کل اور آج (اطالوی ادب سے منتخب افسانہ)
جنگ کا آغاز حال ہی میں ہوا تھا۔ مارینو لرنا نے رضاکارانہ طور پر افسران کے اسکول میں داخلہ لیا اور تیزی سے نصاب مکمل کر کے انفنٹری لیفٹیننٹ کے درجے پر فائز ہوا۔ اپنے کنبے کے ہمراہ آٹھ دن کی تعطیلات گزارنے کے بعد وہ اپنے یونٹ کیسیل بریگیڈ کی بارہویں رجمنٹ…
چَھڑی (جاپانی ادب سے منتخب افسانہ)
یہ جون کی ایک مرطوب اتوار تھی۔ اسٹیشن سے پار ڈپارٹمنٹل اسٹور کی پر ہجوم چھت پر سے، جو بارش کے بعد سے کاروں اور لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، میں نے اپنے دونوں بچوں کو قریب کرتے ہوئے اردگرد دیکھا۔ سیڑھیوں اور روشن دان کے درمیان خالی جگہ کو دیکھ کر میں…
میوزیم (کیوبن ادب سے منتخب افسانہ)
چھٹی کی گھنٹی بجی تو بچے شور مچاتے باہر نکلے۔ اس کا بیٹا اس کے پاس آیا۔ ’’شکر ہے آج آپ مجھے جلدی لینے آ گئے، مما تو بہت دیر کر دیتی ہیں۔‘‘ ’’تمہاری مما دیر تک کام کرتی ہیں۔‘‘ ’’آپ ہی مجھے ہر روز لینے کیوں نہیں آتے؟‘‘ ’’آج میری چھٹی ہے۔۔ مگر میں…
آشنائے مرگ (فلپینی ادب سے منتخب افسانہ)
لڑکا جن کھنڈروں کے پاس کھڑا تھا، وہ کبھی مرکزی بازار تھا۔ کچھ افراد انہی تباہ حال دکانوں کے ملبے پر عارضی دکانیں بنانے میں مصروف تھےاور وہ ان کو محویت سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے والد نے اسے کہا تھا کہ ’’جاؤ اسے مرکزی بازار میں تلاش کرو۔ ہمیں کل لازماً انہیں…
ایک ہی کوکھ (موزمبیقی ادب سے منتخب افسانہ)
ان دنوں میرے دادا مجھے ساتھ لیے دریا کی جانب چل پڑتے اور اپنی چھوٹی سی کشتی، جسے وہ کونچو کہتے تھے، میں مجھے بھی بٹھا لیتے۔ وہ بہت آہستگی سے چپو چلاتے، چپو شاید ہی لہروں سے ٹکراتے، مجھے تو یوں محسوس ہوتا جیسے وہ پانی کے اوپر ہی انہیں حرکت دے رہے ہیں۔…
سیاہ کمرے کے مکین (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
نیم تاریک کمرے کے ایک اداس کونے میں پڑی میز پر بیٹھے ہوئے میں نے مایوسی سے کاغذ پر لکھے بے جان لفظوں کو گُھورا۔ اشتعال کی ایک لہر اٹھی اور میں نے کاغذ کو مروڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا، جو کاغذی گولوں کو اپنے بازوؤں میں سمیٹنے کی ناکام کوشش کر…
اگست کے بھوت (کولمبین ادب سے منتخب افسانہ)
ہم دوپہر سے کچھ دیر پہلے اریزو پہنچے اور وہاں پر قلعہ رینائزئنس کو دیکھتے ہوئے دو گھنٹے گزار دیے۔ وینزویلا کے ادیب میگوئیل اوٹیرو سیلوا ہمیں جوسسین کے گردونواح کے اس سادہ و دلکش کونے میں لائے تھے۔ یہ اگست کے ابتدائی دنوں کی ایک جلتی اور سُلگتی اتوار تھی…
ڈائری میں چُھپا خواب (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
وہ گھڑی پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔ وقت صفر سے شروع ہوتا اور ہندسوں سے اٹھکیلیاں کرتا دوبارہ صفر پر آ کھڑا ہوتا۔ اس کی بے تاثر نظریں وقت کا تعاقب کرتے کرتے تھک گئیں تو اس نے گھڑی سے نظر ہٹا کر الماری کا ایک خانہ کھولا اور گزرے وقت کی ردی چھانٹنے لگا۔…