Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Palestinian-Fiction-and-short-stories
ادباہم ترینتازہ ترین

کیک فروش (فلسطینی ادب سے منتخب افسانہ)

By Akhtar Rasool
فروری 18, 2025 3 Min Read
0

شدید گرمی کی اس دوپہر تو میرے صبر کی حد ٹوٹ گئی۔۔۔ اسکول سے لوٹتے ہوئے کافی دنوں کے بعد میں نے اچانک اسے دیکھا تھا۔

کیا یہ محض ایک اتفاق تھا کہ میں نے اسے اسی جگہ بیٹھا دیکھا، جہاں میں نے اسے پہلی بار دیکھا تھا؟ پالش کے دھبوں سے اٹے اپنے چوبی بکس کے پیچھے وہ اکڑوں بیٹھا سڑک پر کسی جوتے کے شکار کی فراق میں تھا۔ میں بے ہوش ہوتے ہوتے بچا۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں اسی جھوٹے کیک فروش کو دیکھ رہا ہوں۔ اپنی تذلیل کا احساس مجھے عود کر آیا تھا۔ جب تک میں فیصلہ کر پاتا کہ میں کیا کروں، میرا ہاتھ اس کے گریبان تک پہنچ کر اسے درشتی سے کھینچ رہا تھا۔

”جھوٹے مکار!“

”سر!“ اس نے معمول کی طرح انگلی اٹھاتے ہوئے کہا، ”ہاں سر، میں جھوٹا ہوں، لیکن میری بات تو سن لیجیے۔“

اس کی آنکھیں سکڑ گئیں اور مجھے لگا جیسے بس آنسو ٹپکنے والے ہیں۔

”بس ایک بار سن لیجیے سر۔“ اس کی آواز میں لرزش تھی۔

”جھوٹے!“ میں نے تیز لہجے میں کہا، ”اپنی ماں کے ساتھ رہتے ہو، ایسا ہی مجھ سے کہا تھا نہ تم نے؟“

”سر، میں اپنی ماں کے ساتھ نہیں رہتا کیونکہ وہ مر چکی ہیں۔۔ لیکن میں یہ بات سب کو نہیں بتا سکتا۔ ماں کا جب انتقال ہوا تھا، میرے والد نے ہمیں اس بارے میں زبان بند رکھنے کو کہا تھا۔“

میری گرفت ڈھیلی پڑ گئی اور میں نے فوراً سوال کیا، ”کیوں؟“

”ان کے پاس تدفین کے لیے بھی پیسے نہیں تھے اور وہ حکومت سے خائف تھے۔“

میرا ہاتھ میرے پہلو میں لٹک گیا۔ آج مجھے اس کی آنکھوں میں جھلکتے اس معصوم اندیشے کا راز معلوم ہوا جو اب تک وہاں چھپا تھا۔

”تم نے مجھ سے یہ کیوں کہا تھا کہ تم کیک بیچتے ہو؟ کیا تمہیں اپنے اس کام سے شرم آتی ہے؟“

حمید کی نظریں نیچے جھک گئیں۔ پھر اس نے اپنی گہری، شفاف آنکھوں سے میری طرف دیکھتے ہوئے کچھ شرمسار لہجے میں کہا، ”نہیں، ایسی بات نہیں ہے۔ میں واقعی میں کیک بیچا کرتا تھا، بس کل ہی میں پھر سے اس کام میں لگا ہوں۔“

”لیکن کیک بیچ کر تم زیادہ نہیں کما لیتے تھے؟“

”ہاں، لیکن۔۔۔“ نظریں اٹھائے بغیر اس نے پھسپھساتے ہوئے کہا، ”رات کے آخری پہر مجھے بھوک لگ جاتی تھی، اور میں دو تین کیک خود ہی کھا جاتا تھا۔“

میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ میں کیا کہوں اور کیا کروں۔ پہلے تو یہ خیال گزرا کہ وہاں سے بھاگ کھڑا ہوں، لیکن میرے اندر اس کی سکت نہیں بچی تھی۔

اس کا سر، جس پر کالے کھردرے بال چمک رہے تھے، جھک رہا تھا۔ بے خیالی میں میں نے اپنا پاؤں اٹھایا اور اسے چوبی بکس کے کوہان پر رکھ دیا۔

دو چھوٹی ہتھیلیاں مہارت سے جوتے پر حرکت کرنے لگیں، ساتھ میں اس کا چھوٹا سر بھی ایک لے میں ہلتا جا رہا تھا۔ پھر وہ بڑی سادگی سے بولا، ”سر! آپ نے سال بھر سے اپنا جوتا نہیں بدلا۔ یہ وہی سستا والا جوتا ہے!“

Tags:

#emotional storyA Story of GuiltA Story of LiesA Tale of HardshipA Test of MoralityArabic LiteratureBetrayalBetrayed TrustCharacter Studychildhood memoriesChildhood TraumaClass StruggleCompassion and UnderstandingCompelling CharactersComplex RelationshipsdeceptionDeeply MovingEmotional ConflictEmotional Impactemotional journeyEveryday StrugglesExploring HumanityEye-openingFamily SecretsFateful MeetingFictionFiction Inspired by RealityFiction Rooted in RealityFiction with a MessageFictional DramaFictional NarrativeFictional TragedyFinding RedemptionFriendshipGovernment FearGritty RealityguiltHardships of LifeHardships of YouthHarrowing ExperiencesHarsh Lessonsharsh realityHaunting PastHidden PainhomelessnessHopeHuman EmotionsHuman SufferingIdentity and StruggleInnocence and SurvivalLife on the StreetsLoss and LongingLost ChildhoodMelancholic ReflectionMiddle Eastern FictionMisjudged Charactermoral dilemmaMoving NarrativeOrphanPainful RealityPalestinian LiteratureParental InfluencePoignant FictionPoignant StoryPolitical UndertonesPovertyPoverty and DignityPower of TruthPowerful FictionPsychological DepthPsychological ExplorationRaw EmotionsRealistic PortrayalregretShocking TruthsShort Storysocial injusticeSocial RealismSocietal PressuresStreet LifeStreet VendorStruggleStruggling YouthsurvivalThe Cost of DeceptionThe Meaning of TrustThe Weight of Liesthought-provokingThoughtful FictionTouching StoryTragic HeroTragic PastTruth and LiesTruth Versus SurvivalUnderprivileged LivesUnderstanding PovertyUnexpected CompassionUnexpected EncounterUnexpected TwistUnfolding SecretsUnheard VoicesUnseen SufferingUnspoken PainWar-torn Lives
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Boredom-can-also-have-benefits
Previous

بوریت کے بھی فائدے ہو سکتے ہیں؟

The-hijacker-who-jumped-from-a-plane-from-a-height-of-thousands-of-feet-whose-story-is-still-a-mystery
Next

ہزاروں فٹ بلندی سے جہاز سے چھلانگ لگانے والا ہائی جیکر، جس کی کہانی آج بھی ایک معمہ ہے!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme