تپتی دھوپ (ترک ادب سے منتخب افسانہ)
بچہ: ”اماں۔۔ اماں! کل صبح سے پہلے مجھے جگا دینا۔“ ”تم پھر نہیں جاگو گے۔“ ”نا جاگوں تو میرے جسم میں سوئی چبھونا، میرے بال کھینچنا، میری پٹائی کرنا۔“ پیلے چہرے والی پتلی دبلی عورت کی سیاہ آنکھوں میں خوشی سے بھرپور چمک دوڑ گئی۔ ”اور اگر تم پھر بھی نہیں جاگے…
کہانی کار کی کہانی، کہانی کی زبانی (افسانہ)
میں کہانی ہوں۔ میں نے کتنی ہی زندگیاں تراشی ہیں، کتنے ہی خواب بُنے ہیں، کتنی ہی تقدیریں سنواری ہیں۔ میری سطروں میں محبت کے چراغ جلے، غموں کے سائے دراز ہوئے، اور بغاوت کی صدائیں گونجیں۔ میں نے ظالموں کو گرایا، مظلوموں کو اٹھایا، وقت کو پلٹا، زمین کو آسمان…
یہ مرد (افسانہ)
کسی قسم کے احساس کے بغیر گوبند نے چپ چاپ لکشمی کی چارپائی کے اردگرد پردے لگا دئیے، پردے۔۔۔ جو لکڑی کے فریم میں سفید کپڑا لگا کر بنائے گئے تھے اور حسبِ خواہش کھولے یا بند کیے جا سکتے تھے۔ تب مس سلطانہ اور بکیٹی تیز تیز چلتی ہوئی آئیں اور ان کے بعد…
کونپل (افسانہ)
سگیاں کے پنڈت جے رام کی لڑکی سینکری کے دل میں بچپن ہی سے جس چیز کی زبردست خواہش پیدا ہو گئی تھی، وہ سونے کے زیور تھے اور ان میں بھی طلائی کنگنوں پر تو جیسے اس کا دم نکلتا تھا۔ سگیاں کی بےچاری غریب دیہاتنیں تو چاندی کی بالیوں، چوڑیوں، کڑوں، کنٹھوں،…
امن کا طالب (افسانہ)
(اونچے اونچے محلوں کی دلفریبی میں بدامنی کو مت ڈھونڈ! ان تنگ و تاریک گلیوں میں جا، جنہیں بھوک، اور مفلوک الحالی نے اپنا مسکن بنا رکھا ہے۔) سیاہ لبادے والا، بات بات کی آہٹ لیتا ہوا شہر کی گلیوں میں گھوم رہا تھا۔ اجین کے اونچے مکان آدھی رات کے سناٹے میں…
کاکڑاں کا تَیلی
’’اڑھائی روپے!‘‘ مولو نے طنز سے سر ہلا کر اپنی بیوی کی طرف دیکھا، ان نگاہوں سے جو گویا کہہ رہی تھیں کہ کم بخت تانگے والے کی عقل شاید گھاس چرنے چلی گئی ہے۔ ابھی مشکل سے آٹھ ساڑھے آٹھ کا وقت ہوگا، لیکن دن پہاڑ سا نکل آیا تھا۔ سورج عین سر پر…
بلوچستان: امداد ملنے کی آس اور مایوسی کی کہانی
بلوچستان میں سیلاب سے ہر طرف تباہی مناظر ہیں۔ راستے بند ہونے کی وجہ سے بہت سے متاثرین ٹیلوں اور اونچی جگہوں پر بے سروسامانی کی حالت میں امداد اور راشن کے لیے ہیلی کاپٹر کو دیکھ کر بھاگ دوڑ کرتے نظر آتے ہیں۔ جن میں سے کچھ کے ہاتھ میں سامان لگ جاتا ہے۔…