Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

The-blue-mirror-that-broke-How-did-one-of-the-worlds-great-lakes-turn-into-a-desert
ماحولیاتاہم ترینتازہ ترینخبریں

وہ نیلا آئینہ جو ٹوٹ گیا۔۔ دنیا کی بڑی جھیلوں میں سے ایک کیسے صحرا میں تبدیل ہوئی؟

By Akhtar Rasool
مئی 2, 2025 4 Min Read
0

کبھی یہ جھیل ایک نیلگوں خواب ہوا کرتی تھی، جس کے کناروں پر ماہی گیر صبح دم جال ڈالتے اور شام کو مچھلیوں سے بھری کشتیوں سمیت واپس آتے۔ آج وہاں صرف نمک اُڑتا ہے، ریت کے طوفان آنکھوں میں ریت بھر دیتے ہیں اور زمین ایک بےجان ویرانے میں بدل چکی ہے۔۔ یہ ہے ارالکُم صحرا کی کہانی، جو کسی زمانے میں ارال سی کہلاتی تھی۔

المیہ یہ ہے کہ سمندر جس جھیل کے نام کا حصہ تھا، اب اس کی شکل اور نام صحرا نے اپنے نام کر لیا ہے۔۔ ارال سی اب صرف ایک سایہ ہے اس شاندار جھیل کا جو یہ کبھی ہوا کرتی تھی۔۔ اور اس تبدیلی نے پورے علاقے کے موسم کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

1960ء کی دہائی تک، ارال سی دنیا کے سب سے بڑے اندرونی آبی ذخائر میں سے ایک تھی۔ سات دہائیوں کے دوران، یہ جھیل چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم ہو گئی، یہاں تک کہ اس کا بیشتر رقبہ مکمل طور پر بخارات بن کر اڑ گیا اور پیچھے ایک ریگستان چھوڑ گیا۔

اگر یہ جھیل آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہوتی، تو بحیرہ کیسپیئن اور لیک سپیریئر کے بعد سطح کے لحاظ سے دنیا کی تیسری بڑی جھیل ہوتی۔ موجودہ تیسری بڑی جھیل، لیک وکٹوریا، نے بھی گزشتہ دہائیوں میں سائز میں کچھ تبدیلی دیکھی ہے، لیکن ارال سی جیسی شدید نہیں۔ اب تو باقی ماندہ جھیلیں اصل سطح کے صرف 10 فیصد سے بھی کم پر مشتمل ہیں۔

یہ جھیل اب قازقستان اور ازبکستان کی سرحد پر واقع ہے، لیکن یہ کیسے اپنی موجودہ حالت تک پہنچی، یہ سمجھنے کے لیے ہمیں سوویت دور میں واپس جانا ہوگا۔

ارال سی، جو 1960ء کی دہائی تک دنیا کی چوتھی بڑی جھیل تھی، 68,000 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی تھی۔ اگرچہ یہ نمکین پانی کی جھیل تھی، لیکن دو بڑے دریا، سیردریا اور آمو دریا اسے تازہ پانی فراہم کرتے تھے، یوں اسے ایک متوازن آبی نظام حاصل تھا۔ ان دو دریاؤں سے اس نمکین جھیل میں تازہ پانی کی آمد سے ایک خشک و نیم صحرائی علاقے میں یہ آبی ذخیرے زندہ تھا۔

سوویت دور میں زراعت، خاص طور پر کپاس کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے ان دریاؤں کے بہاؤ کو نہروں میں موڑا گیا۔ یہ منصوبے اگرچہ زرعی لحاظ سے کامیاب سمجھے گئے، لیکن اس کے نتائج ارال سی اور یہاں کی ماحولیات کے لیے تباہ کن ثابت ہوئے۔ جھیل میں پانی کی آمد کم ہوتی گئی اور اس کا حجم تیزی سے سکڑنے لگا۔

سوویت حکومت نے ”Virgin Lands“ اسکیم (غیر آباد زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے کے منصوبے) کے تحت وسطی ایشیا کے بنجر علاقوں کو زرعی زمینوں میں بدلنے کا فیصلہ کیا اور دریاؤں سے پانی کا بڑے پیمانے پر رخ موڑ دیا گیا۔ نتیجتاً ارال سی میں پانی کی آمد 90 فیصد تک کم ہو گئی۔ 1980ء کی دہائی تک جھیل دو حصوں میں بٹ چکی تھی: بڑی ارال اور چھوٹی ارال۔

جنوبی حصہ "بڑی ارال” اب بھی سرحد پر موجود تھا، جبکہ "چھوٹی ارال” مکمل طور پر قازقستان میں واقع ہو چکی تھی۔

صورتحال مزید بگڑتی گئی۔ دو دہائیاں اور گزریں اور بڑی ارال بھی دوبارہ دو حصوں میں تقسیم ہو گئی: ایک مشرقی شاخ اور ایک مغربی شاخ۔ آج مشرقی شاخ مکمل طور پر غائب ہو چکی ہے اور اس کی جگہ ایک نمکین و خشک میدان نے لے لی ہے، جسے اب ارالکُم صحرا کہا جاتا ہے، زمین کا سب سے نیا صحرا۔

جھیل کی اصل وسعت اب بھی دیکھی جا سکتی ہے، کیونکہ خشک ہو چکی جھیل کی تہہ سفید نمک اور تلچھٹ سے ڈھکی ہوئی ہے۔ اب صرف ایک معمولی سا حصہ باقی رہ گیا ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر میں یہ تبدیلی نہایت خوفناک نظر آتی ہے۔ خشک جھیل کی تہہ سفید نمک، تلچھٹ اور صنعتی کیمیکلز سے ڈھکی ہوئی۔۔۔ آج ارال سی کے صرف 10 فیصد حصے باقی بچے ہیں، جن میں بھی آئندہ سالوں میں مزید کمی کا اندیشہ ہے۔

ارالکُم سے اٹھنے والے نمکین ذرات فضا میں شامل ہو کر ہزاروں کلومیٹر دور تک پھیلتے ہیں، جن کے نتیجے میں سانس کی بیماریاں، کینسر، جلدی امراض اور بچوں کی پیدائش میں پیچیدگیاں سامنے آئی ہیں۔

یہ صرف پانی کی کمی کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے خطے کا مائیکروکلیمٹ تبدیل ہو چکا ہے۔ اب وہاں کی سردیاں پہلے سے زیادہ سخت اور گرمیاں مزید جھلسا دینے والی ہو گئی ہیں۔ بارش کا پیٹرن بدل چکا ہے، اور زراعت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ہزاروں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

اگرچہ زیادہ تر ارال ناقابلِ واپسی طور پر تباہ ہو چکی ہے، لیکن بین الاقوامی امداد سے قازقستان نے ”کوک-ارال بند“ تعمیر کیا، جس سے سیردریا کا پانی چھوٹی ارال میں دوبارہ بحال ہونا شروع ہوا۔ گزشتہ بیس برسوں میں اس کا پانی 4 میٹر (13 فٹ) تک بڑھا ہے، اور چند مقامی مچھلیوں کی اقسام واپس آ چکی ہیں۔

ارال سی کی یہ المناک کہانی ہمیں یہ باور کراتی ہے کہ قدرتی وسائل کے ساتھ غیر دانشمندانہ چھیڑچھاڑ کس طرح صدیوں پر محیط ماحولیاتی نظام کو تباہ کر سکتی ہے۔ یہ صرف ایک جھیل کا قصہ نہیں، یہ ایک تہذیب، ایک معیشت، اور ہزاروں زندگیاں کھا جانے والی خاموش تباہی ہے۔

اور سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ سب انسان نے خود اپنے ہاتھوں سے کیا۔

Tags:

Agricultural declineair quality deteriorationAmu DaryaAral SeaAralkum DesertBiodiversity LossBirth defectscancer riskCaspian SeaCentral AsiaCentral Asian environmentClimate changeclimate refugeescotton farmingdesert formationdesert winddesertificationdisappearing lakesdry lakebeddrying lakedust pollutionecological awarenessecological balanceecological collapseecological recoveryecological restorationecosystem lossecosystem restorationenvironment and healthenvironmental awarenessenvironmental degradationenvironmental disasterenvironmental negligenceenvironmental policy failureextreme wintersfailed developmentfish extinctionfish returnfishing industry collapsefragile ecosystemfreshwater crisisfreshwater sourcesGlobal warminghealth crisishotter summershuman displacementhuman errorhuman impact on naturehuman-made disasterindustrial chemicalsinternal water bodiesinternational aidirreversible damageirrigation canalsKazakhstanKok-Aral damlake evaporationlake historyLake SuperiorLake VictoriaLand degradationloss of livelihoodsman-made desertmass migrationmicroclimate changenatural resource exploitationpast glorypollution effectsrainfall pattern shiftregional climateregional transformationrespiratory diseasesriver diversionsaline lakesalt depositssalt plainssalt pollutionsalt stormssatellite evidencesatellite imageryshrinking lakesshrinking water bodiesskin diseasessoil salinizationSoviet agricultureSoviet legacySoviet planning failureSoviet Unionsustainable water useSyr Daryatoxic chemicalsUzbekistanVirgin Lands programwater conservationWater diversionwater engineering failurewater level risewater mismanagementwater policywater scarcity
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Caste-system-in-Pakistan
Previous

پاکستان میں ذات پات کا نظام

How-to-communicate-history-to-the-general-public
Next

تاریخ کو عام لوگوں تک کیسے پہنچایا جائے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme