جنگل کا قانون (بلوچی ادب سے منتخب افسانہ)
دفتر میں داخل ہوتے ہی وہ حیران رہ گیا، کیونکہ دفتر کے تمام ملازمین کے چہرے اسے بہت عجیب دکھائی دے رہے تھے۔ کچھ کی آنکھیں باہر نکلی ہوئی تھیں، کچھ کے کان کھڑے ہو گئے تھے، کچھ کی زبانیں نیچے لٹکی ہوئی تھیں اور کچھ کے ہونٹ پھولے ہوئے تھے۔۔ وہ حیرانی سے کھڑا…
رضو باجی (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
سیتاپور میں تحصیل سدھولی اپنی جھیلوں اور شکاریوں کے لیے مشہور تھی۔ اب جھیلوں میں دھان بویا جاتا ہے۔ بندوقیں بیچ کر چکیّاں لگائی گئی ہیں، اور لائسنس پر ملے ہوئے کارتوس ’بلیک‘ کر کے شیروانیاں بنائی جاتی ہیں۔ یہاں چھوٹے چھوٹے قصبوں کا زنجیرا پھیلا ہوا تھا،…
چغد (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
لڑکوں اور لڑکیوں کے معاشقوں کا ذکر ہو رہا تھا۔ پرکاش جو بہت دیر سے خاموش بیٹھا اندر ہی اندر بہت شدت سے سوچ رہا تھا، ایک دم پھٹ پڑا، ’’سب بکواس ہے، سو میں سے ننانوے معاشقے نہایت ہی بھونڈے اور لچر اور بے ہودہ طریقوں سے عمل میں آتے ہیں۔ ایک باقی رہ…
الیوشا گورشک (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
الیوشا اپنے خاندان کا سب سے چھوٹا لڑکا تھا۔ لوگوں نے اسے گورشک بلانا شروع کر دیا تھا۔ کیونکہ ایک دن اس کی ماں نے اسے ڈیکن (کلیسا کا مہتمم) کی بیوی کے لئے پانی لانے کے لئے بھیجا تو وہ پھسل کر گر گیا اور گھڑا / گورشک ٹوٹ گیا ۔ اس کی ماں…
میوزیم (کیوبن ادب سے منتخب افسانہ)
چھٹی کی گھنٹی بجی تو بچے شور مچاتے باہر نکلے۔ اس کا بیٹا اس کے پاس آیا۔ ’’شکر ہے آج آپ مجھے جلدی لینے آ گئے، مما تو بہت دیر کر دیتی ہیں۔‘‘ ’’تمہاری مما دیر تک کام کرتی ہیں۔‘‘ ’’آپ ہی مجھے ہر روز لینے کیوں نہیں آتے؟‘‘ ’’آج میری چھٹی ہے۔۔ مگر میں…
سیاہ کمرے کے مکین (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
نیم تاریک کمرے کے ایک اداس کونے میں پڑی میز پر بیٹھے ہوئے میں نے مایوسی سے کاغذ پر لکھے بے جان لفظوں کو گُھورا۔ اشتعال کی ایک لہر اٹھی اور میں نے کاغذ کو مروڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا، جو کاغذی گولوں کو اپنے بازوؤں میں سمیٹنے کی ناکام کوشش کر…
اگست کے بھوت (کولمبین ادب سے منتخب افسانہ)
ہم دوپہر سے کچھ دیر پہلے اریزو پہنچے اور وہاں پر قلعہ رینائزئنس کو دیکھتے ہوئے دو گھنٹے گزار دیے۔ وینزویلا کے ادیب میگوئیل اوٹیرو سیلوا ہمیں جوسسین کے گردونواح کے اس سادہ و دلکش کونے میں لائے تھے۔ یہ اگست کے ابتدائی دنوں کی ایک جلتی اور سُلگتی اتوار تھی…
مسخرہ (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
(1) پیڈرو لوکس زندگی کی بتیس بہاریں دیکھنے کے بعد سنجیدگی سے کچھ کرنے کی سوچ رہا تھا۔ وہ فطرتاً ایک مسخرہ تھا۔ اب تک وہ اسی خداداد صلاحیت کی بدولت اپنا گزارا کر رہا تھا۔ اس کے پاس رہنے کو ایک آرام دہ گھر، عمدہ لباس غرض ہر سہولت موجود تھی۔ ان سب کی…