سمندر، ساحل کی سرحدوں کو ماننے سے انکار کر رہا ہے!
ہمارے شہروں کے نیچے ایک بے چین لہر سانس لے رہی ہے۔ روزمرہ کی بھاگ دوڑ میں ہم اسے سنتے نہیں، مگر وہ ہمیں مسلسل دیکھ رہی ہے۔ سمندر جو ہمیشہ چھٹیوں، شام کی ہوا اور نمکین لہروں کا استعارہ تھا، اب ایک سخت حقیقت بن چکا ہے۔ وہ آہستہ آہستہ اپنی حدود بڑھا رہا…
وہ نیلا آئینہ جو ٹوٹ گیا۔۔ دنیا کی بڑی جھیلوں میں سے ایک کیسے صحرا میں تبدیل ہوئی؟
کبھی یہ جھیل ایک نیلگوں خواب ہوا کرتی تھی، جس کے کناروں پر ماہی گیر صبح دم جال ڈالتے اور شام کو مچھلیوں سے بھری کشتیوں سمیت واپس آتے۔ آج وہاں صرف نمک اُڑتا ہے، ریت کے طوفان آنکھوں میں ریت بھر دیتے ہیں اور زمین ایک بےجان ویرانے میں بدل چکی ہے۔۔ یہ ہے…