولیور اسٹون جیسے ذہین اور باریک بین ماہر سنیما نے اسکندر مقدونی کی زندگی پر بننے والی اپنی فلم کا آغاز ایسے سین سے کیا، جس میں ارسطو ایک بڑے فاتح کے اوصاف بیان کر رہا ہے۔ اور نہ ہی اس لیے کہ اسکندر ارسطو کا شاگرد تھا اور اکثر…
غلام بنائے رکھنے کی ڈھائی سو سالہ طویل تاریخ، انسانیت کے خلاف جرم: نیدرلینڈز کے وزیراعظم کی معافی
نیدرلینڈز میں انسانوں کو غلام بنائے رکھنے کی ڈھائی سو سالہ طویل تاریخ ہے، جس پر ملک کے وزیراعظم مارک روٹا نے سرکاری طور پر معافی مانگی ہے خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق غلامی کی روایت کے باقاعدہ خاتمے کے ڈیڑھ سو سال بعد نیدرلینڈز کی جانب سے معافی…